• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

کمپنی کی اشیاء بغیر اجازت کھانے کا شرعی حکم

استفتاء

میں ایک کمپنی میں ملازمت کرتا ہوں ،وہ کمپنی فوڈز کی ہے ، ( آچار ، جوس ،کیچپ،وغیرہ) تو میرے لیے وہ کھانا جائز ہے یا حرام ، کیونکہ صرف لیبر کے علاوہ انچارج وغیرہ سب کھاتے ہیں اور اگر ورکرز کو کھاتے ہوئے دیکھے تو اسے کمپنی سے نکال دیتے ہیں ۔لیکن ورکرز پھر بھی چھپ کر کھاتے ہیں ۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

کسی بھی شخص یا ادارے کی ملکیت میں اس کے مالک کی صریح (واضح) یا دلالتہً (اشارۃً) اجازت کے بغیر تصرف کرنا شرعاً جائز نہیں ہے۔ آپ کی ذکر کردہ صورت میں کمپنی نے ورکرز پر اشیاء کھانے کی واضح پابندی لگا رکھی ہے اور اسے جرم قرار دیتے ہوئے ملازمت سے برطرف کرنے کا قانون بنایا ہے، جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مالک اس عمل پر دلی طور پر راضی نہیں ہے۔ ایسی صورت میں ملازمین کا کمپنی کی مصنوعات (آچار، جوس اور کیچپ وغیرہ) کھانا شرعاً ناجائز اور حرام ہے۔اگرچہ انچارج حضرات یہ اشیاء کھاتے ہوں یا دیگر ورکرز چھپ کر کھا رہے ہوں، دوسروں کا یہ غلط طرز عمل آپ کے لیے اسے حلال نہیں بنا سکتا۔ بھوک کی صورت میں ملازم کو چاہیے کہ وہ اپنی حلال کمائی سے اپنے کھانے پینے کا خود انتظام کرے اور کسی کے مال کو اس کی ناگواری کے باوجود کھانے سے مکمل پرہیز کرے۔

© Copyright 2025, All Rights Reserved