• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

بزرگوں کی دست بوسی اور حدِ رکوع تک جھکنے کا شرعی حکم

استفتاء

اس کو پڑھ کر اک سوال ذہن میں آیا۔ سوال یہ ہے کہ ہم کسی ولی اللہ یا عالم دین کی تعظیم کی غرض سے ان کی دست بوسی کرتے ہیں ان کا ہاتھ چومتے ہیں. ہاتھ چومتے ہوئے بھی آدمی اتنا جھک جاتا ہے کہ رکوع سے مشابہ ہو جاتا ہے کیا یہ بھی ناجائز ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

کسی عالمِ دین، ولی اللہ یا بزرگ کی علمی و دینی عظمت کی وجہ سے ان کے ہاتھوں کا بوسہ لینا (دست بوسی) شرعاً جائز اور مستحب عمل ہے۔ البتہ، اس بات کا خاص خیال رکھنا ضروری ہے کہ ہاتھ چومتے وقت انسان اس حد تک نہ جھکے کہ وہ رکوع کی ہیئت اور مشابہت اختیار کر لے۔ شرعی طور پر رکوع کی حد یہ ہے کہ انسان اتنا جھک جائے کہ اگر وہ اپنے ہاتھ گھٹنوں پر رکھنا چاہے تو آسانی سے رکھ سکے، اور کسی انسان کے سامنے تعظیمی طور پر اس حد تک جھکنا مکروہِ تحریمی اور ناجائز ہے ۔اگر بزرگ کے ہاتھ چومنے کے لیے پیٹھ کو رکوع کی طرح جھکانا پڑے، تو اس سے احتراز کرنا چاہیے کیونکہ احادیث میں اس کی ممانعت آئی ہے۔ اس کا درست طریقہ یہ ہے کہ بزرگ کا ہاتھ اپنے منہ کے قریب کر کے چوما جائے، یا ایسی صورت اختیار کی جائے جس میں رکوع جیسی ہیئت نہ بنے۔ بعض فقہاء کے مطابق اگر جھکنا محض ہاتھ تک پہنچنے کی مجبوری ہو اور اس سے تعظیم کا اظہار مقصود نہ ہو تو گنجائش ہے، لیکن احتیاط اسی میں ہے کہ رکوع کی حد تک جھکنے سے مکمل بچا جائے کیونکہ یہ اللہ کی عبادت کے مخصوص طریقے سے مشابہت رکھتا ہے۔مزید یہ کہ اگر دست بوسی کسی کے دنیوی جاہ و منصب یا مالداری کی وجہ سے ہو تو یہ عمل مکروہ اور ناپسندیدہ ہے۔

© Copyright 2025, All Rights Reserved