- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
میرا سوال ہے کہ ہم محلے کے 25 یا 30 بندے اکثر کھانے پینے کے پروگرام کرتے رہتے ہیں ۔ طریقہ یہ ہوتا ہے کہ سب برابر پیسے جمع کر تے اب مسئلہ یہ ہے کہ ان میں ایک بندہ سود کا کام کرتا ہے تو ایسے پروگرام میں شرکت جائز ہے یا نہیں ؟میں تو اکثر منع کرتا ہوں لیکن کبھی کبھی باقی دوست مجبور کرتے ہیں کہ میں لازمی شرکت کروں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
ایسی مشترکہ دعوت جس میں کثیر تعداد میں لوگ شامل ہوں اور سب مل کر برابر رقم جمع کریں، اس میں شرکت کرنا اور کھانا کھانا شرعاً جائز ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جب 25 یا 30 افراد رقم جمع کرتے ہیں تو اس مجموعی رقم میں حلال آمدنی کا حصہ بہت زیادہ اور غالب ہوتا ہے۔ شرعی اصول کے مطابق جس مال یا آمدنی میں حلال کا پہلو غالب ہو، اس سے فائدہ اٹھانے اور کھانا کھانے کی گنجائش موجود ہوتی ہے۔جہاں تک اس ایک شخص کا تعلق ہے جو سودی کام کرتا ہے، تو اس کے فعل کا گناہ اور وبال اسی کی ذات تک محدود رہے گا اور اس کی وجہ سے پوری دعوت یا دیگر شرکاء کا کھانا حرام نہیں قرار پائے گا۔ اگر وہ شخص اپنی کسی حلال رقم یا قرض لے کر اس پروگرام میں حصہ ڈالتا ہے تو وہ کھانا بالاولیٰ حلال ہوگا، لیکن اگر وہ اپنی سودی آمدنی سے بھی حصہ ڈالے تب بھی چونکہ مجموعی فنڈ میں حلال مال کی مقدار زیادہ ہے، اس لیے آپ کے لیے اس میں شرکت کرنا ممنوع نہیں ہے۔ لہذا آپ اپنے دوستوں کے اصرار پر اس میں شریک ہو سکتے ہیں، البتہ اگر آپ محض احتیاط اور تقویٰ کی بنا پر بچنا چاہیں تو یہ آپ کی مرضی ہے، مگر اسے دوسروں کے لیے ناجائز نہیں کہا جائے گا۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved