• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

الماری میں موجود قرآنِ کریم کی طرف پاؤں پھیلانے کا حکم

استفتاء

ہمارے گھر میں صرف ایک ہی کمرہ ہے ، ہم اسی میں کھاتے ہیں اسی میں سوتے ہیں اور کپڑے وغیرہ الماری میں رکھتے ہیں، لیکن ہمارے یہاں روزانہ قرآنِ کریم کی تلاوت ہوتی ہے، قرآن مجید کھلے تابدان میں رکھا ہوا ہوتا ہے اور کبھی کبھار تو پیر بھی اس کی طرف ہوتے ہیں تو مسئلہ یہ ہے کہ کیا قرآن مجید کو الماری میں رکھ کر مجبوری میں اس کی طرف پیر کیے جاسکتے ہیں؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

الماری میں قرآنِ کریم اوپر والے خانے میں رکھا ہوا ہو یااوپر ویسے ہی کسی تختے پہ رکھا ہو تو ضرورت پڑنے پر اس کی طرف پاؤں کیے جا سکتے ہیں۔“مَدُّ الرِّجْلَيْنِ إلَى جَانِبِ الْمُصْحَفَ إنْ لم يَكُنْ بِحِذَائِهِ لَا يُكْرَهُ وَكَذَا لو كان الْمُصْحَفُ مُعَلَّقًا في الْوَتَدِ وهو قد مَدَّ الرِّجْلَ إلَى ذلك الْجَانِبِ لَا يُكْرَهُ”(فتاویٰ الھندیہ : الباب الخامس فی آداب المسجد والقبلۃ جز5 ص 322 )

ترجمہ:دونوں پاؤں اگر قرآنِ کریم کے برابر نہ ہوں(قرآنِ کریم اوپر ہو پاؤں نیچے ہوں) تو ان کو قرآنِ کریم کی طرف پھیلانا مکروہ نہیں ہے، اسی طرح اگر قرآنِ کریم (کسی کپڑے میں ہو اور وہ) کھونٹی کے ساتھ لٹکا ہوا ہو اور کسی نے اس کی طرف پاؤں پھیلا لیے تو بھی یہ مکروہ نہیں ہے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved