استفتاء
عرض یہ ہے کہ حدیث شریف ہے :مَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةً فَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ لَهُ عَشْرَ حَسَنَاتٍ وَمَنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا لَمْ تُكْتَبْ عَلَيْهِ فَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ عَلَيْهِ سَيِّئَةً وَاحِدَةً. (مسند احمد: رقم الحدیث 10466)ترجمہ: جو شخص نیکی کا ارادہ کرے لیکن ابھی عملی طور پر اسے سر انجام نہ دیا ہو تو اس کے حق میں ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے اور اگر اسے عملی طور پر سرانجام دیا ہو تو دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔ اسی طرح اگر کسی نے گناہ کا ارادہ کیا ہو لیکن ابھی عملاً نہ کیا ہو تو اس کے حق میں کوئی گناہ نہیں لکھا جاتا لیکن اگر گناہ کا ارتکاب عملاً کر لے تو اس کے حق میں ایک گناہ لکھا جاتا ہے۔اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ گناہ کے ارادے سے گناہ نہیں لکھا جاتا جبکہ ”خطبات حکیم الاسلام“ (ج 1) میں ہے کہ فقہاء نے لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص پانی پی رہا ہو اور اس پانی پر شراب کی نیت کی ہو تو یہ شخص گناہ گار ہو گا۔اسی طرح مشکوٰۃ شریف کی شرح ”مظاہر حق“ میں لکھا ہے کہ خیالات کی پانچ قسمیں ہیں۔ اس میں سے ہاجس، خاطر اور حدیث النفس پر مؤاخذہ نہیں البتہ ہَم اور عزم پر مؤاخذہ ہے۔تو بظاہر ہمارے فقہاء اور علماء کے یہ اقوال اس حدیث کے متعارض ہیں کیونکہ مذکورہ صورتوں میں جس ارادہ پر انہوں نے گناہ اور مؤاخذہ لکھا ہے وہ تو نیتیں ہی ہیں اور حدیث میں ہے کہ صرف ارادے سے گناہ نہیں لکھا جاتا !حضرت ! اشکال دور فرما کر ممنون ومشکور فرمائیں ۔ جزاکم اللہ
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
اس حدیثِ مبارک اور اقوالِ فقہاء وعلماء میں کوئی تعارض نہیں ہے۔ اس لئے کہ حدیثِ مذکور میں جس ارادہ پر مؤاخذہ کا ذکر ہے اس سے مراد ؛ ہاجس ( )، خاطر، حدیث النفس اور ہَم ہیں۔ (آپ نے مظاہر حق کے حوالے سے درجہ ”ہم“ پر بھی مؤاخذہ تحریر کیا ہے جبکہ مظاہرِ حق کی طرف مراجعت کریں تو ”ہَم“ پر عدمِ مؤاخذہ لکھا ہے۔) اور فقہاء وعلمائے کرام بھی ان چار درجات پر عدمِ مؤاخذہ کے قائل ہیں۔ رہا درجہ ”عزم“ پر مؤاخذہ تو وہ درج ذیل حدیث سے ثابت ہے۔
حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“إِذَا الْتَقَى الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ.” فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّهِ ! هٰذَا الْقَاتِلُ ، فَمَا بَالُ الْمَقْتُولِ ؟ قَالَ: “إِنَّهُ كَانَ حَرِيصًا عَلٰى قَتْلِ صَاحِبِهِ.”
صحیح البخاری: رقم الحدیث 31
ترجمہ: جب دو مسلمان اپنی تلواریں لے کر ایک دوسرے کے سامنے آتے ہیں (یعنی لڑتے ہیں) تو قاتل اور مقتول دونوں کا ٹھکانہ جہنم ہوتا ہے۔ میں (یعنی حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ) نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! قاتل تو جہنم میں جائے گا (کیونکہ اس نے قتل کیا ہے) لیکن مقتول کیوں جہنم جائے گا؟ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مقتول کے جہنم میں جانے کی وجہ یہ ہے کہ اس کا بھی اپنے مقابل کو قتل کرنے کا پختہ ارادہ تھا۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا قتل کے پختہ ارادہ کرنے والے شخص کے بارے میں جہنم کی وعید سنانا اس بات کی دلیل ہے کہ درجہ ”عزم“ پر مؤاخذہ ہے۔ فلا اشکال
فائدہ : اوپر جو تعریفات ذکر ہوئی ہیں انکی تعریفات درج ذیل ہیں ۔
ان اصطلاحات کی مختصر تعریف یہ ہے:
ہا جس: کسی بات کا خیال دل میں اضطراراً (بے اختیار)آجانا۔
خاطر: کسی بات کا خیال دل میں قصداًلانا۔
حدیث النفس: تردد کی کیفیت ہونا کہ یہ کام کرو ں کہ نہ کروں!
ہمّ: اس تردد میں کسی ایک جانب کو ترجیح دینا۔
عزم: ایک جانب ترجیح دے کر اسے اتنی تقویت دینا کہ اگر رکاوٹ نہ ہو تو کر گزرے۔ (صراطِ مستقیم کورس: ص56)
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا