- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
عرض یہ ہے کہ فوت شدہ عزیز رشتہ داروں کو ایصال ثواب کرنے کا طریقہ کیا ہوگا؟کیا خاص ایک کا نام لیں یا انبیاء کرام علیہم السلام ،صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تابعین کرام رحمہم اللہ اور آخر میں جس کو ثواب پہنچانا ہے اس کا نام لیں اور ایک عمل کا ثواب ایک ہی کو کیا جاسکتا ہے یا سب کو بھی کرسکتے ہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
ایصالِ ثواب کا کوئی خاص طریقہ شرعاً متعین نہیں بلکہ جو نفلی عبادت بدنی ہو یا مالی آسانی سے ہوسکے اس کا ثواب میت کو پہنچایا جاسکتا ہے ۔اہل السنۃ والجماعۃ کے ہاں نفلی اعمال کا ثواب بلاشبہ مُردہ اور زندہ دونوں کو بخشا جاسکتا ہے۔ایصالِ ثواب کا طریقہ یہ ہے کہ کوئی نفلی عمل کرنے کے بعد یہ نیت کرلی جائے کہ“یااللہ اس عمل کا ثواب فلاں فلاں شخص تک پہنچا دیں”۔انبیاء علیہم السلام ،صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ،تابعین عظام رحمہم اللہ اور آخر میں قیامت تک آنے والے مسلمانوں کے لیے ایصال ثواب کی دعا کرنابھی درست ہے، بلکہ ایصالِ ثواب میں تمام مؤمنین اور مؤمنات کی نیت کرنا پسندیدہ و بہترہے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved