- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
عرض یہ ہے کہ اہل بدعت کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے ہمارے علاقہ میں ایک مسجد ہے اور وہ انہی کی ہے اور ساری بستی اہل بدعت کی ہے اور ان کو چندہ دینا کیسا ہے ؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
(1) اگر امام ایسا مبتدع ہے کہ اس کے عقائد کفریہ ہوں تو اس کی اقتداء میں نماز نہیں ہو گی اور اگر وہ بدعات کا مرتکب ہے جن کا شرع میں کوئی ثبوت نہیں تو ایسی صورت میں اس کی اقتداء میں نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہےو یکرہ تقدیم المبتدع۔۔۔۔۔۔و انما یجوز الاقتداء بہ مع الکراھہ اذالم یکن ما یعتقدہ یودی الی الکفر عند اھل السنہ،اما لو کان مودیا الی الکفر فلا یجوز اصلا(حلبی کبیر ص514 )
ترجمہ:اہل بدعت کو امام بنانا مکروہ ہے۔اگر وہ امام بدعات کا مرتکب ہے تو اس کو امام بنانا مکروہ تحریمی ہے اور اگر وہ کفریہ عقائد رکھنے والا ہے تو اس کو امام بنانا جائز نہیں ہےان کان ھوی لا یکفرہ بہ صاحبہ تجوز الصلاۃ خلفہ مع الکراھۃوالا فلا(فتاوی عالمگیری ج 1ص 84کتا ب الصلاۃ باب الامامۃ)
ترجمہ:اگر امام کفریہ عقائد نہیں رکھتا بدعات کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کی اقتداء میں نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے اور اگر کفریہ عقائد رکھتا ہے تو اس کی اقتداء میں نماز جائز نہیں ۔(2) اہل بدعت کو چندہ دینا درست نہیں کیونکہ وہ اس کو بدعات کی اشاعت و ترویج میں استعمال کریں گےواللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved