- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
اللہ ربّ العزت عالم الغیب ہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں کوئی چیز غائب نہیں، تو پھر اللہ تعالیٰ عالم الغیب کیسے ہوئے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
یہ اشکال دراصل لفظ ”غَیْب“ کا صحیح معنی اور درست مفہوم نہ سمجھنے سے پیدا ہوا ہے۔”غَیْب“ کا معنی:[1]: امام فخر الدین محمد بن حسین بن حسن بن علی الرازی رحمہ اللہ (ت 604 ھ) لکھتے ہیں:قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: يُرِيدُ عِلْمَ مَا غَابَ عَنْهُ خَلْقُهُ وَمَا شَهِدَوْہُ
(التفسیرالكبیر: ج 19، ص 14)
ترجمہ: حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : (غیب سے) ایسی چیزوں کا علم مراد ہے جو اللہ کی مخلوق سے اوجھل ہیں اور جن کا انہوں نے مشاہدہ نہیں کیا۔[2]: مفسر قرآن امام اسماعیل حقی رحمہ اللہ (ت1137 ھ) لکھتے ہیں:مَا وَرَدَ فِی الْقُرْآنِ مِنْ إِسْنَادِ عِلْمِ الغَيْبِ إِلَى اللهِ تَعَالٰى إِنَّمَا هُوَ بِالنِّسْبَةِ إِلَيْنَا، إِذْ لَا غَيْبَ بِالنِّسْبَةِ إِلَى اللهِ تَعَالٰى.
روح البیان: ج 4 ص 446
ترجمہ: علمِ غیب کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنا دراصل ہماری نسبت سے ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے اعتبار سے تو کوئی چیز غیب نہیں۔اللہ تعالیٰ کے حق میں کوئی چیز مخفی نہیں، ہر ظاہر و پوشیدہ شے اس کے علم میں حاضر ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ کو ”عٰلِمُ الغَیْب“ کہتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اُن تمام امور کا علم رکھتے ہیں جو مخلوق کی نگاہ، عقل اور ادراک سے پوشیدہ ہیں۔ یعنی ”غَیْب“ کی نسبت مخلوق کی طرف سے ہے، خالق کی طرف نہیں۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved