• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

انسان کی کمائی میں بہن بھائیوں کا حق کس حد تک ہے؟

استفتاء

2004ء میں ابا جی نے 1 لاکھ 20 ہزار میں ویزہ خرید کر دیا ، پھر کسی نے کے کہنے پہ بولے کہ اگر اس نے یہ پیسے ضائع کر دیے تو ہم سے فارغ ہے۔عمان آ کر میں نے بہت محنت مزدوری کی بہت زیادہ مشقت کے کام کیے، ہر مہینے بھائی کو پاکستان میں پیسے واپس بھیج دیتا۔ تین مہینے کی سرتوڑ محنت مشقت کے بعد میں نے1 لاکھ 20 ہزار روپے ویزے کی رقم پوری کر کے بھیج دی۔اس کے بعد جتنے پیسے کماتا تقریباً سارے ہی بھیج دیتا۔ دو سال میں کم و بیش 15 سے 20 لاکھ روپے ابا جی کے پاس بھیج چکا تھا۔دو سال بعد کچھ دوستوں سے قرض لیا اور ایک چھوٹی سی دکان لے کر اپنا کام شروع کر دیا ، اللہ پاک نے بہت برکت دی ۔ ابا جی کو پاکستان پیسے بھیجتا رہا اور جب چار سال کے بعد پاکستان واپس آیا تو 38 لاکھ روپے میں پاکستان میں بھیج چکا تھا۔یہاں آ کر بات ہوئی، میں نے بتایا 38 لاکھ بھیج چکا ہوں۔ بھائی نے کہا نہیں 31 لاکھ بھیجے ہیں، اس پر تلخ کلامی ہوئی ، میں نے سامان پیک کر کے واپس جانے کا ارادہ کیا تو ابا جی نے کہا کہ اب الگ ہونا مناسب نہیں ہے، شادی ہو جائے گی تب الگ ہو جانا۔ اس طرح پھر میں دوبارہ واپس آیا اور پہلے جیسی محنت شروع کر دی۔2008ء میں بڑے بھائی امجد کو والد صاحب کے کہنے پر اپنے پاس بلوایا ، اس وقت میری تین دکانیں تھیں بھائی کو کام سکھایا کام شروع کر دیا۔ دو سال بعد 2010ء والدین کے کہنے پہ ان کی شادی ہوئی سارے اخراجات میں نے برداشت کیے، 12 تولہ سونا دیا۔پاکستان میں دکان خریدنے لگا تو ابا جی بولے یہ دکان امجد کے نام لگواؤ میں نے احتجاجاً کہا کمائی میری ہے، محنت میری ہے، ابھی میں نے اس کی شادی پہ اتنا خرچ کیا ہے ، لیکن وہ نہ مانے بہرحال میں نے وہ دکان ان کے نام کر دی۔پھر ابا جی بولے تم شوروم میں سے حصہ داری دو، نہیں تو ہم ناراض ہو کر عمان سے واپس جا رہے ہیں۔ میں نے کہا چھوٹے شوروم میں لے لیں وہ نہیں مانے اور بالآخر بڑے شوروم میں 50 فیصد پر امجد نے حصہ لے لیا۔ کچھ عرصے بعد رقم جوڑ کے اس نے اپنا سیٹ اپ بنا لیا ۔ گاڑی، دکان شو روم وغیرہ سب اپنا الگ بنا لیا۔یہ حصہ لینے کے ڈیڑھ دو سال بعد پھر اس نے شور کرنا شروع کر دیا اور اس موقع پر دیگر بہن بھائیوں کو بھی ساتھ ملا دیا کہ ہمارا اور زیادہ حصہ بنتا ہے اور بہن بھائیوں کا حصہ بھی بنتا ہے ،اور اس چیز میں والد صاحب کو بھی شریک کر لیا اور انہوں نے بھی مجھ پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیا کہ دیگر بہن بھائیوں کا حصہ دو تو راضی ہو جاؤں گا ورنہ میں ناراض رہوں گا۔تو اس طرح مجبوراً بڑے بھائی امجد کی موجودگی میں دوبارہ حساب ہوا اور دکان کے بل اور باقی حساب کتاب نصف نصف تقسیم کیا۔ ابا جی کے بقول اب تم الگ ہو رہے ہو اس لیے سب بہن بھائیوں کا حصہ نکالنا ضروری ہے۔ چنانچہ اس موقع پر 21 ہزار عمانی ریال جو آج کے دور میں ڈیڑھ کروڑ روپے پاکستانی بنتے ہیں ، ابو اور بہن بھائیوں کا حصہ ان کے کہنے پر میں نے امجد کے حوالے کیا۔ اس کی تحریری دستاویز بھی تیار کی گئی تھی۔چھوٹے بھائی کو لاہور میں اے سی سی اے(ACCA) کروایا سات سال تک ہاسٹل اور سٹڈی کا مکمل خرچ میں نے برداشت کیا۔ لیکن والدین نے اس کو مجھ سے بدظن کیا اور ابا جی نے اپنی وراثت باقی بھائیوں میں تقسیم کر دی اور جو پلاٹ میں نے ابو جی کے نام کروایا تھا وہ بھی ایک چھوٹے بھائی کو دے دیا۔ وراثت میں سے مجھے کچھ بھی حصہ نہیں دیا میں نے پھر بھی بحث نہیں کی، صبر کر لیا چلو خیر ہے کوئی بات نہیں۔پاکستان میں میرے دکان اور پلاٹ وغیرہ کا کرایہ 2005ء سے 2025ء تک باقاعدگی سے ابا جی کے پاس جاتا ہے میں نے آج تک ایک ماہ کا کرایہ بھی نہیں لیا یہ کرایہ تقریباً 60 ہزار ماہانہ بنتا ہے۔عمان میں آ کر پاکستان سے تعلق داروں کو بلواتا ان کے ویزا کے پیسے بھی بڑے بھائی اور ابا جی ہی لیتے تقریباً درجن سے زائد لوگوں کے ویزا کے پیسے لے چکے ہیں۔میں نے اپنی حلال کی کمائی سے اور پٹی خرید کر ابو جی کے نام کر دی جبکہ باقی چار بھائیوں میں سے کسی نے بھی ابا کے نام کچھ نہیں کیا ، اس کے باوجود والد صاحب ان کے پاس رہتے ہیں اور ان کی بات کرتے ہیں، مجھے کہتے ہیں اگر تم بات نہیں مانتے تم جہنمی ہو۔ادھر پاکستان میں والدین کے نام دو دکانیں تھیں ان کے بالکل ساتھ ایک اور دکان تھی وہ میرے پیسوں سے خریدی گئی پھر وہ تین دکانیں تعمیر کی یہاں سے میں پیسے بھیجتا رہا جو کہ تقریبا 20 سے 25 لاکھ تھے۔اس کے بعد والدین کے کہنے پر اپنی بڑی بہن کو آٹھ لاکھ روپے بطور قرض دیے جو آج تک واپس نہیں کیے۔ایک گھر خرید کر ابو جی کے نام کیا ، اس گھر کے مالک نے کیس کر دیا اس کیس کے حل میں آٹھ لاکھ روپے لگ گئے اور پھر گھر کی مرمتی وغیرہ کرائی وہ بھی پیسے لگ گئے تقریبا 24 25 لاکھ میں یہ گھر مکمل ابو جی کے نام کر دیا جو سارے پیسے میں نے ادا کیے۔والدین جس مکان میں رہائش پذیر تھے وہاں بھی میں نے پیسے بھیج بھیج کر اس مکان کو بنوایا۔بڑا بھائی جو شادی شدہ ہے بال بچوں والا ہے ان کو چار مرتبہ کاروبار کرنے کے لیے پیسے دیے تین لاکھ پھر چار لاکھ پھر سات لاکھ پھرچار لاکھ یہ سب میں نے اپنی حلال کمائی سے دیتا رہا۔جب بھی پاکستان آتا ہر مرتبہ نئی موٹرسائیکل خریدتا، اور میرے جانے کے بعد وہ سیل کر دی جاتی مجموعی طور پر پانچ لاکھ ان کی قیمت بنتی ہے ایک بار میں نے گاڑی کے لیے تین لاکھ نقد بھیجے وہ بھی استعمال کر لیے گئے۔2700 ریال ادھار لیے تھے بڑے بھائی نے وہ بھی واپس نہیں کیے اور جب الگ ہوئے پورا حساب ہوا اس وقت بھی ان کے اکاؤنٹ میں 2170 ریال تھے وہ بھی واپس نہیں کیے۔محنت مزدوری کر کے ایک ٹریکٹر ٹرالہ خرید کر دیا 11 لاکھ 80 ہزار کا جو انہوں نے چار مہینے کے اندر اندر فروخت کر دیا۔اپنے بڑے بھائی کو پانچ تولے زیور خرید کے دیے اپنی کمائی سے۔والدین کو اپنے خرچے پر حج پر لے گیا ، پہلی بار حج کے پیسے انہوں نے استعمال کر لیے دوسری بار پھر بھیجے۔چھوٹے بھائی نے پاکستان میں جا کر میری دکان 10 لاکھ روپے رینٹ ایڈوانس لے کر 10 سال کے لیے رینٹ پر دے دی میری اجازت کے بغیر۔ اب میں کہتا ہوں کہ واپس کرو مگر والدین کہتے ہیں کہ نہیں دے دو ، بلکہ تم نے جو کچھ کمایا ہے اس میں سے آدھا ان کو دے دو۔مختلف مواقع پہ والدین مجھے کہہ چکے ہیں کہ تم الگ ہو ، کل پانچ مرتبہ الگ کر چکے ہیں ۔اس سب کے باوجود اب بھی وہی ویزے والے 1 لاکھ 20 ہزار روپے کا مطالبہ ہے ، اب بھی وہی چل رہا ہے کہ وہ ہم نے تمہارے ویزے پر جو 1 لاکھ 20 ہزار خرچ کیے تھے وہ واپس کرو ، تمہاری جائیداد میں جو بھائیوں کے حصہ بنتا ہے وہ ادا کرو۔والدین اپنے حصے کی جائیداد میراث کے نام پر گزشتہ تین سال پہلے تقسیم کر چکے ہیں جس میں سے ایک پائی بھی مجھے نہیں ملی جو چیزیں میں نے اپنی کمائی سے والدین کے نام لگوائی تھی وہ بھی انہوں نے بھائیوں کے نام کروا دی ہیں۔پانچ مرتبہ مجھ پر بہت کڑا اور سخت وقت آیا، بڑی بڑی آزمائشیں آئیں ، اللہ پاک نے فضل فرمایا ۔ لیکن ان میں سے کوئی ایک بھی میرا سہارا نہیں بنا۔یہ سب تفصیل ہے، اس کی روشنی میں چند باتوں کی وضاحت مطلوب ہے:1: ایسے حالات میں میری کیا ذمہ داری بنتی ہے، مجھے کیا کرنا چاہیے ؟2: اب اگر میں والدین کی بات بہن بھائیوں کو حصہ دینے والی، نہیں مانتا تو کیا میں شریعت کی نگاہ میں مجرم بنوں گا۔3: جو رقم میں نے اپنے بھائیوں بہنوں پر خرچ کی ہے کیا مجھے اس کے مطالبہ کا حاصل ہے؟4: جو رقم میں نے بطور قرض بہن بھائیوں کو دی تھی، کیا مجھے وہ رقم واپس لینے کا حق حاصل ہے؟5: والدین نے مجھے اپنی جائیداد میں سے کچھ حصہ نہیں دیا ، شرعی طور پر اس کا کیا حکم ہے؟ مجھے اس میں سے مطالبہ کرنا چاہیے یا نہیں؟ حالانکہ اس موقع پر میں نے کہا بھی تھا کہ اس میں سے اپنی کوئی نشانی مجھے بھی دے دو تاکہ میں اپنی اولاد کو دکھا سکوں مگر مجھے یہ جواب دیا گیا کہ اب تو تقسیم ہو چکی ہے آپ الگ کام کرو یہ الگ کریں یہ سب اپنا اپنا۔6: ان تمام حالات و واقعات کے تناظر میں کیا میں اپنی بیوی بچوں کی طرف مکمل توجہ رکھ کر اپنے بہن بھائیوں سے معاملات میں مناسب فاصلہ رکھ سکتا ہوں یا نہیں؟7: والدین کی طرف سے اب بھی میرے ویزہ کے لیے استعمال شدہ رقم 1 لاکھ 20 ہزار کی واپسی کا مطالبہ اور میری جائیداد میں سے بھائیوں کو حصہ دینے کا مطالبہ شرعاً کیسا ہے؟ کیا اب بھی 1 لاکھ 20 ہزار روپے کی ادائیگی مجھ پر لازم ہے؟8: کیا میں اپنی جائیداد میں سے بھائی بہنوں کو حصہ دینے کا پابند ہوں؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

آپ کی طرف سے بھیجی گئی نہایت تفصیلی تحریر پڑھی، اللہ کریم آپ کے لیے آسانیاں پیدا فرمائے اور ہم سب سے راضی ہو جائے۔ اس حوالے سے چند باتیں پیشِ خدمت ہیں:پہلی بات:زندگی کے نشیب و فراز سے گزرنے والے ایسے افراد بہت کم ہوتے ہیں جو محنت کش، بااخلاق، وفا شعار اور خاموشی سے دینے والے ہوں، اور انہوں نے اپنے نفس کی راحت، اپنی خواہشات اور اپنی ذاتی زندگی کو پیچھے رکھ کر دوسروں کے لیے جینا اختیار کیا ہو، آپ بھی ایسے خوش نصیب افراد میں سے ہیں۔دوسری بات:آپ نے جو کچھ کمایا، وہ آپ کا حق تھا، مگر آپ نے اسے اپنوں پر خرچ کر کے یہ ثابت کیا کہ اَخلاق، اِیثار، اور خلوص محض لفظ نہیں بلکہ عمل کا نام ہے۔ یہ کوئی عام بات نہیں کہ ایک شخص پردیس کی مشقتیں اٹھائے، اور برسوں تک بغیر کسی معاوضے یا شکوے کے اپنے پیاروں کی مالی، عملی اور جذباتی مدد کرتا چلا جائے۔ یہ آپ کے حسنِ نیت، مضبوط کردار، اور صبر کی دلیل ہے۔تیسری بات:جو کچھ آپ نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے والدین، بہن بھائیوں، اور خاندان پر خرچ کیا، وہ اللہ کی بارگاہ میں ضائع نہیں ہو گا۔ بندے بھول سکتے ہیں، انکار کر سکتے ہیں، ناقدری کر سکتے ہیں، مگر اللہ تعالیٰ کے پاس ہر عمل کا حساب ہے اور اللہ کریم بے حد قدر دان ہیں۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے:” إِنَّه مَنْ يَتَّقِ وَيَصْبِرْ فَإِنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيْعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِيْنَ “یوسف: 90ترجمہ: حقیقت یہ ہے کہ جو شخص ڈرتا ہے( تقویٰ اختیار کرتا ہے)اور صبر سے کام لیتا ہے ، تو اللہ نیکی کرنے والوں کا حق ضائع نہیں کرتا۔چوتھی بات:آپ کو جو تکلیف پہنچی، وہ بے شک آپ کے دل پر گراں ہے۔ مگر یہی وہ لمحات ہیں جب اللہ تعالیٰ بندے کا اخلاص پرکھتا ہے، اور اسی کے بدلے بندے کو وہ عزت اور انعام عطا کرتا ہے جو دنیا کی ساری عزتوں سے بلند ہوتا ہے۔دنیا میں سب کچھ ختم ہو جاتا ہے۔ رشتے، املاک، دولت، نام، مقام سب کچھ ! مگر جو چیز باقی رہتی ہے وہ انسان کی اچھی نیت، اچھا عمل اور اس کا اللہ تعالیٰ کی ذات سے گہرا تعلق ہے۔لہٰذا ؛ ان حالات میں:• دل تنگ نہ کریں• مایوس نہ ہوں• حوصلہ بلند رکھیں• اللہ تعالیٰ سے لَو لگائے رکھیںآپ کا معاملہ لوگوں سے نکل کر اللہ تعالیٰ کے حوالے ہے اور اللہ تعالیٰ کی ذات عادل بھی ہے، عطا کرنے والی بھی ہے اور سب سے بڑھ کر مہربان بھی ہے۔آپ کے سوالات کے جوابات ترتیب وار حسبِ ذیل ہیں:[1]: آپ کی ذمہ داری یہ ہے کہ آپ اپنی محنت، صبر اور خلوص کو جاری رکھیں۔ والدین اور بہن بھائیوں کے ساتھ حسنِ سلوک اور حسنِ اَخلاق رویّہ ختم نہ کریں ۔ساتھ ہی، خود کو جذباتی دباؤ اور ناانصافی سے بچائیں۔ اپنے حق کی عزت کریں اور انصاف کے طلبگار رہیں، مگر تحمل اور حکمت سے کام لیں۔ اللہ تعالیٰ پر مکمل بھروسہ رکھیں اور اپنے دل کو ٹھنڈا رکھیں، کیونکہ جو کچھ آپ نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے دیا، وہ آپ کے لیے ذخیرۂِ آخرت ہے۔[2]: ہر فرد اپنے اعمال کا جواب دِہ ہے۔ آپ کو والدین کے ساتھ حسن ِسلوک کرنا چاہیے اور ان کے حقوق ادا کرتے رہنا چاہیے۔ اگر والدین یا بہن بھائی آپ کے ساتھ ناانصافی کرتے ہیں یا آپ پر غیر منصفانہ دباؤ ڈالتے ہیں، تو آپ پر ان باتوں کی پیروی کرنا شرعاً لازم نہیں۔ان کے غلط یا غیر شرعی رَوّیے کے لیے وہ خود اللہ کے سامنے جواب دِہ ہوں گے۔ آپ کو صبر، حکمت، اور نرمی سے کام لینا چاہیے، اور اپنی حدود میں رہ کر معاملہ طے کرنا چاہیے۔[3]: جو رقم آپ نے اپنے خلوص اور رضامندی سے عطیہ یا ہبہ کی نیت سے بہن بھائیوں پر خرچ کی یا ان میں سے کسی کو دی، اس کی واپسی کا مطالبہ کرنا شرعاً درست نہیں۔اللہ تعالیٰ آپ کی اس قربانی کا بہترین بدلہ دے گا، ان کی طرف سے کی گئی بے قدری سے اجر میں کمی نہ ہو گی۔[4]: جو رقم آپ نے بہن بھائیوں کو بطور قرض دی تھی، اس کی واپسی کا آپ مطالبہ کر سکتے ہیں، اس رقم کی واپسی کا آپ کو شرعاً اور قانوناً حق حاصل ہے ۔ لیکن اس مطالبہ میں اعتدال اور اَخلاق کا دامن نہ چھوٹنے پائے۔البتہ اگر آپ اپنا قرض معاف کرنا چاہیں تو یہ آپ کا اچھا عمل ہوگا، لیکن اپنے اس حق سے دستبردار ہونا آپ پر شرعاً لازم نہیں ہے۔[5]: میراث اس مال کو کہتے ہیں جو کسی شخص کی وفات کے وقت اس کی ملکیت میں ہو۔اگر کوئی بندہ اپنی خوشی سے اپنی زندگی ہی میں اپنی اولاد کے درمیان مال و جائیداد کو تقسیم کرنا چاہے تو ایسا کرنا شرعاً جائز ہے، لیکن اس کو وراثت نہیں کہا جاتا بلکہ یہ ہدیہ، عطیہ، تحفہ یا گفٹ کہلاتا ہے ۔اپنی زندگی میں جائیداد تقسیم کرنے کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ اپنی تمام اولاد کے درمیان بیٹوں اور بیٹیوں میں فرق کیے بغیر برابر تقسیم کیا جائے، یہ افضل اور بہتر صورت ہے۔ ہاں اگر وراثت کی تقسیم کے مطابق بیٹوں کو دوہرا(ڈبل) اور بیٹیوں کو اِکہرا(سنگل) حصہ دیا جائے تو یہ بھی جائز ہے۔لیکن یہ بات ہمیشہ یاد رہے کہ بِلا وجہ اولاد میں سے کسی کو محروم کرنا قابلِ مؤاخذہ جرم ہے، ایسا کرنے والا نا انصافی کا مرتکب ہے اور وہ اپنے اس جرم کا اللہ تعالیٰ کی عدالت میں جواب دِہ ہو گا۔آپ کی جانب سے یاد دہانی کے باوجود اپ کے والد نے آپ کو جائیداد میں سے کچھ نہیں دیا تو اَخلاقی طور پر بہتر یہ ہے کہ آپ مزید مطالبہ نہ کریں اور اس معاملے کو اللہ کریم پر چھوڑ دیں ، اللہ کریم آپ کو نعم البدل عطا فرمائیں گے۔[6]: بالکل! آپ کو اپنی فیملی کی ذمہ داریوں کو اولیت دینی چاہیے۔ اولاد کی تعلیم و تربیت پر ترجیحی بنیادوں پر توجہ دیں، اپنی اولاد اور اہلیہ کے جائز حقوق ادا کریں۔خاندان کے دوسرے افراد سے مناسب فاصلہ شرعی حدود میں رکھنا آپ کے حق میں بہتر ہے تاکہ آپ ذہنی سکون اور مالی استحکام برقرار رکھ سکیں۔ اختلافات میں خود کو الجھانا آپ کے اور آپ کے اہل خانہ کے لیے نقصان دِہ ہو سکتا ہے۔لیکن یاد رکھیں کہ یہ مناسب فاصلہ صرف معاملات کی حد تک ہو ، یہ چیز قطعی تعلقی ، بے اعتدالی اور زیادتی کے دائرے میں ہرگز داخل نہ ہو۔[7]: چونکہ آپ نے ویزے کی رقم مکمل طور پر ادا کر دی ہے، اس لیے آپ اس رقم سے شرعی طور پر بری الذمہ ہیں۔ اب اس کی واپسی کا بار بار مطالبہ کر کے آپ کو تنگ کرنا شریعت اور اخلاقیات کے منافی ہے ۔[8]: انسان کی کمائی پر اس کا حق مقدم ہے، اور اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی کمائی کو حکمت، توازن، اور نیتِ خیر کے ساتھ استعمال کرے۔آپ کی ذاتی محنت اور کمائی سے حاصل کردہ جائیداد آپ کی ملکیت ہے اور اسے اپنے بہن بھائیوں میں بانٹنا آپ پر شرعاً لازم نہیں۔اسلام نے رشتہ داروں سے حسنِ سلوک، صلہ رحمی، اور ضرورت کے وقت تعاون کی تاکید فرمائی ہے۔ لیکن ساتھ ہی یہ اصول بھی واضح کیا ہے کہ کسی کی ذاتی محنت و کمائی پر، محض رشتہ داری کی بنیاد پر دوسروں کا شرعی حق لازم نہیں ہوتا۔ بہن بھائی ہونے کا رشتہ قابلِ احترام ہے، مگر اس کی بنیاد پر کسی کی کمائی یا ملکیت میں زبردستی حصہ طلب کرنا شریعت کے مطابق نہیں۔تاہم اگر آپ ان تمام حالات کے باوجود بھی حسنِ سلوک کا دامن تھامے رکھیں، حسبِ موقع(بیماری ، پریشانی ، تنگدستی کے موقع پر) حسبِ ضرورت مدد کرتے رہیں، تو یہ آپ کے اعلیٰ اخلاق اور دینی بصیرت کی علامت ہو گی۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved