- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
ایک صاحب کی تحریر میری نگاہ سے گزری ، جس میں صاحب ِ تحریرنے آپ کی کتاب ”سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنھما “ کی عبارت پر اعتراض کیا ہے۔ اس اعتراض کا تسلی بخش جواب عنایت فرمائیں۔ وہ تحریر حسبِ ذیل ہے:”کل مولانا محمد الیاس گھمن صاحب کی کتاب ”سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنھما“ کا مطالعہ کررہا تھا، اس میں اور بھی بہت سی باتیں محل نظر ہیں، لیکن ایک بات یہ ہے کہ واقعہ کربلا کا بیان کرتے ہوئے صفحہ نمبر 122 پر مولانا لکھتے ہیں:”یہاں یہ بات غور طلب ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ یزید سے ملاقات اور اس سے بیعت پر رضامندی کا عندیہ کئی مقام پر دیتے رہے جیسا کہ عمر بن سعد سے گفتگو کے وقت تین مطالبات کے ضمن میں گزرا اور ابھی اوپر رؤساء کوفہ کے ساتھ گفتگو کے ضمن میں گزرا “…………آگے اسی صفحے پر لکھا:” اصل بات یہ ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا ہدف سیاسی اصلاحات کے نفاذ کا تھا اور آپ ان سیاسی اصلاحات کے نفاذ کی شرط پر یزید کی بیعت کرنے کا عندیہ دیتے رہے “……….اس سے معلوم ہوا کہ مولانا گھمن صاحب تسلیم کررہے ہیں کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ یزید کی بیعت کے لئے تیار تھے اور کئی بار اس کا عندیہ دیا۔لیکن یہی مولانا گھمن صاحب اپنی اسی کتاب کے صفحہ 183 و184 پر لکھتے ہیں:”حضرت حسین رضی اللہ عنہ یزید کی بیعت کے لئے آمادہ نہیں ہوئے تھے۔ “پھر ابن حزم اندلسی کی ایک عبارت پیش کرکے لکھتے ہیں:”جب حضرت حسین رضی اللہ عنہ یزید کی بیعت کو بیعت ضلال کہہ رہے ہیں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ یزید کی بیعت پر راضی ہوگئے ہوں۔“آگے صفحہ 185 پر لکھتے ہیں:”حالات کے پیش نظر؛ درایۃً (عقلی اعتبار سے) بھی ثابت ہوتا ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ یزید کی بیعت کے لئے راضی نہیں ہوئے تھے………“اب معلوم نہیں کون سی بات درست ہے؟ پہلی والی کہ عمر بن سعد کے ساتھ بات چیت میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ، یزید کی بیعت کرنے کا عندیہ دے چکے تھے؟ یا وہ اس پر کیسے راضی ہوسکتے تھے کہ وہ اسے بیعت ضلال سمجھتے تھے؟؟؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
سوال میں مذکور جو اعتراض کیا گیا ہے، وہ کم فہمی کی بنیاد پر رونما ہوا۔ میری کتاب ”سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما “ میں کوئی تضاد نہیں، دو مختلف مقامات کی عبارات کو سیاق وسباق سے ہٹا کر تضاد بیانی کا الزام دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ دونوں مقامات اپنے محل میں بالکل درست اور ہم آہنگ ہیں۔یہ بات شروع ہوتی ہے میری کتاب ”سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما“ کے صفحہ نمبر 109 سے، جہاں یہ عنوان ہے۔حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی تین شرائطاور نیچے یہ عبارت ہے:اس کے بعد عمر بن سعد نے آپ رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی۔ چنانچہ امام ابو الحسن عز الدین علی بن ابی کرم محمد بن محمد الشیبانی الجزری ابن الاثیر رحمہ اللہ (ت 630ھ)روایت نقل کرتے ہیں۔قال له: اختاروا مني واحدة من ثلاث: ٳما أن أرجع ٳلى المكان الذي أقبلت منه وٳما أن أضع يدي في یدِ يزيد بن معاوية فیرٰى فيما بيني وبينه رأيه ، وٳما أن تسيروا بي ٳلى أيّ ثغر من ثغور المسلمين۔الكامل فی التاریخ جلد 4 صفحہ 54 ذكر مقتل الحسين رضي الله عنہترجمہ: حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے عمر بن سعد سے فرمایا کہ آپ لوگ میری طرف سے ان تین چیزوں میں سے کوئی ایک چیز اختیار کر لیں۔نمبر1: میں جہاں سے آیا ہوں مجھے واپس جانے دیا جائے۔نمبر 2: مجھے موقع دیا جائے کہ میں یزید کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دے دوں (بالمشافہ گفتگو کر لوں یا اپنے تحفظات دور کر لوں) وہ اپنے اور میرے درمیان جو فیصلہ چاہے کر لے۔نمبر 3: میں اسلام کی سرحدوں میں سے کسی سرحد کی طرف جانا چاہتا ہوں (مجھے جانے دیا جائے تاکہ وہاں اسلام کی حفاظت کر سکوں) ۔اس کے بعد فائدہ کا عنوان دے کر یہ لکھا کہ”یہ ایسے معقول اور واضح مطالبات تھے جس سے سرکاری حکام کے سب گلے شکوے دور ہو جانے چاہیے تھے لیکن عبید اللہ بن زیاد کی طرف سے عمر بن سعد کو یہ حکم تھا کہ وہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو غیر مشروط طریقے پر گرفتار کرے۔“(سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما ص 110)اس کے فوراً بعد میں نے وضاحت کی ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا مقصود یزید کی غیر مشروط بیعت نہ تھا، بلکہ:نیز یہ الجھن نہیں ہونی چاہیے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے یزید کی حکومت کو ہر لحاظ سے درست تسلیم کر لیا تھا بلکہ اسے زمینی حقیقت سمجھتے ہوئے اپنے اوپر مسلط سمجھا۔ اگر آپ رضی اللہ عنہ کے مذاکرات یزید سے ہو جاتے اور وہ شرائط کو تسلیم کر لیتا اور اپنی خامیاں دور کر لیتا تو شاید نوبت یہاں تک نہ پہنچتی۔“(سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما ص 110)اسی طرح صفحہ 122 پر میں نے صرف ان روایات کا صحیح مطلب واضح کیا ہے، جنہیں بعض ناصبی لوگ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے یزید سے ”بیعت کی آمادگی“ پر محمول کرتے ہیں۔میں نے واضح لکھا ہے کہ:حضرت حسین رضی اللہ عنہ محض اپنی جان بچانے کے لیے یزید کی بیعت پر قطعا آمادگی کا اظہار نہیں کر رہے تھے…“(سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما ص 122)میرے نزدیک ”یزید کے پاس جانے دینا“ ’’بیعت‘‘ نہیں، بلکہ ’’گفتگو اور اصلاحِ احوال‘‘ کی تجویز تھی۔یہ تمام عبارات واضح کرتی ہیں کہ میرے نزدیک:حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے ”یزید سے بیعت“ کی کوئی پیشکش نہیں کی۔بلکہ!”یزید کے پاس جانے“ کا مطلب تھا: براہِ راست گفتگو، اصلاحِ احوال اور اپنے تحفظات کا ازالہ۔جہاں معترض نے تضاد سمجھا ہے، وہاں حقیقت یہ ہے:کتاب کے آخر میں (صفحہ 183–185) میں نے اس اعتراض کا جواب دیا ہے جو ناصبی فکر کی طرف سے اٹھایا جاتا ہے کہ ”حضرت حسین رضی اللہ عنہ جان بچانے کے لیے یزید سے بیعت کرنے پر آمادہ ہوگئے تھے“۔میں نے اس اعتراض کا تین طرح سے رد کیا ہے:[1]: تاریخی تصریحات کی روشنی میں”حضرت حسین رضی اللہ عنہ یزید کی بیعت کے لئے آمادہ نہیں ہوئے تھے…“(سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما ص 183)اس کے تحت میں نے1: امام ابو محمد علی بن احمد بن سعید بن حزم الاندلسی القرطبی الظاھری رحمہ اللہ (ت456ھ) کی ”الفصل فی الملک والاھواء والنحل“ سے2: امام محمد بن محمد الغزالی رحمہ اللہ (ت 505ھ) کی ”احیاء علوم الدین“ سے3: امام ابو الحسن عز الدین علی بن ابی الکرم محمد بن محمد الشیبانی الجزری ابن اثیر رحمہ اللہ(ت630ھ) کی ”الکامل فی التاریخ “سے تصریحات نقل کی ہیں۔جن کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہما (جان بچانے کے لیے) یزید کی بیعت کے لیے آمادہ نہیں تھے۔[2]: عقلی دلائل سے”درایۃً (عقلی اعتبار سے) بھی ثابت ہوتا ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ یزید کی بیعت کے لئے راضی نہیں ہوئے تھے…“(ص 185)اس پر میں نے پانچ دلائل دیے کہ اگر آمادگی ہوتی تو دیگر مواقع پر ظاہر ہوجاتی، لیکن ایسا نہیں ہوا۔3: روایت کی صحیح تعبیراعتراض میں پیش کی گئی روایت کا درست مطلب یہ ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ یہ فرمانا چاہتے تھے کہ مجھے یزید کے پاس جانے دو میں براہ راست اس سے بات کرتا ہوں اگر وہ میری بات مان لے اور اپنے احوال اور معاملات درست کر لے تو میں مان لوں گا میرا اس سے کوئی ذاتی جھگڑا نہیں ہے۔(ص: 185)یہ وہی بات جو پہلے صفحہ 110 اور 122 پر بھی واضح کی تھی:حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا مقصود یہ تھا کہ مجھے یزید کے پاس جانے دو، میں اس سے براہِ راست بات کروں، اگر وہ اصلاح کرلے تو میرا اس سے کوئی ذاتی جھگڑا نہیں ہے۔اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ کتاب میں کوئی تضاد نہیں۔صفحہ 109–122 میں ”تین تجاویز“ کا سیاق بیان کیا ہے،اور صفحہ 183–185 میں ایک ”ناصبی اعتراض“ کا جواب دیا ہے۔دونوں مقامات ایک ہی بات پر متفق ہیں:✔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے یزید کی بیعت کی پیشکش نہیں کی۔✔ اور بیعتِ ضلال سمجھتے ہوئے یزید کی بیعت کو قبول کرنا ان کے نزدیک ممکن نہ تھا۔✔ روایت کا درست مطلب یہ بنے گا کہ اصلاحِ احوال کی گفتگو کے لیے یزید کے سامنے جانے کی تجویز دی۔میری گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ:حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے نزدیک اصل مقصد ”سیاسی اصلاح“ اور ”ظلم کا ازالہ“ تھا، نہ کہ اپنی جان بچانا، نہ یزید کی بیعت کرنا۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved