• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

خواتین؛ عقائد و اعمال کی محنت کے لیے سوشل اکاونٹ استعمال کر سکتی ہیں یا نہیں؟

استفتاء

اُستادِ محترم! آپ کی خدمت میں چند اہم سوالات پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں، جو خصوصاً خواتین کے سوشل میڈیا پر دینی کام کرنے سے متعلق ہیں:1: کیا خواتین کے لیے سوشل میڈیا کے ذریعے دینی کام کرنا شرعاً جائز ہے؟2: کیا مرد حضرات اُن کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو فالو کر سکتے ہیں اور اُن کی پوسٹس پر تبصرہ (کمنٹ) وغیرہ کر سکتے ہیں؟3: کیا دینی مقاصد کے تحت آپس میں چیٹنگ کرنا جائز ہے، مثلاً دلائل، حوالہ جات یا علمی مواد کا تبادلہ؟4: خواتین کا سوشل میڈیا اکاؤنٹ شرعاً پرائیویٹ ہونا چاہیے یا پبلک بھی رکھا جا سکتا ہے؟اُستادِ محترم! یہ بھی عرض کرنا چاہتا ہوں کہ الحمدللہ آپ کے شاگرد اور مریدین نہایت جوش و خروش کے ساتھ عقائد کی محنت میں مصروف ہیں، خواہ وہ انسٹاگرام کے ذریعے ہو یا یوٹیوب کے ذریعے۔یہ سوالات اکثر اٹھتے رہتے ہیں اور اس موضوع پر ہر شخص آپ کی رہنمائی اور جواب کا بے حد منتظر ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے اور آپ کے علم و عمل میں برکت عطا فرمائے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

ترتیب وار جوابات حسبِ ذیل ہیں:[1]: خواتین بھی سوشل اکاؤنٹ کو صحیح عقائد اور مسنون اعمال کی محنت کے لیے استعمال کر سکتی ہیں، بشرطیکہ: مقصد خالص دینی ہو ۔ شرعی حدود کی مکمل پابندی ہو ۔ حیا ، حجاب اور وقار کو ہر حال میں ملحوظ رکھا جائے۔ امورِ خانہ داری اور دیگر ذمہ داریوں کی ادائیگی پر منفی اثرات نہ پڑے۔ سوشل اکاؤنٹ کا ضرورت کی حد تک استعمال ہو۔[2]: سب سے بہتر، محفوظ اور محتاط صورت یہ ہے کہ:مرد حضرات اپنے دینی سوشل میڈیا اکاؤنٹس مردوں تک محدود رکھیں اور خواتین اپنے اکاؤنٹس خواتین تک۔مرد حضرات مردوں میں اور خواتین ؛ خواتین میں دینی محنت کریں۔اپنے اپنے دائرۂ کار میں رہتے ہوئے دینی، اصلاحی اور علمی کام نہایت مؤثر طریقے سے انجام دیا جا سکتا ہے،اور اس طریقے سے بہت سے شرعی، اخلاقی اور سماجی مفاسد سے بچاؤ بھی ممکن ہے، یہی طریقہ زیادہ محفوظ اور بہتر ہے۔تاہم اگر کسی سوشل اکاؤنٹ کو عام رکھنے کی ضرورت پیش آ جائے تو:• تبصرہ صرف علمی و دینی نوعیت کا ہو۔• ضروری اور غیر شخصی ہو۔ غیر ضروری اور ذاتی نوعیت کا نہ ہو۔• کسی قسم کی بے تکلفی یا ذاتی انداز نہ ہو۔[3]: دلائل، حوالہ جات یا علمی مواد کے تبادلے کی حد تک ضرورتاً گفتگو کی گنجائش ہے، اس کے علاوہ: نجی یا ذاتی نوعیت کی چیٹنگ نہ کی جائے۔ مسلسل رابطہ، غیر ضروری گفتگو اور بے تکلفی سے اجتناب کیا جائے۔ گفتگو صرف ضرورت، دلیل اور مقصد تک محدود رہے۔[4]: بہتر اور محفوظ صورت یہ ہے کہ خواتین کے دینی اکاؤنٹس اور گروپس صرف خواتین تک محدود ہوں، تاہم اگر ضرورت کے تحت اکاؤنٹ پبلک رکھنے کی نوبت پیش آئے تو ضروری ہے کہ شادی شدہ خاتون کے لیے شوہر اور غیر شادی شدہ کے لیے والد، بھائی یا کوئی محرم باقاعدہ طور پر اس اکاؤنٹ کی نگرانی اور جانچ کرتے رہیں۔ کیوں کہ محرم کی نگرانی کے بغیر عمومی اکاؤنٹ چلانے میں سماجی اور اخلاقی فساد کا قوی اندیشہ رہتا ہے، جس سے بچنا ضروری ہے۔خلاصہ:o اکاؤنٹ بنانے کی گنجائش ہے، مگر سخت احتیاطی تدابیر کے ساتھ کہ:o دینی مقصد واضح، انداز باوقار اور دائرہ محدود ہو۔o ذاتی گفتگو اور بے تکلفی سے مکمل اجتناب کیا جائے۔o نگرانی اور جواب دہی کا نظام ضرور موجود ہو۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved