• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

مسجد میں دوسری جماعت کا کیا حکم ہے؟

استفتاء

مسجد میں جماعتِ ثانیہ (یعنی دوسری جماعت) کے بارے میں شرعاً کس قسم کی ممانعت ہے؟ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ لوگ اپنی ضروریات اور کاروباری مشغولیات میں الجھ جاتے ہیں، جس کی وجہ سے پہلی جماعت کا وقت نکل جاتا ہے۔اب اگر دو یا تین افراد بعد میں مسجد میں حاضر ہوں تو کیا ان کے لیے انفرادی طور پر نماز ادا کرنا افضل ہے یا مسجد کے کسی حصے میں جماعت کے ساتھ نماز ادا کر لینا بہتر ہوگا؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

ایسی مسجد کہ جس میں درج ذیل تینوں شرائط پائی جاتی ہوں اس میں دوسری جماعت کرانا مکروہ تحریمی ہے:۱: مسجد محلہ کی ہو یعنی اس کا امام اور نمازی متعین ہوں۔۲: اس مسجد میں پہلی جماعت سے پہلے اذان و اقامت بلند آواز سے پڑھی گئی ہوں۔۳: پہلی جماعت میں محلہ کے ایسے افراد شامل ہوں جن کو مسجد کے انتظامات کا حق حاصل ہو۔نوٹ: دو چار افراد بعد میں مسجد میں حاضر ہوں تو وہ انفرادی طور پر نماز ادا نہ کریں بلکہ ان کے لیے بہتر یہ ہے مسجد کی حدود سے باہر کسی مناسب جگہ جماعت کرا لیں۔ تاہم اگر کبھی مجبوری کی وجہ سے ایسی مسجد میں دوسری جماعت کی ضرورت پیش آئے تو عادت بنائے بغیر پہلی جماعت کی ہیئت سے ہٹ کر دوسری جماعت کرانے کی گنجائش ہے۔پہلی جماعت کی ہیئت کا مطلب یہ ہے کہ جس جگہ پہلی جماعت کا امام کھڑا تھا دوسری جماعت کا امام اسی جگہ کھڑا نہ ہو۔اور عادت بنانے کا پہلا مطلب یہ ہے کہ لوگ غفلت و سستی کی بناء پرجان بوجھ کر پہلی جماعت میں اس وجہ سے شریک نہ ہوں کہ چلو بعد میں دوسری جماعت کرا لیں گے اور بعد میں چند افراد آ کر دوسری جماعت کرا لیں۔دوسرا مطلب یہ ہے کہ ضرورت کی وجہ سے دوسری جماعت ہو جانے کے بعد پھر چند افراد مل کر تیسری جماعت کرا لیں، اس کے بعد پھر کچھ افراد مل کر چوتھی جماعت کرا لیں۔ اس طرح پہلی جماعت کی وقعت،اہمیت اور عظمت رفتہ رفتہ ختم ہو جائے گی اور لوگ بس اس انتظار میں رہیں گے کہ پہلی جماعت نکلتی ہے تو نکل جائے ہم جا کر اپنی جماعت کرا لیں گے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved