• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

مسجد میں سونے کا حکم

استفتاء

ہمارے گاؤں میں مسجد ہے، اس میں سونا درست ہے یا نہیں؟ اس سے متعلق چند باتوں کی وضاحت مطلوب ہے۔1: اگر کوئی جماعت تبلیغ والے احباب آ جائیں تو وہ اسی مسجد میں ٹھہرتے ہیں۔2: کوئی بندہ مسجد و مدرسہ کے چندہ وغیرہ کے لیے آتا ہے تو اس کو بھی وہاں ٹھہرانا پڑتا ہے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:وَيُكْرَهُ النَّوْمُ وَالْأَكْلُ فِيْهِ لِغَيْرِ الْمُعْتَكِفِ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَفْعَلَ ذٰلِكَ يَنْبَغِي أَنْ يَنْوِيَ الِاعْتِكَافَ فَيَدْخُلَ فِيْهِ، وَيَذْكُرَ اللهَ تَعَالٰى بِقَدْرِ مَا نَوٰى، أَوْ يُصَلِّيَ، ثُمَّ يَفْعَلَ مَا شَاءَ، كَذَا فِي السِّرَاجِيَّةِ. وَلَا بَأْسَ لِلْغَرِيْبِ وَلِصَاحِبِ الدَّارِ أَنْ يَنَامَ فِي الْمَسْجِدِ فِي الصَّحِيْحِ مِنَ الْمَذْهَبِ، وَالْأَحْسَنُ أَنْ يَتَوَرَّعَ فَلَا يَنَامَ، كَذَا فِي خِزَانَةِ الْفَتَاوٰى.ج:5 ص396 باب آداب المسجد
ترجمہ: مسجد میں اعتکاف کرنے والے کے علاوہ کسی کے لیے وہاں سونا یا کھانا مکروہ ہے۔البتہ اگر کوئی شخص ایسا کرنا چاہے تو بہتر یہ ہے کہ وہ نیتِ اعتکاف کر لے، پھر مسجد میں داخل ہو، اللہ تعالیٰ کا ذکر کچھ وقت کر لے، یا دو رکعت نماز پڑھ لے، پھر جو ضرورت ہو وہ کام کر لے۔ایسا ہی فتاویٰ ” السراجیہ “ میں ہے۔اور صحیح مذہب کے مطابق اجنبی (مسافر) یا قریبی رہائشی کے لیے مسجد میں سونا جائز ہے۔ تاہم بہتر یہ ہے کہ احتیاط اور پرہیز کرے اور مسجد میں نہ سوئے۔ ایسا ہی فتاویٰ ” خزانۃ الفتاویٰ “ میں ہے۔[1]: بہتر یہ ہے کہ مسجد کے ساتھ جماعت کے قیام و طعام کے لیے الگ کمرہ بنا دیا جائے۔ بوقتِ ضرورت ان کے لیے مسجد میں قیام بِلا کراہت جائز ہے، کیوں کہ یہ مسافر بھی ہوتے ہیں اور یہ اعتکاف کی نیت سے مسجد میں قیام کرتے ہیں۔[2]: اگر چندہ کے لیے آنے والے مسافر کی رہائش کا متبادل انتظام نہ ہو تو ا س کا بھی یہی حکم ہے۔[3]: ان کے لیے بِلا ضرورت مسجد میں سونا مکروہ ہے، اگر کبھی سونے کی ضرورت ہو اور اس سے عبادت کے معمولات اور انتظامیہ کے معاملات متأثر نہ ہوتے ہوں تو مسجد کے آداب کی رعایت رکھتے ہوئے سونے کی گنجائش ہے۔نوٹ:مساجد اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جگہ ہیں ، ان کا استعمال عبادت ہی کے لیے رکھا جائے۔ عام حالات میں مساجد میں سونے سے پرہیز کرنا چاہیے تاکہ عبادت کے علاوہ دیگر امور کے لیے مسجد کا استعمال نہ ہو۔معتکف اور ایسا مسافر جس کا ٹھکانہ مسجد کے علاوہ نہ ہو ان کو مسجد میں سونے کی اجازت؛ ضرورت کی وجہ سے حاصل ہے، اس کے علاوہ کسی اور کے لیے مسجد میں سونے کو فقہاء کرام رحمہم اللہ نے مکروہ کہا ہے۔تاہم جب مسجد میں سونے کی ضرورت پیش آئے تو آداب کا خیال لازمی رکھا جائے ۔ چند آداب لکھے جاتے ہیں:1: نیت درست ہو:مسجد میں داخل ہوتے وقت اعتکاف کی نیت کر لی جائے تاکہ جتنا وقت میں رہے اعتکاف کا اجر ملتا رہے۔2: طہارت کا اہتمام:بدن و کپڑے پاک ہوں۔وضو کے ساتھ سونا افضل ہے۔3: جگہ کا لحاظ:ایسی جگہ سویا جائے جہاں نمازیوں کی راہ میں رکاوٹ نہ ہو اور دروازہ بند یا کھولنے میں دقت نہ ہو۔4: بستر یا چادر کا استعمال:ادب کے پیش نظر نیچے چادر یا بستر بچھا کر سونا بہتر ہے تاکہ مسجد کا فرش آلودہ نہ ہو۔5: احترامِ مسجد:غیر ضروری گفتگو، ہنسی مذاق اور شور و غل سے پرہیز کیا جائے ، تاکہ مسجد کا تقدس باقی رہے۔6: سلیقہ مندی :اٹھنے کے بعد بستر یا چادر سمیٹ لی جائے اور محفوظ جگہ منتقل کر دی جائے، کوئی چیز بکھری ہوئی نہ چھوڑی جائے۔7: لباس و انداز:بدن اچھی طرح ڈھانپ کر سونا چاہیے تاکہ ستر ظاہر نہ ہو اور وقار قائم رہے۔8: وقت کی رعایت:بوقتِ ضرورت بقدرِ ضرورت آرام کیا جائے، یعنی صرف ضرورت کے وقت ضرورت کے مطابق آرام کرے، بِلا ضرورت یا ضرورت سے زائد مسجد کا استعمال اس چیز میں نہ ہو۔9: ذکر و دعا:سونے سے پہلے ذکرِ الٰہی، درود پاک یا مسنون دعا پڑھ لی جائے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved