• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

مشینی ذبیحہ کا کیا حکم ہے؟

استفتاء

چند سوالات ہیں، ان کے جوابات عنایت فرما دیں۔1: مشینوں کے ذریعے ذبح ہونے والے جانوروں کا کھانا کیسا ہے؟2: آج کل بڑے چھوٹے تجارتی ذبح خانوں میں تسمیہ و تکبیر بِسْمِ اللهِ، اللّهُ أَكْبَر ریکارڈنگ میں لگا کر ذبح کیا جا رہا ہے۔ چونکہ اکثر شرعی اصولوں کا لحاظ نہیں رکھا جا رہا۔ اس طرح کے ذبیحہ کا کیا حکم ہے؟3: دوسرے مذاہب کے لوگوں کے ساتھ شراکت داری یا کاروبار کے ذریعے گوشت فروخت کرنا کیسا ہے؟ افسوس کہ کئی جگہوں پر گدھوں اور کتوں وغیرہ کا گوشت وافر مقدار میں مسلم و غیر مسلم ہوٹلوں پر پکاکر بیچا جا رہا ہے اور عام لوگوں، اور مسافروں کو کھلایا جارہا ہے ۔4: پیکیڈ اور منجمد گوشت کا استعمال کرنا کیسا ہے ؟کیونکہ عام لوگ اس بات کی زیادہ تحقیق نہیں کرتے کہ گوشت کہاں سے آیا ہےاور کس طرح ذبح کیا گیا ہے، بس اندھا اعتماد کر کے استعمال کر لیتے ہیں ۔ ایسے گوشت پر اعتماد کرنے اور استعمال کرنے کا شرعاً کیا حکم ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

اس کی دو صورتیں ہیں ، دونوں کا حکم الگ ہے۔پہلی صورت: مشین سے جانور کو صرف گرفت میں رکھا جاتا ہو اور اس کو ذبح کرنے والا مسلمان یا متدیّن (مذہبی تعلیمات پر عمل کرنے والا)اہلِ کتاب ہو جو شرعی طریقہ کے مطابق ذبح کرے ، تو اس صورت میں ذبیحہ حلال ہے۔دوسری صورت: ذبح کرنے والی مشین ہو جیسا کہ عموماً ہوتا ہے، اس صورت میں ذبیحہ حلال نہیں۔[2]: شرعی تعلیم یہ ہے کہ ذبح کرنے والا تکبیر پڑھے، یہ طریقہ شرعی طریقہ کے خلاف ہے، اس طرح کا ذبیحہ بھی حلال نہیں۔[3]: اگر اس بات کی تسلی ہو کہ گوشت حلال جانوروں کا ہوتا ہے اور ذبح میں بھی شرعی ہدایات کو ملحوظ رکھا جاتا ہے تو مرزائیوں / قادیانیوں کے علاوہ دیگر مذاہب کے پیروکار افراد کے ساتھ کاروباری شراکت کی جا سکتی ہے۔[4]: اس حوالے سے چند باتیں قابلِ وضاحت ہیں :الف: مسلمان علاقے یا بستی میں فروخت ہونے والے گوشت کے ذابح (ذبح کرنے والے) کے متعلق کوئی علم نہ ہو تو اصل کے اعتبار سے ایسے گوشت کو شرعی طریقے سے ذبح شدہ سمجھا جائے گا اور اس کا کھانا حلال ہوگا۔ہاں اگر معتبر ذریعہ سے ثابت ہو جائے کہ جس جانور کا یہ گوشت ہے اسے غیر شرعی طریقے سے ذبح کیا گیا ہے، مثلاً ذبح کے وقت اللہ تعالیٰ کا نام جان بوجھ کر ترک کیا گیا یا ذبح کا طریقہ ہی غیر اسلامی تھا، تو ایسی صورت میں وہ گوشت حلال نہ ہوگا۔ب: غیر مسلم ممالک سے درآمد شدہ گوشت کا استعمال جائز نہیں ،وہاں شرعی طریقہ سے ذبح نہیں کیا جاتا، اگرچہ گوشت کے پیکٹ پر واضح الفاظ میں لکھا ہو کہ یہ اسلامی طریقہ پر ذبح شدہ ہے۔ ہاں اگر غیرمسلم ملک میں مسلم آبادی ہو اور وہاں گوشت فروخت ہو رہا ہو تو اس کا کھانا حلال ہو گا۔ج: اصولاً اہلِ کتاب(یہودی اور عیسائی) کا ذبیحہ دو شرائط کے ساتھ حلال ہے ۔1: ذبح کرنے والا واقعتاً اہلِ کتاب ہو ، یعنی اپنی مذہبی تعلیمات اور دینی احکامات پر عمل پیرا ہو۔2: شرعی طریقے کے مطابق ذبح کیا ہو۔نوٹ : موجودہ دور کے اکثر مسیحی حقیقی مسیحی نہیں ہیں، انہوں نےاپنے مذہب کے نظریات اور احکامات کو یکسر چھوڑ دیا ہے، اور ذبح کے بارے میں شرعی حدود و قیود کا التزام نہیں کرتے۔ اس لیے موجودہ دور کے نصارٰی کا ذبیحہ حلال نہیں ہے، اس لیے نصارٰی کے بازاروں میں فروخت ہونے والا گوشت (کہ جس کے ذابح کا علم نہ ہو) کھانا حلال نہیں۔ہاں اگر کسی خاص گوشت کے بارے معلوم ہو کہ اس کو مذہبی نصرانی نے شرعی طریقہ کے مطابق ذبح کیا ہے تو اس کا کھانا حلال ہو گا۔د: ایسا سرکاری یا غیر سرکاری ادارہ جو حلال جانوروں کو شرعی طریقہ سے ذبح کرانے کا مکمل اہتمام کرتا ہو اور اس کام کو مکمل دیانت داری سے انجام دیتا ہو، اگر اس ادارہ کی تصدیقی مہر گوشت پر ثبت ہو تو اس ادارہ پر اعتماد کرتے ہوئے اس گوشت کواستعمال کرناجائز ہوگا۔ اگر کبھی اس بات کا حتمی علم ہو جائے کہ غیر شرعی مذبوحہ پر مہر لگائی گئی ہے تو اس صورت میں استعمال جائز نہیں ہو گا۔واللہ اعلم بالصواب

© Copyright 2025, All Rights Reserved