- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
دو خطبوں کے درمیان بیٹھنے میں کیا حکمت ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
عبادت کی روح یہ ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک سنت پر عمل کیا جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو خطبوں کے درمیان کچھ دیر تشریف فرما ہوتے تھے، اس لیے دوخطبوں کے درمیان بیٹھا جاتا ہے۔حضرت عبدالله بن عمر رضی اللہ عنہما روایت فرماتے ہیں:كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ خُطْبَتَيْنِ يَقْعُدُ بَيْنَهُمَاصحیح البخاری: حدیث نمبر928
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (نماز جمعہ کے لیے)دو خطبے دیتے تھے اور ان دونوں کے درمیان بیٹھا کرتے تھے۔حافظ ابو الفضل شہاب الدین احمد بن علی ابن حجر عسقلانی الشافعی رحمہ اللہ (ت852ھ) لکھتے ہیں:واختلف في حكمتها فقيل: للفصل بين الخطبتين ، وقيل للراحة۔فتح الباری:باب القعدۃ بین الخطبتین یوم الجمعۃ، ج2 ص 522
ترجمہ: دو خطبوں کے درمیان بیٹھنے کی حکمت میں علما ءکا اختلاف ہے۔ ایک قول کے مطابق یہ بیٹھنا دونوں خطبوں درمیان فاصلہ کرنے کی خاطر ہے اور ایک قول کے مطابق یہ بیٹھنا سکون وراحت کےلیے ہے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved