- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
حدیث میں مغرب سے پہلے دو رکعت نماز پڑھنے کے متعلق ترغیب وارد ہے، صحابہ کرام کا معمول بھی تھا مغرب سے پہلے دو رکعت پڑھنے کا، اس کے علاوہ صحیح مسلم میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت بھی موجود ہے کہ صحابہ کو مغرب سے قبل نماز پڑھتے ہوئے اللہ کے نبی علیہ الصلوۃ والسلام نے دیکھا تھا لیکن اللہ کے نبی نے انہیں منع نہیں کیا۔ تو فقہاء احناف کا ان احادیث پر عمل کیوں نہیں اور وہ اس عمل سے کیوں منع کرتے ہیں؟ اس کی وضاحت فرما دیں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
غروبِ آفتاب کے بعد مغرب کے فرائض سے پہلے نفل نہ پڑھنے کی چند بنیادی وجوہات حسبِ ذیل ہیں:[1]: یہ نفل پڑھنا بہت سے صحابہ کرام خصوصاً خلفائے راشدین میں سے حضرت ابو بکر ، حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم اجمعین سے ثابت نہیں۔[2]: یہ نفل سنت کا درجہ نہیں رکھتے ، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان نوافل کو سنت کا درجہ دینے کو ناپسند فرمایا ہے۔[3]: ان نوافل میں مشغولیت مغرب کی نماز میں تاخیر کا باعث ہے، جب کہ صحیح احادیث اور اجماعِ امت سے مغرب میں تعجیل (نماز کو جلدی ادا کرنا ) سنت ہے۔چند تصریحات حسبِ ذیل ہیں:1: عَنْ طَاوُوْسٍ قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ، فَقَالَ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا عَلٰى عَهْدِ رَسُوْلِ اللّٰهِ -صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يُصَلِّيْهِمَا. [ ]ترجمہ: طاؤس سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نماز مغرب سے پہلے دو رکعتوں کے متعلق پوچھا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں کسی کو نہیں دیکھا کہ یہ دو رکعتیں پڑھتا ہو۔2: عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ: طُفْنَا فِي نِسَاءِ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْنَاهُنَّ: هَلْ رَأَيْتُنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي هَاتَيْنِ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ حِيْنَ يُؤَذِّنُ الْمُؤَذِّنُ؟ فَقُلْنَ: لَا. [ ]ترجمہ: حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم؛ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پوچھا کہ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے دیکھا ہے جب مؤذن اذان دیتا تھا؟ تو انہوں نے فرمایا: نہیں۔13: عَنْ مَنْصُوْرٍ عَنْ أَبِيْهِ قَالَ: مَا صَلّٰى أَبُوْ بَكْرٍ وَلَا عُمَرُ وَلَا عُثْمَانُ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ. [ ]ترجمہ: منصور اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ مغرب سے پہلے دو رکعتیں نہیں پڑھتے تھے۔شیخ الاسلام مولانا ظفر احمد عثمانی رحمہ اللہ (ت1394ھ) تحریر فرماتے ہیں:فَالْجَوَابُ الصَّحِيْحُ الْمُحَقَّقُ أَنَّه لَا يُنْكَرُ جَوَازُ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ، وَإِنَّمَا يُنْكَرُ وَضْعُهُمَا فِي مَوْضِعِ السُّنَّةِ. وَيَدُلُّ عَلَىٰ ذٰلِكَ حَدِيثُ الْبُخَارِيِّ، وَفِيْهِ: «صَلُّوْا قَبْلَ الْمَغْرِبِ»،ثُمَّ قَالَ فِي الثَّالِثَةِ: «لِمَنْ شَاءَ»، كَرَاهِيَةً أَنْ يَتَّخِذَهَا النَّاسُ سُنَّةً.وَصِيغَةُ الْأَمْرِ فِيْهِ مَحْمُوْلَةٌ عِنْدَنَا عَلَى الْإِبَاحَةِ وَالْجَوَازِ، لِأَنَّ الْوُجُوبَ مُنْتَفٍ بِقَوْلِهٖ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ: «لِمَنْ شَاءَ». وَقَدْ جَاءَ فِي هٰذَا الْبَابِ مَا يَنْفِي النُّدُبَ أَيْضًا، كَمَا سَيَأْتِي، فَحَمَلْنَا الْأَمْرَ عَلَى الْأَقَلِّ الْمُتَيَقَّنِ، وَهُوَ الْإِبَاحَةُ. فَارْتَفَعَ التَّعَارُضُ، لِأَنَّ الْمُبَاحَ لَا يُلَامُ عَلَى تَرْكِهٖ، فَمَنْ شَاءَ فَعَلَ، وَمَنْ شَاءَ تَرَكَ. فَذَكَرَ أَنَسٌ رَضِيَ اللّٰہُُ عَنْهُ صَلَاةَ مَنْ رَآهُ يُصَلِّيْ، وَذَكَرَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللّٰہُُ عَنْهُمَا فِعْلَ مَنْ لَمْ يُصَلِّ، فَتَوَافَقَتِ الْآثَارُ، وَلِلہِ الْحَمْدُ۔ترجمہ:درست اور تحقیق شدہ جواب یہ ہے کہ مغرب سے پہلے دو رکعت پڑھنے کے جواز کا انکار نہیں کیا گیا،بلکہ ان رکعتوں کو سنت کے درجے میں شمار کرنے کا انکار کیا گیا ہے۔ اس پر صحیح بخاری کی حدیث سے دلیل ملتی ہے، جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”مغرب سے پہلے نماز پڑھو“ پھر تیسری بار ارشاد فرمایا: ” جو چاہے وہ پڑھے “۔ اس بات کو ناپسند کرتے ہوئے کہ کہیں لوگ اس عمل کو سنت نہ سمجھ بیٹھیں۔اس حدیث میں جو امر کا صیغہ (صَلُّوْا) وارد ہوا ہے، وہ ہمارے نزدیک جواز اور اباحت پر محمول ہے، کیونکہ وجوب کا مفہوم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد” لِمَنْ شَاءَ “ سے ختم ہو جاتا ہے۔ مزید یہ کہ اس باب میں ایسی روایات بھی آئی ہیں جو استحباب کی نفی کرتی ہیں،جیسا کہ آگے ذکر ہوگا۔ لہٰذا ہم نے اس عمل کو ادنیٰ یقینی درجہ یعنی اباحت (جائز اور اختیاری عمل) پر محمول کیا ہے۔ اس طرح احادیث کے درمیان (بظاہر)تعارض ختم ہو گیا، کیونکہ مباح ایسا عمل ہوتا ہے جس کے ترک پر کوئی ملامت نہیں کی جاتی۔پس جو چاہے وہ دو رکعتیں مغرب سے پہلے پڑھ لے، اور جو چاہے چھوڑ دے۔ چنانچہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کا ذکر کیا جنہیں انہوں نے یہ رکعتیں پڑھتے ہوئے دیکھا،اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ان کا تذکرہ کیا جو یہ رکعتیں نہیں پڑھتے تھے۔ پس دونوں طرح کی احادیث میں مطابقت ہو گئی، اور تمام تعریف اللہ ہی کے لیے ہے۔وَقَدْ أَجْمَعَتِ الأُمَّةُ عَلَىٰ أَنَّ التَّعْجِيْلَ فِي صَلَاةِ الْمَغْرِبِ سُنَّةٌ، كَمَا مَرَّ، وَاخْتَلَفَتِ الأَقْوَالُ فِي التَّنَفُّلِ قَبْلَهَا، فَذَهَبَ بَعْضُهُمْ إِلَى اسْتِحْبَابِهٖ، وَأَنْكَرَهُ الْمَالِكِيَّةُ، وَقَالَ النَّخَعِيُّ: إِنَّه‘ بِدْعَةٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنِ الْخُلَفَاءِ الأَرْبَعَةِ وَجَمَاعَةٍ مِنَ الصَّحَابَةِ أَنَّهُمْ كَانُوا لَا يُصَلُّوْنَهَا. (عُمْدَةُ الْقَارِيْ) فَرَجَّحَتِ الْحَنَفِيَّةُ أَحَادِيثَ التَّعْجِيْلِ، لِقِيَامِ الإِجْمَاعِ عَلٰى كَوْنِهٖ سُنَّةً، وَكَرِهُوا التَّنَفُّلَ قَبْلَهَا، لِأَنَّ فِعْلَ الْمُبَاحِ أَوِ الْمُسْتَحَبِّ إِذَا أَفْضٰى إِلَى الإِخْلَالِ بِالسُّنَّةِ يَكُوْنُ مَكْرُوْهًا، وَلَا يَخْفٰى أَنَّ الْعَامَّةَ لَوِ اعْتَادُوْا صَلَاةَ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ لَیُخِلُّوْنَ بِالسُّنَّةِ حَتْمًا، وَیُؤَخِّرُوْنَ الْمَغْرِبَ عَنْ وَقْتِهَا قَطْعًا۔
ترجمہ:امت کا اس بات پر اجماع ہے کہ مغرب کی نماز میں جلدی کرنا سنت ہے، جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا۔ البتہ مغرب سے پہلے نفل پڑھنے کے بارے میں آراء مختلف ہیں۔کچھ علماء نے اسے مستحب کہا،جبکہ مالکیہ نے اس کی نفی کی، اور امام نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ بدعت ہے۔ یہ بھی روایت ہے کہ خلفائے راشدین اور کئی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مغرب سے پہلے نفل نہیں پڑھتے تھے۔ چنانچہ حنفیہ نے مغرب میں جلدی کرنے والی احادیث کو ترجیح دی، کیونکہ اس پر امت کا اجماع ہے کہ تعجیل سنت ہے۔ اسی بنیاد پر انہوں نے فرض سے پہلے نفل کو مکروہ قرار دیا،کیونکہ اگر کوئی مباح یا مستحب عمل سنت کے ترک یا تاخیر کا باعث بن جائے، تو وہ مکروہ ٹھہرتا ہے۔اور یہ بات پوشیدہ نہیں کہ اگر عام لوگ مغرب سے پہلے دو رکعت پڑھنے کے عادی بن جائیں تو وہ یقیناً سنتِ تعجیل میں خلل انداز ہوں گےاور وہ مغرب کی نماز کو اس کے اوّل وقت سے مؤخر کر دیں گے۔فَحَاصِلُ الجَوَابِ أَنَّ التَّنَفُّلَ قَبْلَ المَغْرِبِ مُبَاحٌ فِي نَفْسِهٖ، وَإِنَّمَا قُلْنَا بِكَرَاهَتِهٖ نَظَرًا إِلَى العَوَارِضِ، فَالكَرَاهَةُ عَارِضَةٌ، وَلَا مُنَافَاةَ بَيْنَهُمَا، فَرُبَّ أَمْرٍ مُبَاحٍ أَوْ مُسْتَحَبٍّ يُمْنَعُ فِيهِ إِذَا أَفْضَى إِلَى المَفْسَدَةِ.اعلاء السنن: ج 2 ص 68 مبحث الرکعتین قبل المغرب
ترجمہ:پس خلاصۂ جواب یہ ہے کہ مغرب سے پہلے نفل پڑھنا بذاتِ خود مباح ہے، مگر ہم نے اسے عوارض کے لحاظ سے مکروہ کہا ہے، پس یہ کراہت خارجی سبب کی بنا پر لاحق ہے۔ اور ان دونوں (اباحت و کراہت) میں کوئی تضاد نہیں، کیونکہ بسا اوقات کوئی مباح یا مستحب عمل بھی ممنوع قرار دیا جاتا ہے جب وہ کسی خرابی یا مفسدہ کا سبب بن جائے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved