• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

رکھشا بندھن تہوار کے موقع پر مسلم خواتین کا عمومی پیشکش اور سہولت سے فائدہ اٹھانا کیسا ہے؟

استفتاء

ہمارے یہاں انڈیا میں غیر مسلموں کا ایک تہوار ہوتا ہے، جس کو؛ رکھشا بندھن کہا جاتا ہے۔ اس میں غیر مسلم خواتین اپنے بھائیوں کو راکھی باندھتی ہیں۔ اسی اثناء میں حکومت کی طرف سے ایک پیکیج ہوتا ہے تمام خواتین کے لئے کہ وہ جہاں کہیں بھی بس سے سفر کریں گی تو ان سے کرایہ نہیں لیا جائے گا اور یہ فقط غیر مسلموں کے تہوار رکشا بندھن پر ہی ہوتا ہے ہمارے تہوار عید الفطر اور عید الاضحیٰ پہ ایسا کوئی پیکیج حکومت نہیں دیتی ہے۔تو میرا سوال ہے کہ یہ جو مسلمان خواتین بھی بطورِ خاص رکشا بندھن والے دن سفر کرتی ہیں تاکہ کرایہ نہ دینے والی سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں اور اسی طرح ایسے تہواروں میں بہت سی چیزوں پر بھی ڈسکاؤنٹ ہوتا ہے اور لوگ بطور خاص ایسے مواقع میں اس کو خریدتے ہیں تو کیا یہ کرنا صحیح ہے یا یہ بھی من تشبہ بقوم فھو منھم کے زمرے میں آئے گا ۔ برائے مہربانی آگاہ فرمائیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

اس موقع پر مخصوص پیشکش اور سہولت سے مسلم خواتین بھی فائدہ اٹھا سکتی ہیں، بشرطیکہ ان سہولیات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے چند امور کی پابندی ہو۔1: رسوم و رواج کا ارتکاب نہ کرنا پڑتا ہو۔2: کفر کی نفرت دل میں پختہ رہے۔3: کسی بھی لمحے دل میں کفر یہ و شرکیہ افعال کے لیے نرم گوشہ پیدا نہ ہو۔واللہ اعلم بالصواب

© Copyright 2025, All Rights Reserved