- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
میں نے ایک بائیک فنانس پر خریدی تھی، جس کی چھ ماہ کی قسط 50,000 روپے ہو گئی ہے، جو میں جمع نہیں کر پا رہا ہوں۔ دو بار پولیس نے میری بائیک پکڑی، تو میں نے 6,000 روپے دے کر بائیک چھڑوا لی۔لیکن ایک دن میرے سسر صاحب میری بائیک لے کر چلے گئے، تو راستے میں پولیس نے بائیک پکڑ لی اور اپنے ساتھ لے گئی۔ اب میرا سوال یہ ہے کہ کیا میرے سسر صاحب کے ذمے کیا ادا کرنا ہوگا؟ یعنی کل رقم یعنی 50,000 یا کچھ اور ؟ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
آپ کے سسر آپ کی اجازت سے موٹر سائیکل لے گئے ہوں، (آپ نےاسی وقت اجازت دی ہو یا پہلے سے استعمال کی اجازت دے رکھی ہو) اورموٹر سائیکل پکڑے جانے میں ان کی طرف سے کوئی عمل دخل نہ ہو ، یعنی ان کی طرف سے قانون کی خلاف ورزی یا کسی اور غلطی کے نتیجے میں نہ پکڑی گئی ہو ، تو اس صورت میں آپ کے سسر پر کوئی ضمان لازم نہ ہو گی۔ موٹر سائیکل آپ خود اپنے پیسوں سے چھڑوائیں گے۔ ہاں اگر آپ کے سسر ؛ اَز راہِ ہمدردی آپ کو رقم دیں تو آپ قبول کر سکتے ہیں۔[2]: آپ کے سسر آپ کی اجازت کے بغیر موٹر سائیکل لے گئے ہوں یا ان کی کسی غلطی کی وجہ سے موٹر سائیکل ضبط کی گئی ہو تو اس صورت میں ان پر ضمان لازم ہو گی، اور یاد رہے کہ وہ صرف اتنی رقم کے ضامن ہوں گے جتنی رقم موٹر سائیکل کو چھڑوانے میں خرچ ہو گی۔ اس سے زائد رقم یا موٹر سائیکل کی مکمل قیمت کے وہ ضامن نہ ہوں گے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved