• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

میرے شوہر نے غصہ میں مجھے تینوں طلاقیں ایک ساتھ دے دی ہیں ، اب کیا حکم ہے؟

استفتاء

مجھے میرے شوہر نے ایک بار طلاق دی تھی مگر بقول اس کے وہ شرطیہ طلاق تھی اس لیے وہ طلاق نہیں ہوئی ہے کیونکہ وہ شرط پوری کی گئی تھی۔مگر پھر اس کے کچھ عرصہ بعد ہماری لڑائی ہو رہی تھی تو اس نے مجھے دو بار فون پر زبانی طلاق دی اور تیسری بار زور دے کر پوچھا کہ طلاق دو ں؟ طلاق دو؟ تو میں نے کہا کہ ہاں دے دو! اور یوں اس نے تیسری طلاق بھی دے دی یعنی تین طلاقیں ایک ساتھ دے دیں ۔ میں باہر ملک میں جاب کرتی ہوں ، میں ان سے علیحدہ ہوگئی ہوں۔مگر اب وہ یہاں پر آیا ہوا ہے اور کہہ رہا ہے کہ تم میری بیوی ہو اور ہماری طلاق چونکہ غصہ کی حالت میں ہوئی تھی اس لیے وہ طلاقیں واقع نہیں ہوئی ہیں ۔ وہ اس بات پر بضد ہے کہ تم میرے ساتھ رہو جب کہ میں اس کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی۔مجھے اس حوالے سے درج ذیل باتوں کی وضاحت مطلوب ہے :1 : یہ تینوں طلاقیں واقع ہو چکی ہیں یا ایک ہوئی ہے ؟2 : میں اپنے شوہر پر حرام ہو چکی ہوں یا نہیں ؟3 : اب میرے شوہر کو ؛ رجوع کا حق حاصل ہے یا نہیں ؟ کیا اس کا یہ دعویٰ درست ہے کہ میں اب بھی اس کی بیوی ہوں اور حلال ہوں ان پر؟اس مسئلہ کی دلائل کے ساتھ رہنمائی فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیراً۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

آپ کے سوالات کے بالترتیب جوابات یہ ہیں:[1]: آپ کے شوہر نے چونکہ صریح الفاظ کے ساتھ آپ کو تینوں طلاقیں دے دی ہیں، اس لیے یہ تینوں طلاقیں واقع ہو گئی ہے۔[2]: تین طلاقوں کے بعد آپ اپنے شوہر پر بالکل حرام ہو چکی ہیں۔ تین طلاقوں کے بعد آپ دونوں کا اکٹھے رہنا سراسر ؛ نا جائز اور حرام ہے۔[3]: اب آپ کے شوہر کے پاس رجوع کا کوئی حق نہیں ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ طلاقیں واقع نہیں ہوئیں کیونکہ غصہ میں دی تھیں، یہ سراسر غلط بات ہے جو قرآن و سنت کے سراسر منافی ہے۔یاد رہے کہ طلاق غصہ میں دی جائے یا خوشی میں، سنجیدگی میں دی جائے یا مذاق میں، طلاق کا لفظ بولتے وقت نیت ہو یا نہ ہو ، طلاق ہر حال میں واقع ہو جاتی ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےارشاد فرمایا:ثَلاَثٌ جِدُّهُنَّ جِدٌّ وَهَزْلُهُنَّ جِدٌّ النِّكَاحُ وَالطَّلاَقُ وَالرَّجْعَةُسنن ابی داؤد: حدیث نمبر 2196
ترجمہ: تین چیزیں ایسی ہیں کہ ان میں سنجید گی بھی سنجیدگی ہے اور ان میں مذاق بھی سنجیدگی ہے ، وہ ( تین چیزیں) نکاح ، طلاق اور رجعت ( ایک یا دو طلاق کے بعد رجوع کرنا) ہے۔جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ایک دن میں یا ایک ہی مجلس میں دی گئی تین طلاقیں ایک ساتھ واقع نہیں ہوتیں، ان کا موقف سراسر غلط ہے۔ قرآن کریم ، احادیث مبارکہ ، خلفاء راشدین اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اقوال سے ایک مجلس کی تین طلاقوں کا تین ہونا ثابت ہے، نیز اہل السنۃ والجماعۃ کے فقہاء کرام و مجتہدین عظام رحمہم اللہ کا بھی یہی فیصلہ ہے اور چاروں مذاہب کے ائمہ کرام کا بھی اسی بات پر اجماع و اتفاق ہے کہ ایک مجلس میں متفرق الفاظ سے، ایک ہی کلمہ سے یا مختلف مجالس میں دی گئی تین طلاقیں تین ہی شمار ہوتی ہیں ۔چند دلائل حسبِ ذیل ہیں:قرآن مجید مع التفسیر:
آیت نمبر1: اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوْفٍ أَوْ تَسْرِيْحٌ بِإِحْسَانٍ﴾(سورۃ البقرہ :229)
ترجمہ: طلاق دو با رہونی چاہیے۔ اس کے بعد شوہر یا تو قاعدے کے مطابق بیوی کو روک رکھے یا خوش اسلوبی سے چھوڑ دے۔استدلال و تفسیر:[۱]: امام محمد بن اسما عیل البخا ری رحمۃ اللہ علیہ(ت256ھ) تین طلا ق کے وقوع پر مذکورہ آیت سے استدلال کر تے ہوئے باب قائم فرماتے ہیں:”بَابُ منْ اَجَازَ طَلَاقَ الثَّلَاثِ‘‘[وَفِیْ نُسْخَۃ :باب من جوَّز طلاق الثلاث ] لقولہ تعالیٰ : أَلطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ .“(صحیح البخاری: ج2 ص791)
ترجمہ: باب؛ جس نے تین طلاقیں دیں تو وہ واقع ہو جائیں گی اس لیے کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿أَلطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ﴾[۲]:شارح بخاری علامہ قسطلانی رحمہ اللہ صحیح البخاری کے اس باب کا عنوان قائم کر کے ﴿أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ﴾ کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:وہذا عام یتناول ایقاع الثلاث دفعۃ واحدۃ وقد دلت الآیۃ علی ذلک من غیر نکیر…………(ارشاد الساری: ج8 ص157)
ترجمہ: اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ﴾ سے (جس طرح یہ ثابت ہوتا ہے کہ تین طلاقیں متفرق طور پر دی جائیں تو واقع ہو جاتی ہیں، اسی طرح) یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ تین طلاقیں اکٹھی دی جائیں تو بھی واقع ہو جاتی ہیں، اس آیت سے یہی ثابت ہوتا ہے اور اس میں کسی کا انکار منقول نہیں۔[۳]: امام ابو عبد اللہ محمد بن احمد الانصا ری القرطبی رحمہ اللہ اس آ یت کی تفسیر کر تے ہو ئے فرماتے ہیں:قال علماؤنا واتفق ائمۃ الفتویٰ علیٰ لزوم ایقاع الطلاق الثلاث فی کلمۃ واحدۃ•(الجامع لاحکا م القر آن للقرطبی :ج1ص492)
ترجمہ: ہمارے علماء بھی یہی فرماتے ہیں اور فتویٰ دینے والے ائمہ بھی اس بات پر متفق ہیں کہ تین طلاقیں ایک کلمہ سے دی جائیں تو تین ہی واقع ہوتی ہیں۔آیت نمبر2: اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:Īفَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُĨ(البقرۃ: 230)
ترجمہ: پھر اگر شوہرتیسری طلاق بھی دے دے تووہ مطلقہ عورت اس کے لیے اس وقت تک حلال نہیں ہوگی جب تک وہ کسی اور شوہر سے نکاح نہ کرے۔استدلال و تفسیر:[۱]: مشہور صحابی اور مفسر قرآن حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت سے استدلال کرتے ہوئے فرماتے ہیں:اِنْ طَلَّقَھَا ثَلَاثًا فَلَا تَحِلُّ لَہُ حَتّٰی تَنْکِحَ زَوْجًاغَیْرَہُ.(السنن الکبری للبیہقی: ج7ص376 باب نکاح المطلقۃ ثلاثاً)
ترجمہ: اگر کوئی اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے تو وہ اس کے لیے اس وقت تک حلال نہیں ہوگی جب تک وہ کسی اور شوہر سے نکاح نہ کرے۔[۲]: علامہ ابن حزم اس آیت سے استدلال کرتے ہوئے لکھتے ہیں:قول اللہ تعالیٰ: ﴿فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهٗ﴾ فَهٰذَا يَقَعُ عَلَى الثَّلاثِ مَجْمُوعَةً وَمُفَرَّقَةً، وَلا يَجُوزُ أَنْ يُخَصَّ بِهَذِهِ الآيَةِ بَعْضُ ذَلِكَ دُونَ بَعْضٍ بِغَيْرِ نَصٍّ..(المحلیٰ لابن حزم: ج9 ص394 كتاب الطلاق مسألۃ1945)
ترجمہ: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهٗ﴾ ان تین طلاقوں پربھی صادق آتا ہے جو اکٹھی ہوں اور ان پر بھی سچا آتا ہے جو متفرق طور پر ہوں، اور بغیر کسی نص (دلیل) کے اس آیت کو تین اکٹھی طلاقوں کو چھوڑ کر صرف متفرق کے ساتھ مخصوص کر دینا صحیح نہیں ہے۔[۳]: مشہور فقیہ امام محمد بن ادریس شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’وَالْقُرْآنُ یَدُلُّ_وَاللّٰہُ اَعْلَمُ _عَلٰی اَنَّ مَنْ طَلَّقَ زَوْجَۃً لَّہُ دَخَلَ بِھَا اَوْلَمْ یَدْخُلْ بِھَاثَلَاثًالَمْ تَحِلَّ لَہُ حَتّٰی تَنْکِحَ زَوْجاً غَیْرَہُ‘‘(کتاب الام للامام محمد بن ادریس الشافعی: ج2ص1939)
ترجمہ: قرآن کریم سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جس شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی، خواہ اس سے ہمبستری کی ہو یا نہ کی ہو تووہ عورت اس شخص کے لیے اس وقت تک حلال نہیں ہوگی جب تک کہ وہ کسی اورشوہر سے نکاح نہ کرے۔احادیث مبارکہ:[۱]: عَنِ ابْنِ شِہَابٍ اَنَّ سَھْلَ بْنَ سَعْدٍ السَاعِدِیَّ اَخْبَرَہُ……قَالَ عُوَیْمَرُرَضِیَ اللہُ عَنْہُ کَذَبْتُ عَلَیْھَا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ! اِنْ اَمْسَکْتُھَا فَطَلَّقَھَا ثَلاَ ثًا قَبْلَ اَنْ یَّامُرَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ (وَفِیْ رِوَایَۃِ اَبِیْ دَاؤُدَ)قَالَ:فَطَلَّقَھَاثَلاَثَ تَطْلِیْقَاتٍ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ فَاَنْفَذَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ.(صحیح البخاری ج2ص306 باب من اجاز طلاق الثلاث، سنن ابی داؤد ج 1ص324 باب فی اللعان – وقال الالبانی: صحیح رقم 2252)
ترجمہ: حضرت سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ حضرت عویمر رضی اللہ عنہ نے(جب اپنی بیوی سے لعان کیا توحضور صلی اللہ علیہ و سلم کی موجودگی میں) کہا: یارسول اللہ! اگر اب بھی میں اس عورت کو اپنے گھر میں رکھوں تو گویا میں نے اس پر جھوٹا بہتان باندھا۔ یہ کہہ کر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم دینے سے پہلے ہی اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں۔(سنن ابی داؤد کی روایت میں ہے کہ) عویمرنے اپنی بیوی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی موجودگی میں تین طلاقیں دیں توآپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان طلاقوں کو نافذ بھی کردیا۔اس سے معلوم ہوا کہ حضرت عویمر رضی اللہ عنہ نے ایک مجلس میں تین طلاقیں دی تھیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کو نافذ فرما دیا تھا۔ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ”با ب من اجاز طلاق الثلاث‘‘ [باب؛ جس نے تین طلاق دی تو وہ واقع ہو جائے گی] کے تحت اس روایت کو لائے ہیں۔ ثابت ہوا کہ امام بخاری رحمہ اللہ بھی اس بات کے قائل ہیں کہ تین طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں اگرچہ ایک مجلس میں دی گئی ہوں۔[۲]: عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا اَنَّ رَجُلاً طَلَّقَ امْرَأتَہُ ثَلٰثاً فَتَزَوَّجَتْ فَطَلَّقَ فَسُئِلَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ اَتَحِلُّ لِلْاَوَّلِ؟ قَالَ:لَاحَتّٰی یَذُوْقَ عُسَیْلَتَھَا کَمَا ذَاقَ الْاَوَّلُ.(صحیح البخاری ج2ص791باب من اجاز طلاق الثلاث، السنن الکبری للبیہقی ج7 ص334 باب ما جاء فی امضاء الطلاق الثلاث و ان کن مجموعات)
ترجمہ: ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں،اُس عورت نے دوسرے شخص سے نکاح کر لیا۔ دوسرے شخص نے بھی اس کو طلاق دے دی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم سے دریافت کیا گیاکہ کیا یہ عورت پہلے شخص کے لیے حلال ہو گئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’نہیں!جب تک پہلے شوہر کی طرح دوسرا شخص بھی اس کا ذائقہ نہ چکھ لے۔‘‘امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس پر باب باندھا: ”با ب من اجاز طلاق الثلاث‘‘ [باب؛ جس نے تین طلاق دی تو وہ واقع ہو جائے گی]، امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ اس روایت کو ”باب ما جاء فی امضاء الطلاق الثلاث و ان کن مجموعات“ [باب : تین طلاقیں تین ہی واقع ہوتی ہیں اگرچہ اکٹھی دی جائیں] میں لائے ہیں اور حا فظ ابن حجر عسقلا نی رحمۃ اللہ علیہ اس روایت کی شرح میں لکھتے ہیں:فا لتمسک بظاہر قولہ ”طلقہا ثلاثاً “فا نہ ظاہر فی کونہا مجموعۃ•(فتح الباری لا بن حجر :ج9ص455باب من جوز الطلاق الثلاث)
تر جمہ: اس روا یت کے الفا ظ ”فطلقہا ثلاثاً“ سے استدلال کیا گیا ہے (کہ تین طلاقیں تین شمار ہوتی ہیں) کیو ں کہ یہ الفاظ اس بارے میں بالکل ظاہر ہیں کہ اس شخص نے تین طلا قیں اکٹھی دی تھیں۔[۳]: عَنِ الْحَسَنِ قَالَ نَاعَبْدُاللّٰہِ بْنُ عُمَرَرَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمَا أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ تَطْلِيقَةً وَهِىَ حَائِضٌ ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يُتْبِعَهَا بِتَطْلِيقَتَيْنِ أُخْرَاوَيْنِ عِنْدَ الْقَرْئَيْنِ الْبَاقِيَيْنِ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ فَقَالَ : يَا ابْنَ عُمَرَ مَا هَكَذَا أَمَرَ اللَّهُ إِنَّكَ قَدْ أَخْطَأْتَ السُّنَّةَ وَالسُّنَّةُ أَنْ تَسْتَقْبِلَ الطُّهْرَ فَتُطَلِّقَ لِكُلِّ قَرْءٍ. قَالَ : فَأَمَرَنِى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ فَرَاجَعْتُهَا ثُمَّ قَالَ:« إِذَا هِىَ طَهَرَتْ فَطَلِّقْ عِنْدَ ذَلِكَ أَوْ أَمْسِكْ فَقُلْتُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ! رَأیْتَ لَوْاَنِّیْ طَلَّقْتُھَاثَلاَثاً کَانَ یَحِلُّ لِیْ أنْ اُرَاجِعَھَا؟قَالَ لَاکَانَتْ تَبِیْنُ مِنْکَ وَتَکُوْنُ مَعْصِیَۃً•(سنن الدارقطنی: ج4ص20 حدیث نمبر3929- وسندہ صحیح)
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی کو حالتِ حیض ایک طلاق دے دی پھر ارادہ کیاکہ باقی دوطلاقیں بھی بقیہ دوقرء (حیض یا طہر) کے وقت دے دیں گے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کو اس کی خبرہوئی توآپ صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہا سے فرمایا:’’تجھے اللہ تعالیٰ نے اس طرح تو حکم نہیں دیا، تو نے سنت کے مطابق نہیں کیا۔ سنت تویہ ہے کہ جب پاکی کا زمانہ آئے تو ہر طہرکے وقت اس کوطلاق دے۔“ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضوراقدس صلی اللہ علیہ و سلم نے مجھے حکم دیاکہ تو رجوع کرلے! چنانچہ میں نے رجوع کرلیا۔ پھرآپ صلی اللہ علیہ و سلم نے مجھ سے فرمایا:’’جب تیری بیوی کا پاکی کا زمانہ آئے تو(مرضی ہو تو) اس کوطلاق دے دینا اورمرضی ہوتو بیوی بناکررکھ لینا۔ اس پرمیں نے عرض کیا: یارسول اللہ ! یہ تو بتلائیں کہ اگر میں اس کو تین طلاقیں دے دیتا تو کیا اس سے رجوع کرنا میرے لیے حلال ہوتا؟ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:نہیں! وہ تجھ سے جدا ہوجاتی اورگناہ بھی ہوتا۔[۴]: عَنْ سُوَیْدِ بْنِ غَفْلَۃَ قَالَ کَانَتْ عَائِشَۃُ الْخَثْعَمِیَّۃُ عِنْدَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِیِّ بْنِ أَبِیْ طَالِبٍ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُ فَلَمَّا اُصِيْبَ عَلِىٌّ وَبُوْيِعَ الْحَسَنُ بِالْخِلَافَةِ قَالَتْ : لِتَهْنِئْكَ الْخِلاَفَةُ يَا أَمِيْرَ الْمُؤْمِنِيْنَ فَقَالَ : یُقْتَلُ عَلِىٌّ وَ تُظْهِرِينَ الشَّمَاتَةَ اذْهَبِى فَأَنْتِ طَالِقٌ ثَلاَثًا قَالَ: فَتَلَفَّعَتْ نِسَاجَهَا وَقَعَدَتْ حَتَّى انْقَضَتْ عِدَّتَهَا وَبَعَثَ إِلَيْهَا بِعَشْرَةِ آلاَفٍ مُتْعَةً وَ بَقِيَّةٍ بَقِيَ لَهَا مِنْ صَدَاقِهَا فَقَالَتْ : مَتَاعٌ قَلِيلٌ مِنْ حَبِيبٍ مُفَارِقٍ فَلَمَّا بَلَغَهُ قَوْلُهَا بَكَى وَقَالَ لَوْلَاأَنِیْ سَمِعْتُ جَدِّیْ أوْحَدَّثَنِیْ أَبِیْ أَنَّہُ سَمِعَ جَدِّیْ یَقُوْلُ أَیُّمَا رَجُلٍ طَلَّقَ اِمْرَأَتَہُ ثَلاَثاً مُبْھَمَۃً أَوْثَلاَثاً عِنْدَ الْاِقْرَائِ لَمْ تَحِلَّ لَہُ حَتّٰی تَنْکِحَ زَوْجاً غَیْرَہُ لَرَاجَعْتُهَا.(سنن الدارقطنی ج4ص20 حدیث نمبر3927 کتاب الطلاق و الخلع و الطلاق- اسنادہ صحیح)
ترجمہ: حضرت سوید بن غفلہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ خثعمیہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے نکاح میں تھیں جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کو شہید کردیا گیا اور حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے ہاتھ پر لوگوں نے بیعت کرکے ان کو اپنا خلیفہ منتخب کرلیا تو اس موقع پر عائشہ خثعمیہ نے آپ کوکہا :’’ اے امیر المؤمنین! آپ کو خلافت مبارک ہو۔“ اس پر حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایاکہ ”کیا یہ مبارک باد حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت پر ہے؟ تو اس پر خوشی کا اظہارکر رہی ہے؟ جا!تجھے تین طلاقیں ہیں“ اس نے اپنی عدت کے کپڑے اوڑھ لیے اور وہیں عدت گزار دی۔عدت گزرنے پرحضرت حسن رضی اللہ عنہ نے اس کو دس ہزار اور بقیہ مہر(جو ابھی ادا نہیں ہوا تھا) دے دیا۔ جب اس کو یہ رقم ملی تو وہ کہنے لگی: ”بچھڑنے والے دوست کی طرف سے یہ مال کم ملاہے۔“ جب حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو اس بات کی اطلاع ہوئی تو آپ رو دیے اور فرمایاکہ اگر میں نے اپنے نانا جان جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے یہ نہ سنا ہوتا- یا یہ فرمایا کہ مجھے میرے والد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے میرے نانا جان کی یہ حدیث اگر نہ سنائی ہوتی- کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: ’’جو شخص اپنی بیوی کو ایک دفعہ تین طلاقیں دے دے یاتین طہروں میں تین طلاقیں دے دے تو وہ اس کے لیے حلال نہیں ہوتی جب تک وہ کسی اور شوہر سے نکاح نہ کرے۔ “ تو میں ضروراس سے رجوع کرلیتا۔[۵]: عَنْ أَنَسٍ قَالَ کَانَ عُمَرُ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُ اِذَااُتِیَ بِرَجُلٍ قَدْ طَلَّقَ اِمْرَأتَہُ ثَلاَثاً فِیْ مَجْلِسٍ أَوْجَعَہُ ضَرْباً وَفَرَّقَ بَیْنَھُمَا۔(مصنف ابن ابی شیبہ ج4ص 11 باب من کرہ ان یطلق الرجل امرأتہ ثلاثا)
ترجمہ: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:’’حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس جب کوئی ایسا آدمی لایا جاتا جس نے اپنی بیوی کو ایک مجلس میں تین طلاقیں دی ہوتیں توحضرت عمر اس کو سزا دیتے اوران میاں بیوی کے درمیان جدائی کردیتے تھے۔‘‘[۶]: عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي یَحْيٰى قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إلَى عُثْمَانَ فَقَالَ : إنِّي طَلَّقْت امْرَأَتِي مِئَةً ، قَالَ : ثَلاَثٌ يُحَرِّمْنَهَا عَلَيْك ، وَسَبْعَةٌ وَتِسْعُونَ عُدْوَانٌ.(مصنف ابن ابی شیبہ :ج4ص13باب ما جا ء یطلق امرأتہ مائۃ او الف فی قول وا حد- اسنادہ صحیح و رجالہ ثقات، مثلہ فی مصنف عبد الرزاق :ج6ص306 باب المطلق ثلاثاً- واسنا دہ صحیح علیٰ شرط البخا ری ومسلم)ترجمہ: حضرت معاویہ بن ابی یحییٰ فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا: ”میں نے اپنی بیوی کو ایک سو طلاقیں دی ہیں۔“حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تین طلاقوں نے تیری بیوی تجھ پر حرام کر ڈالی ہے اور باقی ستانوے زیادتی اورظلم ہیں۔[۷]: عَنْ شَرِیْکِ بْنِ أَبِیْ نَمْرٍقَالَ جَائَ رَجُلٌ اِلٰی عَلِیٍّ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ اِنِّیْ طَلَّقْتُ اِمْرَأتِیْ عَدَدَ الْعَرْفَجِ۔ قَالَ تَاْخُذْ مِنَ الْعَرْفَجِ ثَلاَثاً وَتَدْعُ سَائِرَہُ۔(مصنف عبدالرزاق ج6ص306 حدیث نمبر 1 1385باب المطلق ثلاثا- اسنا دہ صحیح علیٰ شرط البخاری ومسلم، و مثلہ فی مصنف ابن ابی شیبۃ: ج4ص12 باب فی الرجل یطلق امراتہ ماۃ او الفا فی قول واحد- اسنادہ صحیح علیٰ شرط البخا ری ومسلم)
ترجمہ: شریک بن ابی نمر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:’’ ایک آدمی حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس آیااورکہنے لگاکہ میں نے اپنی بیوی کوعرفج درخت کے عدد کے برابر طلاق دی ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’عرفج درخت سے تین کو لے لے اور باقی تمام چھوڑ دے۔‘‘
[۸]: قَالَ الْاِمَامُ الْاَعْظَمُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ الْفَقِیْہُ الْکَبِیْرُ أَبُوْحَنِیْفَۃَ نُعْمَانُ بْنُ ثَابِتٍ التَّابِعِیُّ الْکُوْفِیُّ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِیْ حُسَیْنٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ دِیْناَرٍ عَنْ عَطَائٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّہُ أَتَاہُ رَجُلٌ فَقَالَ طَلَّقْتُ اِمرَأتِیْ ثَلاَ ثًا فَقَالَ عَصَیْتَ رَبَّکَ وَحَرُمَتْ عَلَیْکَ حَتّٰی تَنْکِحَ زَوْجاًغَیْرَکَ.(مسند ابی حنیفہ بروایۃ بحوالہ جامع المسانید للخوارزمی ج2ص 148- اسنادہ صحیح)ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس ایک آدمی آکرکہنے لگامیں نے اپنی بیوی کوتین طلاقیں دی ہیں۔آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا:’’ تو نے اپنے رب کی نافرمانی کی ہے اورتیری بیوی تجھ پرحرام ہوگئی جب تک وہ تیرے علاوہ کسی اورمرد سے نکاح نہ کرلے (تیرے لیے حلال نہیں ہو گی)۔‘‘اجماع امت:[۱]: امام ابو بکر احمد الرازی الجصاص (ت307ھ):فَالْكِتَابُ وَالسُّنَّةُ وَإِجْمَاعُ السَّلَفِ تُوْجِبُ إِيْقَاعَ الثَّلَاثِ مَعًا.(احکام القر آ ن للجصا ص :ج1 ص527ذکر الحجاج لایقاع الثلاث معا ً )
ترجمہ: قرآن مجید، سنت اور سَلَف کے اجماع سے ثابت ہے کہ تین طلاقیں اکٹھی دی جائیں تو واقع ہو جاتی ہیں۔[۲]: امام ابو بکر محمد بن ابراہیم بن المنذر (ت319ھ):وَأجْمَعُوْا عَلٰی أَنَّ الرَّجُلَ اِذَا طَلَّقَ امْرَأتَہُ ثَلَا ثًا أَنَّھَالَاتَحِلُّ لَہُ اِلَّابَعْدَ زَوْجٍ عَلٰی مَاجَائَ بِہٖ حَدِیْثُ النَّبِیّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ•(کتاب الاجماع لابن المنذر ص92)
ترجمہ: ان (فقہاء اورمحدثین) کا اس بات پر اجماع ہے کہ جب مرد اپنی بیوی کوتین طلاقیں دے تو وہ اس کے لیے حلال نہیں رہتی۔ ہاں! جب وہ دوسرے شوہر سے نکاح کرلے (اور وہ از خود طلاق دے دے یا مر جائے اور عدت بھی گزر جائے) تواب حلال ہوجاتی ہے کیونکہ اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی حدیث وارد ہوئی ہے ۔[۳]: امام ابو جعفر احمد بن محمد الطحاوی (ت321ھ):
مَنْ طَلَّقَ امْرَأتَہُ ثَلَاثاً فَاَوْقَعَ کُلًّا فِیْ وَقْتِ الطَّلَاقِ لَزِمَہُ مِنْ ذٰلِکَ…. فَخَاطَبَ عُمَرُبِذٰلِکَ النَّاسَ جَمِیْعًا وَفِیْھِمْ أَصْحَابُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ وَرَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمُ الَّذِیْنَ قَدْ عَلِمُوْا مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذٰلِکَ فِیْ زَمَنِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ فَلَمْ یُنْکِرْہُ عَلَیْہِ مِنْھُمْ مُنْکِرٌ وَلَمْ یَدْفَعْہُ دَافِعٌ•(سنن الطحاوی ج2ص34باب الرجل یطلق امرأتہ ثلاثاً معا،ونحوہ فی مسلم ج1 ص477 )
ترجمہ: جس شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں اور طلاق دیتے وقت تینوں کو نافذ بھی کر دیا (یعنی ایک مجلس میں دیں)تو یہ تین طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں (دلیل اس کی حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم کا اجماع ہے کہ) جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تمام لوگوں کو اس چیز کے متعلق خطاب فرمایا (کہ تین طلاقیں تین ہیں) اور ان مخاطبین میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی موجود تھے جوحضور علیہ السلام کے عہد مبارک میں اس معاملہ سے بخوبی واقف تھے لیکن کسی نے بھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی اس بات کا انکار نہ کیا اورنہ ہی کسی نے اسے رد کیا۔[۴]: امام ابو الحسن علی بن خلف بن عبد الملک المعروف بابن بطال (ت449ھ):اِتَّفَقَ أَئِمَّةُ الْفَتْوٰى عَلٰى لُزُوْمِ إِيْقَاعِ طَلَاقِ الثَّلَاثِ فِي كَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ … وَالْخِلَافُ فِي ذٰلِكَ شُذُوْذٌ وَإِنَّمَا تَعَلَّقَ بِهٖ أَهْلُ الْبِدَعِ وَمَنْ لَا يُلْتَفَتُ إِلَيْهِ لِشُذُوْذِهٖ عَنِ الْجَمَاعَةِ.(شرح ابن بطال على صحیح البخاری:ج9 ص 390 باب من اجاز طلاق الثلاث)
ترجمہ: اہلِ فتویٰ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ایک کلمہ سے دی گئی تین طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں۔ اس مسئلہ میں اختلاف کرنا ایک شاذ رائے ہے۔ یہ شاذ رائے رکھنے والے اہلِ بدعت اور وہ لوگ ہیں جن کی کوئی حیثیت نہیں کیوں کہ انہوں نے اہل السنۃ الجماعۃ سے جداگانہ موقف اختیار کیا ہے۔[۵]: حافظ احمد بن علی بن حجر العسقلانی (ت852ھ):فَالرَّاجِحُ فِي الْمَوْضِعَيْنِ تَحْرِيمُ الْمُتْعَةِ وَإِيقَاعُ الثَّلَاثِ لِلْإِجْمَاعِ الَّذِي انْعَقَدَ فِي عَهْدِ عُمَرَ عَلٰى ذٰلِكَ وَلَا يُحْفَظُ أَنَّ أَحَدًا فِي عَهْدِ عُمَرَ خَالَفَهُ فِي وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا… فَالْمُخَالِفُ بَعْدَ هٰذَا الْإِجْمَاعِ مُنَابِذٌ لَهُ وَالْجُمْهُورُ عَلٰى عَدَمِ اعْتِبَارِ مَنْ أَحْدَثَ الِاخْتِلَافَ بَعْدَ الِاتِّفَاقِ.(فتح الباری شرح صحیح البخاری: ج9 ص453 باب من جوز طلاق الثلاث)ترجمہ: ان دونوں مقامات (متعہ اور تین طلاق) میں راجح بات یہی ہے کہ متعہ حرام ہے اور تین طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں۔ اس کی دلیل وہ اجماع ہے جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں منعقد ہوا۔ یہ بات کسی معتبر ومحفوظ طریقے سے منقول نہیں کہ کسی نے ان مسائل میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی مخالفت کی ہو۔ اس لیے اس اجماع کے منعقد ہونے کے بعد اس کی مخالفت کرنے والااس اجماع کو توڑنے والا سمجھا جائے گا اور جمہور حضرات نے نزدیک اس شخص کے اختلاف کی کوئی حیثیت نہیں جو اتفاق ہو جانے کے بعد اختلاف کی باتیں کرتا پھرے۔[۶]: قاضی ثناء اللہ پانی پتی (ت1225ھ):اَجْمَعُوْاعَلیٰ اَنَّہُ مَنْ قَالَ لِاِمْرَأتِہِ: “أَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا ” یَقَعُ ثَلَاثٌ بِالْاِجْمَاعِ.(التفسیر المظہری ج1ص300)
ترجمہ: ان (فقہاء ومحدثین) کااس بات پر اجماع ہے کہ جس شخص نے اپنی بیوی کوکہا کہ تجھے تین طلاقیں ہیں تو بالاجماع تین طلاقیں واقع ہوجائیں گی۔فائدہ1:ایک مجلس کی تین طلاقوں کو تین کے بجائے ایک شمار کرنا شیعوں اور مرزائیوں کا موقف ہے، ان کےنزدیک ایک مجلس کی تین طلاقیں ایک شمار ہوتی ہیں۔ چند حوالہ جات پیش خدمت ہیں:اہلِ تشیع کا موقف:(1): شیعہ مصنف ابو جعفر محمد بن الحسن بن علی الطوسی (ت460ھ) لکھتے ہیں :وَالطَّلَاقُ الثَّلَاثُ بِلَفْظٍ وَا حِدٍ اَوْ فِی طُہْرٍ وَاحِدٍ مُتَفَرِّقًا لَا یَقَعُ عِنْدَنَا اِلَّا وَاحِدَۃٌ.(المبسوط فی فقہ الامامیۃ:ج5ص4)
تر جمہ: تین طلا قیں ایک لفظ سے دی گئی ہو ں یا ایک طہر میں علیحدہ علیحدہ دی گئی ہو ں ہما رے نزدیک صرف ایک طلا ق وا قع ہو تی ہے ۔(2): شیعہ مصنف محمد بن علی بن ابرا ہیم المعروف ابن ابی جمہور (متوفیٰ نویں ہجری) لکھتے ہیں:وَرَوَیٰ جَمِیْلُ بْنُ دَرَّاجْ فِی صَحِیْحِہٖ عَنْ اَحَدِہِمَا عَلَیْہِمَا السَّلَامُ قَالَ: سَأَلْتُہٗ عَنِ الَّذِیْ یُطَلِّقُ فِی حَالِ طُہْرٍ فِی مَجْلِسٍ وَاحِدٍ ثَلَاثًا ، قَالَ: ھِیَ وَاحِدَ ۃٌ(عوالی اللآلی العزیزیہ:ج3ص378)
تر جمہ:جمیل بن درا ج نے اپنی کتا ب ”صحیح“ میں امام باقر یا امام صا دق سے روا یت نقل کی ہے کہ میں نے ان سے اس شخص کے با رے میں پوچھا جو اپنی بیوی کو حا لت طہر میں ایک مجلس میں تین طلاقیں دیتا ہے (تو اس کا کیا حکم ہے؟) تو انہو ں نے جوا ب دیا کہ اس سے ایک طلاق واقع ہو گی ۔مرزائیت کا موقف:(1): مرزائیوں نے اپنی نام نہاد فقہ’’ فقہ احمدیہ ‘‘کے نا م سے شائع کی ہے جسے نو(9) اراکین پر مشتمل ایک کمیٹی نے مرتب کیا ہے اس میں دفعہ 35 کی تشریح میں لکھا ہے:’’ لہذا فقہ احمدیہ کے نزدیک اگرتین طلاقیں ایک دفعہ ہی دے دی جائیں تو ایک رجعی طلاق متصور ہوگی۔“(فقہ احمد یہ :ص80)(2): مرزائیوں کے لاہوری گروپ کے سربراہ محمد علی نے اپنی تفسیر بیا ن القر آ ن میں یو ں لکھا ہے:’’طلاق ایک ہی ہے خواہ سو دفعہ کہے یا تین دفعہ اور خواہ اسے ہر روز کہتا جا ئے یا ہر ما ہ میں ایک دفعہ کہے اس سے کوئی فرق نہیں پڑ تا ۔‘‘(بیان القر آن از محمد علی مرزائی:ج1ص136)فائدہ 2: اب آپ دونوں کا نکاح تب حلال ہو سکتا ہے جب درج ذیل مراحل گزر جائیں :(1) : آپ طلاق کی عدت تین ماہواری ( اگر ماہواری نہ آتی ہو تو تین ماہ) مکمل گزارلیں۔(2) : عدت مکمل ہونے کے بعد آپ کی رضامندی سے کسی اور شخص کے ساتھ آپ کا نکاح ہو۔(3): نکاح کے بعد دوسرا شوہر صحبت کرے، پھر وہ فوت ہو جائے یا از خود طلاق دے دے۔(4): دوسرے شوہر کی وفات کی صورت میں آپ عدتِ وفات ( 4 ماہ 10 دن) اور اس کی طرف سے طلاق کی صورت میں آپ عدت ِ طلاق ( تین ماہواری) مکمل گزار لیں۔(5): اس کے بعد باہمی رضامندی سے آپ دونوں کا دوبارہ شرعی طریقہ سے نکاح ہو گا ، نکاح کے بعد آپ اس طلاق دینے والے شخص کے حق میں حلال ہوں گی ، اس سے پہلے بالکل حلال نہیں ہوں گی۔واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved