• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

میرے لیے تراویح میں امامت کرانے کا کیا حکم ہے؟

استفتاء

میں نے ابھی حال ہی میں آپ سے مسئلہ دریافت کیا تھا کہ کیا حافظہ عورت تراویح کی امامت کر سکتی ہے یا نہیں ؟ تو آپ نے پورا مسئلہ واضح طور پر بتایا تھا ۔اس میں یہ بھی لکھا تھا کہ اگر اپنے حفظ کو بھول جانے کا قوی اندیشہ ہو اور تراویح میں سنائے بغیر اس کو یاد رکھنا مشکل ہو تو وہ امامت کر سکتی ہے کچھ شرائط کے تحت ۔میں قرآن مجید نوافل میں فرائض میں تہجد میں پڑھتی رہتی ہوں اور اس کے علاوہ میں روزانہ کی بنیاد پر قرآن مجید کو سناتی بھی ہوں اور تراویح میں خود سے بھی پڑھتی ہوں ، تو مجھے آپ سے معلوم کرنا ہے کہ میرے لیے تراویح کی امامت کرنا بہتر ہے یا نہ کرنا بہتر ہے ؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

اصل حکم یہی ہے کہ عورت کے لیے امامت کرانا مکروہ تحریمی ہے خواہ تراویح کی نماز ہو۔ حالتِ عذر میں کراہت کے باوجود چند شرائط کے ساتھ اجازت دی جاتی ہے۔ آپ کی حالت عذر میں داخل نہیں اس لیے آپ امامت سے دور رہیں اور قرآن کریم کی پختگی کے لیے جو معمول اور ترتیب لکھی ہےاسی پر کاربند رہیں۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved