- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
ایک شخص میں عقل و شعور نہ ہو کہ وہ خدا تعالیٰ کے وجود پر غور و فکر کر سکے اور اس کے پاس اسلام کی دعوت نہ پہنچی ہو تو اس کا کیا انجام ہو گا؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
ایک شخص کو دعوتِ اسلام نہیں پہنچی اور وہ عقیدہ توحید کے بغیر دنیا سے چلا گیا اور اس میں غور وفکر کرنے کی صلاحیت موجود نہیں تھی تو آخرت میں اس کا امتحان ہو گا کہ یہ شخص اللہ کی اطاعت کرتا ہے یا نہیں؟ چنانچہ ایک منادی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس شخص کو پیغام دے گا کہ آگ میں داخل ہو جاؤ!اگر یہ اس آگ میں داخل ہوا تو وہ آگ اس پر ٹھنڈک اور پر امن ہو جائے گی اور یہ اطاعت گزار شمار ہو گا۔ اس صورت میں اس کا مؤاخذہ نہیں ہو گا۔اگر اس نے اطاعت نہ کی تو یہ نافرمان شمار ہو گا۔ اس صورت میں اس کا مؤاخذہ ہو گا۔
فائدہ:
یہی حکم بہرے، پاگل اور بہت بوڑھے کا بھی ہے۔
شیخ التفسیر مولانا محمد ادریس کاندھلوی رحمہ اللہ (ت1394ھ) فرماتے ہیں:
قولِ فیصل اس کے بارے میں یہ ہے کہ قیامت کے دن ان لوگوں کا امتحان ہوگا اور منجانب اللہ ان کے پاس ایک فرشتہ آئے گا اور کہے گا کہ اللہ کا حکم یہ ہے کہ دوزخ کی آگ میں داخل ہو جاؤ! پس جو حکمِ خداوندی کی اطاعت کرے گا آگ اس کے حق میں برد اور سلام بن جائے گی اور جو انکار کرے گا اس کو گھسیٹ کر آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ حاصل کلام یہ کہ قیامت کے دن ان لوگوں کا اس طرح امتحان لیا جائے گا جو اطاعت کرے گا وہ بہشت میں داخل کر دیا جائے گا ۔ جو نافرمانی کرے گا وہ ذلت وخواری کے ساتھ داخلِ نار ہوگا۔
معار ف القرآن: ج4 ص265 تفسیر سورۃ بنی اسرائیل آیت نمبر15 ﴿وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُولًا﴾
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved