- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
کیا عورت دوسری خواتین کی نماز میں امامت کروا سکتی ہے ؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
نماز میں عورت کا عورتوں کے لیے امام بننا مکروہ تحریمی ہے۔علامہ محمد امین بن عمر بن عبد العزیز ابن عابدین شامی رحمہ اللہ (ت1252ھ) لکھتے ہیں:وَیُکْرَهُ تَحْرِیْمًا جَمَاعَةُ النِّسَاءُ وَلَوْ فِي التَّرَاوِیححاشیہ ابنِ عابدین : ج2ص305
ترجمہ: عورتوں کی جماعت مکروہ تحریمی ہے اگرچہ وہ تراویح کی ہو۔شیخ الاسلام مولانا ظفر احمد عثمانی رحمہ اللہ (ت1394ھ) رحمہ اللہ لکھتے ہیں:فَعُلِمَ أَنَّ جَمَاعَتَهُنَّ وَحْدَهُنَّ مَکْرُوْهَةٌإعلاء السنن: ج 4ج226
ترجمہ: اس سے معلوم ہوا کہ اکیلے عورتوں کی جماعت مکروہ تحریمی ہے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved