• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

وضو؛ برقرار نہیں رہتا، نماز کیسے مکمل کروں؟

استفتاء

ایک عورت کو بار بار ہوا خارج ہوتی ہے یہ بیماری بن گئی ہے بار بار وضو ٹوٹ جاتا ہے اور نماز پڑھتے ہوئے بھی ایسے ہوتا ہے تو کیا جب جب ایسے ہو نیا وضو کرنا پڑے گا ؟ کیوں کہ مکمل نماز ایک وضو سے نہیں پڑھ سکتی، اس خاتون کے لیے کیا حکم ہے؟ برائے مہربانی تفصیل سے سمجھا دیں، جزاکم اللہ خیراً۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

اگر اس خاتون کو کسی ایک نماز کے پورے وقت میں اتنا تھوڑا سا وقفہ بھی نہ مل پاتا ہو کہ وہ مکمل طہارت کے ساتھ اس عذر کے بغیر(ہوا خارج ہوئے بغیر)اس وقت کی فرض نماز ادا کر سکے تو وہ خاتون شرعاً ”معذور“ شمار ہو گی۔ ذیل میں ”شرعی معذور“ کی تعریف اور اس سے متعلق چند ضروری مسائل لکھے جاتے ہیں:معذور کی تعریف:ایسا مرد یا عورت جس کو قطرات کے نکلنے، خون بہنے، ہوا خارج ہونے، نکسیر بہنے کا عذر ہو یا ایسی عورت جس کو حیض و نفاس کے علاوہ خون آنے کا مرض لاحق ہو اور ان کو ایک نماز کے پورے وقت میں اس کو اتنا وقت نہ مل پاتا ہو کہ وہ مکمل طہارت کے ساتھ اس وقت کے فرض ادا کر سکے تو وہ شرعاً ”معذور“ کہلا تا ہے۔چند مسائل:”معذور شرعی“ کے حوالے سے چند اہم مسائل یہ ہیں:[1]: معذور شرعی کا حکم یہ ہے کہ ہر نماز کے وقت وضو کر لیا کرے، جب تک وہ وقت رہے گا تب تک اس کا وضو باقی سمجھا جائے گا۔ اس وضو سے فرض، نفل، ادا، قضا وغیرہ جو چاہے نمازیں پڑھ سکتا ہے۔ جب تک وقت رہے گا اس کا وضو باوجود اس عذر کے نہیں ٹوٹے گا بلکہ قائم سمجھا جائے گا چاہے قطرات نکلیں، خون بہے، ہواخارج ہو، نکسیر بہے یا حیض و نفاس کے علاوہ خون آئے۔ ہاں! جب وقت نکل جائے تو وضو ٹوٹ جائے گا اور دوبارہ کرنا پڑے گا۔ مثلاً کسی معذور نے فجر کے وقت وضو کیا تو جب سورج نکل آیا تو اس کا وضو ختم ہو جائے گا، سورج نکلنے کے بعد جب وضو کرے تو ظہر کی نماز کا وقت ختم ہونے تک اس کا وضو باقی ر ہے گا، اور جب ظہر کا وقت ختم ہو گا تو اس کا وضو بھی جا تا رہے گا۔ الغرض ہر وقت کی نماز کے لیے ایک بار وضو کر لینا کافی ہے۔نوٹ: وضو میں ایک مستحب یہ ہے کہ وقت شروع ہونے سے پہلے ہی وضو کر کے نماز کے لیے تیار رہا جائے لیکن یہ حکم ان افراد کے لیے ہے جو معذور نہیں ہیں۔ جہاں تک معذورِ شرعی کا تعلق ہے تو اس کے لیے حکم یہ ہے کہ نماز کا وقت داخل ہونے سے پہلے وضو نہ کرے بلکہ وقت داخل ہونے کے بعد وضو کرے۔ اگر کسی معذورِ شرعی نے وقت داخل ہونے سے پہلے وضو کر لیا تو وقت داخل ہوتے ہی اس کا وضو ٹوٹ جائے گا۔ اب اس کے لیے دوبارہ وضو کرنا لازم ہو گا۔[2]: معذور جس بیماری میں مبتلا ہے اس کے علاوہ اگر کوئی اور وجہ ایسی پائی جائے جس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے تو اس کی وجہ سے وضو جا تا ر ہے گا اور دوبارہ کرنا پڑے گا۔ مثلاً کسی کو ایسی نکسیر پھوٹی کہ کسی طرح بند نہیں ہوتی اور اس نے ظہر کے وقت وضو کر لیا تو جب تک ظہر کا وقت رہے گا نکسیر کے خون کی وجہ سے اس کا وضو نہیں ٹوٹے گا، البتہ اگر پیشاب پاخانہ آ گیا یا زخم کی وجہ سے خون نکل کر بہہ پڑا تو اب وضو ٹوٹ جائے گا اور دوبارہ کرنا پڑے گا۔[3]: ایک شرط ”معذور بننے“ کے لیے ہے اور ایک شرط ”معذور رہنے“ کے لیے ہے۔ معذور بننے کے لیے شرط تو اوپر بیان ہو چکی ہے کہ اس عذر کے ساتھ اسے ایک نماز کے پورے وقت میں اتنا وقت نہ مل پاتا ہو کہ وہ مکمل طہارت کے ساتھ اس وقت کے فرض ادا کر سکے تو ایسا شخص شرعاً ”معذور “ کہلائے گا۔ جب کوئی شخص ایک بار معذور بن جائے تو اس کے ”معذور رہنے“ کی شرط اور حد یہ ہے کہ اس وقت کے اندر اس کو کم از کم ایک بار یہ عذر پیش آئے،اگر پورا وقت گزر گیا اور اس کو یہ عذر پیش نہیں آیا (مثلاً ریح وغیر ہ خارج نہیں ہوئی) تو اب یہ معذور نہیں رہا۔[4]: معذور شخص کے کپڑوں کا حکم یہ ہے کہ اگر کپڑوں کی صفائی ممکن ہو یعنی کپڑے دھونے سے نماز کے دوران یہ کپڑے پاک رہ سکتے ہوں تو پھر نماز کی ابتداء میں کپڑے صاف رکھنا ضروری ہے اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو پھر کپڑوں کو لگی نجاست کی صفائی ضروری نہیں اور اس شخص پر کپڑے دھونا لازمی نہیں۔اگر ان امراض کے لاحق شخص کو اتناوقت مل پاتا ہو کہ وہ مکمل طہارت کے ساتھ اس وقت کے فرض ادا کر سکتا ہو تو ایسا شخص ”شرعاً معذور“ نہیں ہو گا اور اس پر مذکورہ احکام جاری نہیں ہوں گے۔ ایسے شخص کو اگر وضو کے بعد نماز سے پہلے یا نماز کے اندر یہی عارضہ لاحق ہو جائے ( مثلاً ریح وغیرہ خارج ہو جائے) تو اس کو دوبارہ وضو کر کے نماز پڑھنا ضروری ہو گا۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved