• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

غیر مسلم کے تہوار پر مبارک باد دے سکتے ہیں یا نہیں؟

استفتاء

سوال یہ ہے کہ اگر کوئی مسلمان کسی ہندو کے تہوار کی مبارک باد دیتا ہے تو کیا ایسا کرنے سے انسان مسلمان رہتا ہے یا نہیں؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

• غیرمسلموں کے مذہبی تہوار چونکہ مشرکانہ عقائد و نظریات پر مبنی ہوتے ہیں ۔ مبارک باد کے کلمات کہنے سے ان کے مشرکانہ اعتقادات کی تائید ہوتی ہے اس لیے مبارک باد دینا جائز نہیں ہے۔• اگر ان کے مذہبی تہوار کی توقیر و تعظیم کے طور پر مبارک باد کے کلمات نہ کہے ہوں تو یہ عمل گناہ ہے، اس پر توبہ و استغفار ضروری ہے، تاہم اس سے انسان دائرہ اسلام ہی میں رہتا ہے۔• اگر مبارک باد دینے سے اس تہوار کی توقیر و تعظیم مقصود ہو تو اس صورت میں گناہ کے ساتھ ساتھ کفر کا بھی اندیشہ ہے۔علامہ عالم بن العلاء الانصاری الاندرپتی الدھلوی الحنفی رحمہ اللہ (ت786ھ) لکھتے ہیں:اجتمع المجوس يوم النيروز فقال مسلم: خوب رسمي نهاد اند، أو قال: نيك آئين نهاده اند !يخاف عليه الكفرفتاویٰ التاتار خانیۃ : کتاب احکام المرتدین: ج 5 ص355ترجمہ: مجوسی نوروز کے دن جمع ہوں اور (اس موقع پر) کوئی مسلمان کہے: ‘انہوں نے اچھی رسم قائم کی ہےیا اچھا طریقہ رائج کیا ہے، تو (یہ بات) کہنے والے پر کفر کا خطرہ ہے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved