- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
سوال یہ ہے کہ اگر کوئی مسلمان کسی ہندو کے تہوار کی مبارک باد دیتا ہے تو کیا ایسا کرنے سے انسان مسلمان رہتا ہے یا نہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
• غیرمسلموں کے مذہبی تہوار چونکہ مشرکانہ عقائد و نظریات پر مبنی ہوتے ہیں ۔ مبارک باد کے کلمات کہنے سے ان کے مشرکانہ اعتقادات کی تائید ہوتی ہے اس لیے مبارک باد دینا جائز نہیں ہے۔• اگر ان کے مذہبی تہوار کی توقیر و تعظیم کے طور پر مبارک باد کے کلمات نہ کہے ہوں تو یہ عمل گناہ ہے، اس پر توبہ و استغفار ضروری ہے، تاہم اس سے انسان دائرہ اسلام ہی میں رہتا ہے۔• اگر مبارک باد دینے سے اس تہوار کی توقیر و تعظیم مقصود ہو تو اس صورت میں گناہ کے ساتھ ساتھ کفر کا بھی اندیشہ ہے۔علامہ عالم بن العلاء الانصاری الاندرپتی الدھلوی الحنفی رحمہ اللہ (ت786ھ) لکھتے ہیں:اجتمع المجوس يوم النيروز فقال مسلم: خوب رسمي نهاد اند، أو قال: نيك آئين نهاده اند !يخاف عليه الكفرفتاویٰ التاتار خانیۃ : کتاب احکام المرتدین: ج 5 ص355ترجمہ: مجوسی نوروز کے دن جمع ہوں اور (اس موقع پر) کوئی مسلمان کہے: ‘انہوں نے اچھی رسم قائم کی ہےیا اچھا طریقہ رائج کیا ہے، تو (یہ بات) کہنے والے پر کفر کا خطرہ ہے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved