- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
یورپ میں کریڈٹ کارڈ کے استعمال کا حکم کیا ہے؟ کیا یہ جائز ہے یا نہیں؟ براہ مہربانی وضاحت فرما دیجیے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
اصولی طور پر کریڈٹ کارڈ کا استعمال جائز نہیں، کیونکہ اس کا معاہدہ سود پر قائم ہوتا ہے۔ اس لیے عام حالات میں مسلمان کے لیے ڈیبٹ کارڈ یا اے ٹی ایم کارڈ ہی پر اکتفا کرنا لازم ہے۔البتہ اگر کسی شخص کو ڈیبٹ کارڈ دستیاب نہ ہو، یا دستیاب ہونے کے باوجود اس سے حقیقی ضرورت پوری نہ ہو رہی ہو، تو ایسی مجبوری کی صورت میں درج ذیل شرائط کے ساتھ کریڈٹ کارڈ استعمال کر سکتے ہیں:[1]: کریڈٹ کارڈ صرف اسی وقت استعمال کیا جائے جب ڈیبٹ کارڈ موجود نہ ہو یا اس کے ذریعے مطلوبہ ضرورت پوری کرنا ممکن نہ ہو، یا ایسا ملک یا شہر ہو جہاں کریڈٹ کارڈ کے علاوہ اور کوئی صورت نہ ہو۔[2]: کارڈ استعمال کرنے والا اس بات کا پختہ اور یقینی انتظام کرے کہ مقررہ مدت ختم ہونے سے پہلے ہی مکمل رقم ادا کر دیا کرے، تاکہ سود لازم آنے کی نوبت نہ آئے۔[3]: حاملِ کارڈ پر لازم ہے کہ وہ کریڈٹ کارڈ کو کسی بھی غیر شرعی یا ناجائز مصرف میں استعمال نہ کرے۔تنبیہ: چونکہ کریڈٹ کارڈ کا معاہدہ اپنی اصل میں سودی بنیاد پر قائم ہوتا ہے، اس لیے کارڈ ہولڈر اس سودی معاہدے میں داخل ہونے پر اللہ تعالیٰ سے توبہ و استغفار کرتا رہے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved