• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

کسی کی غلطی پر غصہ آئے اوراس کے بارے میں یہ الفاظ زبان سے نکل جائیں؛ کیا وہ نبی ہے؟ کیا وہ معصوم ہے؟ اس کا کیا حکم ہے؟

استفتاء

آج دوران علاج ایک عالم عامل نے میرے اہلِ خانہ کے سامنے میری بے حد انسلٹ کی خوب طعن وتشنیع کی اور خوب برا بھلا کہا میرے عیبوں کو لے کر۔تفصیل میں بات طویل ہوگی مختصر یہ کہ عالم کو با عمل ہونا چاہئے، مگر ان کو اپنے علم پر فخر ہے، ہم چوں دیگر نیست کا گمان ہے ان کو۔ بے حد بے عزتی اور طعن وتشنیع کی میری۔ میرے سر میں پہلے ہی ہمیشہ درد رہتا ہے ان کی باتوں سے درد اور غصہ مزید بڑھ گیا تو بعد میں؛ میں نے اپنے اہل خانہ سے کہاکہ: کیا وہ گناہوں سے معصوم ہے ؟ وہ نبی ہے کیا؟ وہ فرشتہ ہے کیا؟ وہ کیا خود کو مولانا ذوالفقار سمجھ رہے؟بعد میں مجھے اپنے ان جملوں ” کیا وہ گناہوں سے معصوم ہے ؟ وہ نبی ہے کیا؟ “پر تردد و تأمل ہو رہا ہے۔ کیا مجھے تجدید ایمان و تجدید نکاح کی ضرورت ہے؟ اگر ہے تو تجدید ایمان کیسے کریں؟ ویسے الحمدللہ میں نے کلمہ پڑھ لیا ہے۔ براہِ کرم جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

یہ الفاظ(کیا وہ گناہوں سے معصوم ہے ؟ وہ نبی ہے کیا؟ وہ فرشتہ ہے کیا؟ ) جس پسِ منظر میں کہے گئے ہیں اس میں دوسرے شخص کو ان مقدس ہستیوں کی طرح معصوم قرار دینا ہرگز مراد نہیں ہے بلکہ مقصود دوسرے شخص کے خطا کار ہونے کو ثابت کرنا ہے اور باریک پیرائے میں اس کی غلطی پر تنبیہ کرنا ہے، اس لیے اس تناظر میں گستاخی کا کوئی پہلو نہیں ہے۔ لہٰذا تجدیدِ ایمان کی اور اس کے نتیجے میں تجدیدِ نکاح کی ضرورت نہیں ہے۔مگر یاد رہے کہ اس طرح کا طرزِ تکلّم خلافِ ادب ، نامناسب اور مکروہ ہے، اس سے اجتناب لازمی ہے۔ درست طریقہ یہ ہے کہ کسی کی غلطی کو سیدھے الفاظ میں بیان کیا جائے، اس تناظر میں مقدس ہستیوں کا نام نہ لیا جائے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved