- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
مجھے معلوم ہوا ہے کہ قرآنِ کریم کی طرف پشت نہیں کرنی چاہیےکیوں کہ پشت کرنا بےادبی میں شامل ہے۔ میں ایک دینی مدرسہ میں زیرِ تعلیم ہوں، وہاں ایک درس گاہ میں کافی زیادہ تعداد میں طلبہ صف در صف بیٹھ کر قرآن کریم سامنے رکھ کر اس کا ترجمہ پڑھتے ہیں۔ اس طرح قرآنِ کریم کی طرف پشت ہو جاتی ہے۔ یہی صورتِ حال مسجد میں تلاوت کے دوران پیش آتی ہے۔ میرے ذہن میں الجھن ہے کہیں ہم جیسے طلبہ اور نمازی حضرات بے خبری میں قرآنِ کریم کی بے ادبی کے مرتکب تو نہیں ہو رہے؟ براہِ کرم راہ نمائی فرمائیں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
قرانِ کریم کی طرف پشت کیے بغیر سہولت کے ساتھ بیٹھنا ممکن ہو تو ادب اسی میں ہے کہ پشت نہ کی جائے۔ لیکن جس جگہ مجبوری ہو وہاں یہ صورت بے ادبی میں داخل نہیں ہو گی۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ قرآنِ کریم کی بے ادبی اور بے احترامی کا تعلق چار باتوں کے ساتھ ہے۔:1 اس کام سے بےادبی ہونے کا علم ہو۔:2 بے ادبی کا ارادہ اور نیت ہو۔:3 عرف میں اس کام کو بے ادبی سمجھا جاتا ہو۔:4 مجبوری یا ضرورت لاحق نہ ہو۔اگر یہ چاروں باتیں موجود ہوں گی تو پھر وہ کام بے ادبی شمار ہو گا۔
اس تفصیل کی روشنی میں دیکھیے کہ پہلی صف میں بیٹھنے والے کی پشت دوسری صف میں بیٹھے تلاوت کرنے والے کی طرف ہوتو عرف کے لحاظ سے اگرچہ یہ بے ادبی ہے لیکن حقیقت میں نہیں کیوں کہ پہلی صف والے کی بے ادبی کی نیت ہی نہیں ہوتی بلکہ بسا اوقات تو اسے خبر ہی نہیں ہوتی کہ میری پیٹھ پیچھے قرآنِ کریم موجودہے۔اسی طرح اگر کسی کی پیٹھ پیچھے کوئی چار پانچ ، یا آٹھ دس صفوں کا فاصلہ رکھ کر تلاوت کرے تو دور ہونے کی وجہ سے اسے عرف میں بھی بے ادبی نہیں سمجھا جاتا۔مساجد اور دینی مدارس میں بھی اسی بات کی تعلیم دی جاتی ہے اور حتّی الوسع کوشش کی جاتی ہے کہ قرآنِ کریم کی طرف پشت نہ ہو، لیکن جو صورت آپ نے پیش کی ہے یہ ضرورت اور مجبوری کے تحت داخل ہے مزید یہ کہ اس میں بے ادبی کا ارادہ تو کیا تصور بھی نہیں ہوتا۔اس لیے سوال میں ذکر کردہ صورت بے ادبی کے زمرے میں نہیں آتی۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved