• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

ذکر بالجہر کی شرعی حیثیت

استفتاء

عرض یہ ہے کہ ہمارے علاقے میں ذکر بالجہر کو بعض حضرات بدعت کہتے ہیں اور حضرت اقدس مولانا عزیزالرحمن ہزاوری اور مولانا پیر مختارالدین شاہ اور مولانا الیاس گھمن صاحبان بدعتی کہتے ہیں ؟اور کہتے ہیں کہ شیخ سرفراز خان صفدر صاحب نے اس کو بدعت لکھا ہے؟ تو کیا ذکر بالجہر جائز ہے یا شیخ صاحب کا فتوی غلط ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

ذکر بالجہر کو بدعت کہنا صحیح نہیں  ہےکیو نکہ ذکر بالجہر جائز اور احادیث سے ثابت ہے، اس لیے مسجد میں ذکر بالجہر کی گنجائش ہے، بشرطیکہ جہر کی وجہ سے نمازیوں کی نماز میں یا سونے والوں کی نیند میں خلل نہ ہو، جہاں تک ہیئت کا تعلق ہے تو حدیث میں کوئی ہیئت مذکور نہیں ہے، البتہ متأخرین صوفیاء خاص طور پر سرہلاکر ذکر کرنے کی ترغیب دیتے ہیں جس کی وجہ سے قلب میں حرارت پیدا ہوتی اور ذکر کے اثرات اعضا وجوارح پر ظاہر ہوتے ہیں؛ اس لیے اگر کوئی متبع سنت بزرگ اس طور پر ذکر کرنے کو بتلائے تو اس طریقہ پر ذکر کرنے کی گنجائش ہوگی۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿وَاذْكُرْ رَّبَّكَ فِيْ نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَّخِيْفَةً وَّدُوْنَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ وَلَا تَكُنْ مِّنَ الْغٰفِلِيْنَ﴾(سورۃ الاعراف: 205)ترجمہ: اور اپنے رب کا ذکر صبح و شام کیا کروعاجزی اور خوف کے ساتھ اپنے دل میں بھی اور آواز بہت زیادہ بلند کیے بغیر زبان کے ساتھ بھی، اور غفلت میں پڑے لوگوں میں شامل نہ ہوجانا۔• اس آیت کی تفسیر میں علامہ سید  محمود آلوسی بغدادی (ت1270ھ) لکھتے ہیں:واختار بعض المحققين أن المراد دون الجهر البالغ أو الزائد على قدر الحاجة فيكون الجهر المعتدل والجهر بقدر الحاجة داخلا في المامور به فقد صح ما يزيد على عشرين حديثا في أنه صلى الله عليه و سلم كثيرا ما كان يجهر بالذكر․(تفسیر روح المعانی:ج16 ص163)ترجمہ: بعض محققین علماء نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ اس آیت میں ”آواز بلند کیے بغیر ذکر“  کرنے سے مراد یہ ہے کہ حد درجہ بلند آواز یا ضرورت سے زائد بلند آواز سے ذکر نہ کیا جائے۔ اس صورت میں مناسب بلند آواز یا ضرورت کے مطابق بلند آواز کے ساتھ ذکر کرنا باری تعالیٰ کے حکم کی تعمیل شمار ہو گا۔ نیز بیس سے زائد احادیث سے ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اکثر اوقات میں بلند آواز سے ذکر کرتے تھے۔• حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی (ت1362ھ) اس آیت کے تحت لکھتے ہیں:حاصل ادب کا یہ ہےکہ دل اور ہیئت میں  تذلل اور خوف ہو اور آواز کے اعتبار سے جہر مفرط نہ ہو یا تو بالکل آہستہ ہو یعنی مع حرکت لسانی کے اور یا جہر معتدل ہو، اور جہر فی نفسہ ممنوع نہیں ہے، جن حدیثوں میں اس کی ممانعت آئی ہے مراد اس سے مفرط ہے ، البتہ اگر کسی عارض کی وجہ سے مثل دفع خطرات یا دفع قساوت وتحصیل رقت وغیرہ  ان شرائط کے ساتھ ہو کہ کسی شیخ محقق نے تجویز کیا ہو، کسی نائم اور مصلی کو تشویش نہ ہوورنہ بستی سے باہر چل جاوے، اس جہر کو قربت نہ جانتا ہو بلکہ علاج سمجھتا ہو تو اجازت ہے کیو نکہ جو مفاسد علل نہی کے تھے وہ اس میں نہیں ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب(تفسیر بیان القرآن: ج2 ص79)(2): اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿ اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهٗ يُسَبِّحْنَ بِالْعَشِيِّ وَالْاِشْرَاقِ ؁وَالطَّيْرَ مَحْشُوْرَةً ۭكُلٌّ لَّهٗٓ اَوَّابٌ﴾(سورۃ ص: 18، 19)ترجمہ:ہم نے پہاڑوں کو اس کام پر لگا دیا تھا کہ  وہ شام کے وقت اور سورج نکلتے وقت ان (حضرت داؤد علیہ السلام) کے ساتھ تسبیح کیا کریں اور پرندوں کو بھی (اس کام پر لگایا تھا) جنہیں اکٹھا کر لیا جاتا تھا۔ یہ سب ان کے ساتھ مل کر اللہ تعالیٰ کا خوب کرتے تھے۔• حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی (ت1362ھ) اس آیت کے تحت لکھتے ہیں:یؤخذ منہ أمران: الأول الإجتماع علی الذکر تنشیطا للنفس وتقویۃ للھمۃ وتعاکس برکات الجماعۃ من بعض علی بعض․(مسائل السلوک من کلام ملک الملوک: ص426)ترجمہ: یہاں سے دو باتیں ثابت ہوتی ہیں: پہلی ؛  ذکر کرنے کے لیے جمع ہونا ثابت ہوتا ہے (جو کہ) طبیعت کی تازگی، ہمت بڑھانے اور مجمع کی برکات کے ایک دوسرے پر انعکاس ہونے کے لیے (مفید ہے)• مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع عثمانی (ت1396ھ) اس آیت کے ذیل میں لکھتے ہیں:”حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے عجیب توجیہہ فرمائی کہ پہاڑوں اور پرندوں کی  تسبیح سے ذکر وشغل کا ایک خاص کیف پیدا ہو گیا تھا جس سے عبادت میں نشاط اورتازگی اور ہمت پیدا ہوتی تھی اور اجتماعی ذکر کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ ذکر کی برکتوں کا ایک دوسرے پر انعکاس بھی ہوتا رہتا ہے۔ “(معار ف القرآن: ج7 ص496)(3): حضرت ابو ہریرہ اور حضرت ابو سعید خدری  رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:“لَا يَقْعُدُ قَوْمٌ يَذْكُرُوْنَ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا حَفَّتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ وَغَشِيَتْهُمُ الرَّحْمَةُ وَنَزَلَتْ عَلَيْهِمُ السَّكِيْنَةُ وَذَكَرَهُمُ اللهُ فِيْمَنْ عِنْدَهُ “.(صحیح مسلم:ج2 ص345  کتاب الذکر والدعاء․ باب فضل الاجتماع على تلاوة القرآن وعلى الذكر)ترجمہ: جو لوگ اکٹھے بیٹھ کر ذکر الٰہی کرتے ہیں فرشتے انہیں گھیر لیتے ہیں، رحمت الہیہ انہیں ڈھانپ لیتی ہے ، سکینت ان پر نازل ہونے لگتی ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے مقرب فرشتوں میں ان کا ذکر کرتا ہے۔• علامہ  محی الدین ابو زکریا یحییٰ  بن شرف النووی (ت676ھ)  نے اس پر یہ باب قائم کیا ہے:باب فضل الاجتماع على تلاوة القرآن وعلى الذكرترجمہ:قرآن کی تلاوت اور ذکر کرنے کے لیے جمع ہونے کی فضیلت کا بیان](4): عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:  “إِنَّ لِلَّهِ مَلَائِكَةً يَطُوفُونَ فِي الطُّرُقِ يَلْتَمِسُونَ أَهْلَ الذِّكْرِ فَإِذَا وَجَدُوا قَوْمًا يَذْكُرُونَ اللَّهَ تَنَادَوْا هَلُمُّوا إِلٰى حَاجَتِكُمْ قَالَ فَيَحُفُّونَهُمْ بِأَجْنِحَتِهِمْ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا قَالَ فَيَسْأَلُهُمْ رَبُّهُمْ وَهُوَ أَعْلَمُ مِنْهُمْ مَا يَقُولُ عِبَادِي قَالُوا يَقُولُونَ يُسَبِّحُونَكَ وَيُكَبِّرُونَكَ وَيَحْمَدُونَكَ وَيُمَجِّدُونَكَ  قَالَ فَيَقُولُ هَلْ رَأَوْنِي قَالَ فَيَقُولُونَ لَا وَاللَّهِ مَا رَأَوْكَ قَالَ فَيَقُولُ وَكَيْفَ لَوْ رَأَوْنِي قَالَ يَقُولُونَ لَوْ رَأَوْكَ كَانُوا أَشَدَّ لَكَ عِبَادَةً وَأَشَدَّ لَكَ تَمْجِيدًا وَتَحْمِيدًا وَأَكْثَرَ لَكَ تَسْبِيحًا قَالَ يَقُولُ فَمَا يَسْأَلُونِي قَالَ يَسْأَلُونَكَ الْجَنَّةَ قَالَ يَقُولُ وَهَلْ رَأَوْهَا قَالَ يَقُولُونَ لَا وَاللَّهِ يَا رَبِّ مَا رَأَوْهَا قَالَ يَقُولُ فَكَيْفَ لَوْ أَنَّهُمْ رَأَوْهَا قَالَ يَقُولُونَ لَوْ أَنَّهُمْ رَأَوْهَا كَانُوا أَشَدَّ عَلَيْهَا حِرْصًا وَأَشَدَّ لَهَا طَلَبًا وَأَعْظَمَ فِيهَا رَغْبَةً قَالَ فَمِمَّ يَتَعَوَّذُونَ قَالَ يَقُولُونَ مِنْ النَّارِ قَالَ يَقُولُ وَهَلْ رَأَوْهَا قَالَ يَقُولُونَ لَا وَاللَّهِ يَا رَبِّ مَا رَأَوْهَا قَالَ يَقُولُ فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْهَا قَالَ يَقُولُونَ لَوْ رَأَوْهَا كَانُوا أَشَدَّ مِنْهَا فِرَارًا وَأَشَدَّ لَهَا مَخَافَةً قَالَ فَيَقُولُ فَأُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ قَالَ يَقُولُ مَلَكٌ مِنْ الْمَلَائِكَةِ فِيهِمْ فُلَانٌ لَيْسَ مِنْهُمْ إِنَّمَا جَاءَ لِحَاجَةٍ قَالَ هُمْ الْجُلَسَاءُ لَا يَشْقٰى جَلِيسُهُمْ”․(صحیح البخاری:  ج2 ص948 کتاب الدعوات․ باب فضل ذکر اللہ عز وجل، صحیح مسلم: ج2 ص344 کتاب الذکر والدعا․ باب فضل مجالس الذکر)ترجمہ:  حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:  اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ایسے بھی ہیں جو راستوں میں چلتے پھرتے رہتے ہیں اور ذکر کرنے والوں کو تلاش کرتے رہتے ہیں۔ جب وہ ایسے لوگوں کو پا لیتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہوں  تو یہ فرشتے ایک دوسرے کو آواز دیتے ہیں کہ ادھر آ جاؤ! تم جس چیز کی تلاش میں تھے وہ یہاں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  وہ فرشتے ان ذکر کرنے والوں کو آسمان دنیا  تک اپنے پروں سے ڈھانپ لیتے ہیں۔ (جب  ذکر کرنے والے واپس چلے جاتے ہیں تو  یہ فرشتے بھی آسمان کی طرف چڑھ جاتے ہیں تو) اللہ تعالیٰ ان فرشتوں سے پوچھتا ہے -حالانکہ وہ بخوبی جانتا ہے – کہ میرے بندے کیا کہہ رہے تھے؟ فرشتے عرض کرتے ہیں کہ  وہ لوگ آپ کی تسبیح بیان کر رہے تھے، آپ کی بڑائی بیان کر رہے تھے، آپ کی تعریف  اور بزرگی بیان کر رہے تھے۔  اللہ تعالیٰ پھر فرماتے ہیں: کیا انہوں نے مجھے دیکھا ہے؟ فرشتے عرض کرتے ہیں: قسم بخدا! انہوں نے آپ کو نہیں دیکھا۔ اللہ فرماتے ہیں: اگر وہ مجھے دیکھ لیں تو کیا کریں گے؟ فرشتے عرض کرتے ہیں: اگر وہ آپ کو دیکھ لیتے تو آپ کی عبادت زیادہ کرتے، آپ کی بزرگی اور تعریف زیادہ بیان کرتے اور آپ کی تسبیح پہلے سے بڑھ کر کرتے۔ اللہ فرماتے ہیں: وہ مجھ سے کیا چیز مانگ رہے تھے؟ فرشتے عرض کرتے ہیں:  وہ آپ سے آپ  کی جنت مانگ رہے تھے ۔  اللہ فرماتے ہیں:  کیا انہوں نے میری جنت کو دیکھا ہے؟  فرشتے عرض کرتے ہیں:  نہیں! قسم بخدا! انہوں نے جنت کو نہیں دیکھا۔ اللہ فرماتے ہیں:  اگر وہ جنت کو دیکھ لیتے تو ان کی کیا کیفیت ہوتی؟  وہ عرض کرتے ہیں:  اگر وہ دیکھ لیتے تو اسے طلب کرنے میں اور زیادہ شوق، ذوق اور رغبت کرتے۔  اللہ فرماتے ہیں: وہ کس  چیز سے پناہ مانگ رہے تھے؟ فرشتے عرض کرتے ہیں: وہ جہنم کی آگ سے پناہ مانگ رہے تھے۔ اللہ فرماتے ہیں: کیا انہوں نے جہنم کو دیکھا ہے؟ فرشتے عرض کرتے ہیں: قسم بخدا انہوں نے جہنم کو نہیں دیکھا۔  اللہ فرماتے ہیں: اگر وہ جہنم کو دیکھ لیتے تو ان کی کیفیت کیا ہوتی؟  فرشتے عرض کرتے ہیں:   اگر وہ جہنم کو دیکھ لیتے تو اس سے زیادہ پناہ مانگتے اور اس سے زیادہ خوف کھاتے۔  تو اللہ فرماتے ہیں: اے فرشتو! گواہ رہنا، میں نے انہیں معاف کر دیا  ہے۔ ان میں سے ایک فرشتہ عرض کرتا ہے کہ ان میں فلاں بندہ بھی تھا جو ان کے ساتھ (ذکر کرنے کے لیے وہاں) نہیں بیٹھا تھا بلکہ اپنی کسی ضرورت کے لیے وہاں آ گیا تھا تو اللہ فرماتے ہیں:  یہ ایسے لوگ ہیں کہ ان کے ساتھ بیٹھنے والے کو بھی محروم نہیں کیا جاتا۔

• علامہ  محی الدین ابو زکریا یحییٰ  بن شرف النووی (ت676ھ) لکھتے ہیں:وفى هذا الحديث فضيلة الذكر وفضيلة مجالسه والجلوس مع أهله․(شرح مسلم للنووی: ج2 ص344)ترجمہ: اس حدیث میں ذکر ، مجالس ذکر اور ذکر کرنے والوں کے ساتھ بیٹھنے کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔

• علامہ محمد بن یوسف بن علی بن سعید الكرمانی (ت 786ھ) لکھتے ہیں:وفيه شرف أصحاب الأذكار وأهل التصوف الذين يلازمون ويواظبون عليها․(الکواکب الدراری فی شرح صحیح البخاری للکرمانی: ج22 ص187 باب فضل ذکر اللہ عز وجل)ترجمہ: اس حدیث میں ذکر کرنے والوں اور اہل تصوف کی فضیلت ظاہر ہوتی ہے جو ان مجالس کا اہتمام کرتے ہیں اور  ان کی پابندی کرتے ہیں۔

• حافظ احمد بن علی ابن حجر عسقلانی  الشافعی (ت852ھ) لکھتے ہیں:وفي الحديث فضل مجالس الذكر والذاكرين وفضل الاجتماع علي ذلك․(فتح الباری: ج11 ص255 باب فضل ذکر اللہ عز وجل)ترجمہ: اس حدیث میں ذکر کی مجالس، ذکر کرنے  والوں اور ذکر کرنے کے لیے جمع ہونے کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔

(5): حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي وَأَنَا مَعَهُ إِذَا ذَكَرَنِي فَإِنْ ذَكَرَنِي فِي نَفْسِهِ ذَكَرْتُهُ فِي نَفْسِي وَإِنْ ذَكَرَنِي فِي مَلَإٍ ذَكَرْتُهُ فِي مَلَإٍ خَيْرٍ مِنْهُمْ ․(صحیح البخاری: ج2 ص  1101کتاب الرد علی الجہمیۃ وغیرھم التوحید․ بَاب قَوْلِ اللهِ تَعَالٰى : وَيُحَذِّرُكُمْ اللَّهُ نَفْسَهُ )ترجمہ: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ میں اپنے بندے کے ساتھ ویسا ہی معاملہ کرتا ہوں جیسا وہ مجھ سے گمان رکھتا ہے۔میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں جب وہ مجھے یاد کرتا ہے، اگر وہ مجھے اکیلا یاد کرے تو میں اسے اکیلا یاد کرتا ہوں ، اگر وہ مجھے کسی مجلس میں یاد کرے تو میں اس سے بہتر مجلس میں اس کا ذکر کرتا ہوں

ذکر بالجہر کے جواز کی چند شرائط ہیں، انہیں ملحوظ رکھا جائے تو اس کی اجازت ہے۔ شرائط یہ ہیں:1. ریاء یعنی لوگوں کو دکھانا مقصود  نہ ہو۔2. سونے والے کی نیند میں خلل نہ آتا ہو۔3. نماز پڑھنے والے کی نماز میں خلل نہ آتا ہو۔4. تلاوت کرنے والے کی تلاوت میں خلل نہ آتا ہو۔5. اونچی آواز اور خاص کیفیات کو بذات خود مقصود نہ سمجھا جائے  بلکہ انہیں مقصد اصلی (یعنی تزکیہ نفس) کے لیے ذریعہ اور وسیلہ سمجھا جائے۔۶ : جو اس طرز کا ذکر نہ کرے اس پر طعن و تشنیع نہ کی  جائے۔

• علامہ احمد بن محمد بن اسماعیل الطحطاوی الحنفی (ت1231ھ) لکھتے ہیں:ونص الشعراني في “ذكر الذاكر للمذكور والشاكر للمشكور” ما لفظه: وأجمع العلماء سلفا وخلفا على استحباب ذكر الله تعالى جماعة في المساجد وغيرها من غير نكير إلا أن يشوش جهرهم بالذكر على نائم أو مصل أو قارىء قرآن كما هو مقرر في كتب الفقه․ (حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح:  ص318  کتاب الصلاۃ․ فصل فی صفۃ الاذکار)ترجمہ: علامہ شعرانی رحمۃ اللہ علیہ نے ”ذكر الذاكر للمذكور والشاكر للمشكور“ میں فرمایا ہے:  سلف و خلف تمام علماء کا مساجد اور مساجد کے علاوہ دیگر  مقامات میں اجتماعی  ذکر کے استحباب پر بغیر کسی نکیر کے اجماع ہے بشرطیکہ ذکر بالجہر کی وجہ سے کسی سونے والے، نماز پڑھنے والے اور تلاوت کرنے والے کو تکلیف نہ ہو

علامہ محمد امین بن عمر بن عبد العزیز بن احمد ابن عابدین شامی (ت1252ھ) لکھتے ہیں:وفي حاشية الحموي عن الإمام الشعراني: أجمع العلماء سلفا وخلفا على استحباب ذكر الجماعة في المساجد وغيرها إلا أن يشوش جهرهم على نائم أو مصل أو قارىء الخ (رد المحتار مع الدر المختار: ج2 ص525  مطلب فی رفع الصوت بالذکر)ترجمہ: حاشیہ حموی میں امام شعرانی رحمۃ اللہ علیہ کا یہ فرمان موجود ہے کہ: سلف و خلف تمام علماء کا مساجد اور مساجد کے علاوہ دیگر  مقامات میں اجتماعی  ذکر کے استحباب پر بغیر کسی نکیر کے اجماع ہے بشرطیکہ ذکر بالجہر کی وجہ سے کسی سونے والے، نماز پڑھنے والے اور تلاوت کرنے والے کو تکلیف نہ ہو۔مجالس ذکر کا قیام مساجد میں بھی جائز ہے بشرطیکہ مذکورہ شرائط کی پابندی کی جائے۔ امام شعرانی رحمۃ اللہ علیہ نے سلف وخلف علماء کا اس بات پر اجماع ذکر کیا ہے کہ مساجد میں ایسی مجالس کا قیام مستحب ہے:وأجمع العلماء سلفا وخلفا على استحباب ذكر الله تعالى جماعة في المساجد وغيرها من غير نكير إلا أن يشوش جهرهم بالذكر على نائم أو مصل أو قارىء قرآن كما هو مقرر في كتب الفقه․(حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح:  ص174 فصل فی صفۃ الاذکار)ترجمہ: سلف و خلف تمام علماء کا مساجد اور مساجد کے علاوہ دیگر  مقامات میں اجتماعی  ذکر کے استحباب پر بغیر کسی نکیر کے اجماع ہے بشرطیکہ ذکر بالجہر کی وجہ سے کسی سونے والے، نماز پڑھنے والے اور تلاوت کرنے والے کو تکلیف نہ ہو،

• حضرت مولانا مفتی عبد الستار (رئیس دار الافتاء جامعہ خیر المدارس ملتان) ان شرائط کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:”البتہ ذکر بالجہر میں یہ شرط ہے کہ بطور ریاء نہ ہو، کسی نائم یا مصلی کو اذیت نہ ہو، بلا تجویزِ شیخ جہرِ مفرط نہ ہو، پھر اس جہرِ مفرط اور اس کی  ہیئات خاصہ کو قربت مقصودہ نہ سمجھے، تارک پر نکیر نہ ہو۔“

(خیر الفتاویٰ: ج2 ص715)

مجالس ذکر کا قیام مساجد میں بھی جائز ہے بشرطیکہ مذکورہ شرائط کی پابندی کی جائے۔ امام شعرانی رحمۃ اللہ علیہ نے سلف وخلف علماء کا اس بات پر اجماع ذکر کیا ہے کہ مساجد میں ایسی مجالس کا قیام مستحب ہے:وأجمع العلماء سلفا وخلفا على استحباب ذكر الله تعالى جماعة في المساجد وغيرها من غير نكير إلا أن يشوش جهرهم بالذكر على نائم أو مصل أو قارىء قرآن كما هو مقرر في كتب الفقه․(حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح:  ص174 فصل فی صفۃ الاذکار)ترجمہ: سلف و خلف تمام علماء کا مساجد اور مساجد کے علاوہ دیگر  مقامات میں اجتماعی  ذکر کے استحباب پر بغیر کسی نکیر کے اجماع ہے بشرطیکہ ذکر بالجہر کی وجہ سے کسی سونے والے، نماز پڑھنے والے اور تلاوت کرنے والے کو تکلیف نہ ہو،خلاصہ کلام: ذکر انفرادی  ہو یا اجتماعی ،سراًہو یا جہراً ،مسجد میں ہو یا مسجد سے باہر ہو  یہ جائز ہے اور ثابت ہے ۔ذکر ایک ایسی  عبادت ہےکہ جس کے لیے نہ  طہارت شرط، نہ قبلہ ،نہ کوئی خاص مکان ، نہ کوئی خاص وقت ،نہ کوئی خاص ہیئت ،   نہ کوئی خاص مقدار شرط ہے ۔ البتہ اگر کوئی خاص ہیئت کو یا  جہراً یا سراً  وغیرہ کو لازم سمجھتا ہے تو اس صورت میں یہ ناجائز ہوگا۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاء مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved