• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

ضعیف حدیث سے ثابت شدہ دعا کو مسنون کہنا کیسا ہے؟

استفتاء

اس پوسٹ میں جو حدیث ذکر کی گئی ہے یہ سخت ضعیف ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس ضعیف حدیث سے ثابت شدہ دعا کو ”مسنون دعا“ کہہ سکتے ہیں؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

یہ روایت ضعیف تو ہے لیکن اس کا ضعف شدید نہیں جو قریب بہ موضوع ہوتا ہے بلکہ قابلِ برداشت ضعف ہے۔ اس لیے فضائل میں اس پر عمل کرنا جائز ہے اور اس میں ذکر کردہ دعا کو مسنون ومستحب کہنا بھی درست ہے۔ 

علامہ جمال الدین محمد طاہر الصدیقی الفَتْنی الحنفی (ت986ھ) اس روایت کے بارے میں لکھتے ہیں:روي بإسناد ضعيف ” أنه صلى الله عليه وسلم كان إذا دخل رجب قال اللهم بارك لنا في رجب وشعبان وبلغنا رمضان ” ويجوز العمل في الفضائل بالضعيف.(تذکرۃ الموضوعات للفتنی: ص117)ترجمہ: ایک ضعیف سند سے یہ حدیث مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رجب کا مہینہ شروع ہوتے ہی یہ دعا مانگتے تھے: اے اللہ! رب اور شعبان کے مہینوں میں ہمارے لیے برکت عطا فرما اور ہمیں رمضان کے مہینے تک پہنچا!“ (علامہ طاہر فرماتے ہیں) فضائل میں ضعیف حدیث پر عمل کرنا جائز ہے۔

یہی وجہ ہے کہ محدث عظیم شارح مسلم علامہ  محی الدین ابو زکریا یحییٰ  بن شرف النووی (ت676ھ) اس روایت کو ضعیف مان کر فضائل میں قبول کیا ہے۔ (کتاب الاذکار للنووی: رقم الحدیث 541)

علامہ تقی الدین ابو العباس احمد بن عبدالحلیم بن عبد السلام  بن  تیمیہ  الحرانی الحنبلی  (ت728ھ) نے بھی خاص اسی روایت کو ثابت مانا ہے اور اس روایت کے علاوہ باقی روایات کو غیر ثابت قرار دیا ہے۔(اقتضاء الصراط المستقیم لابن تیمیۃ: ج2 ص134)واللہ اعلم بالصوابدارالافتاء مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved