• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

یہ حدیث مبارک کس کتاب میں ہے؟

استفتاء

آپ کی کتاب خطبات متکلم اسلام میں ج1،ص119 پر ایک حدیث نقل کی ہے۔ وما كان موافقا بكتاب الله وبسنتي والی حدیث کون سی کتاب میں ہے اور کس نمبر پر ہے؟رہنمائی کریں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

سوال میں درج الفاظ کسی حدیث میں نہیں ہیں، ان الفاظ کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نسبت میں خطا ہوئی ہے، آئندہ نسخہ میں تصحیح کر دی جائے گی۔ آپ نے متوجہ کیا ، اللہ کریم آپ کو بہترین بدلہ عطا فرمائے۔باقی اس موقع پر میری گفتگو کا مقصد یہ اصول بیان کرنا تھا ، جو کہ غلطی سے حدیث کے عنوان سے ہو گیا ، وہ اصول یہ ہیں:[1]: امام ابو یوسف یعقوب بن ابراہیم رحمہ اللہ( ت 182ھ) فرماتے ہیں :فَمَا خَالَفَ القُرآنَ فَلَيْسَ عَنْ رَسُوْلِ اللهِ صلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسلَّمَ وإنْ جَاءَتْ بِه الرِوَايَةُ(اَلرَّدُّ عَلٰی سِیَرِ الْاَوْزَاعِیِّ: باب سھم الفارس والراجل )
ترجمہ: جو روایت قرآن کریم کے خلاف ہو وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نہیں ہوسکتا اگر چہ وہ بات کسی روایت میں آئی ہو۔[2]: حافظ ابوبکر احمد بن علی خطیب بغدادی رحمہ اللہ( ت 463ھ) فرماتے ہیں :“إذَا رَوٰى الثِّقَةُ المَأمُوْنُ خَبَرًا مُتَّصِلَ الْإِسْنَادِ رُدَّ بأمُوْرٍ … أن يُخَالِفَ نَصَّ الكِتَابِ وَالسُّنَّةَ المُتَوَاتِرَةَ، فَيُعْلَمَ أنَّهٗ لَا أصْلَ لَهٗ أو مَنْسُوْخٌ”(الفقیہ والمتفقہ :باب القول فيما يرد به خبر الواحد)
ترجمہ: جب ثقہ ،مضبوط راوی سندِمتصل سے کوئی بات نقل کرے تو اس روایت کو چند وجوہ کی بنیاد پر چھوڑ دیا جاتاہے ،ایک یہ کہ وہ قرآن کریم کی آیت کے خلاف ہو دوسرا یہ کہ وہ سنت متواترہ سے ٹکراجائے ،ایسی صورت میں جان لینا چاہئے کہ یا تو اس روایت کی کوئی اصل نہیں یا پھر وہ منسوخ ہے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved