- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
اگر شوہر بیوی کو کہے کہ آپ اگر ماں کے گئی تو آپ کو تین بار طلاق ہو گی اور بیوی ماں کے گھر جانا چاہے تو کیا تین بار طلاق ہو گی یا ایک طلاق ہو گی؟ اگر شوہر اس طرح کہنے کے بعد دوبارہ ماں کے گھر جانے کی اجازت دے دے تو کیا اس اجازت کی وجہ سے ماں کے گھر جانے سے طلاق نہ ہو گی؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
[1]: ماں کے گھر جانے کی صورت میں تینوں طلاقیں واقع ہو جائیں گی۔[2]: طلاق کو کسی شرط کے ساتھ جوڑ دیا جائے تو اس کو ”تعلیقِ طلاق“ کہتے ہیں، طلاق کو معلَّق کرنے کے بعد اس تعلیق کوواپس نہیں لیا جا سکتا۔ لہٰذا شوہر کی طرف سے دوبارہ اجازت کے باوجود اگر وہ ماں کے گھر گئی تو بھی تینوں طلاقیں واقع ہو جائیں گی۔[3]: بیوی ؛ ماں کے گھر کبھی بھی نہ جائے۔ اگر ما ں کے گھر جانا ضروری ہو تو اس کا حل یہ ہے کہ شوہر ایک طلاق بائن دے دے،اس سے نکاح ٹوٹ جائے گا، طلاق کی عدت وہ شوہر کے گھر گزارے، دورانِ عدت شوہر بیوی مکمل علیحدہ رہیں، عدت تین حیض (حیض نہ آنے کی صورت میں تین ماہ) مکمل ہونے کے بعد وہ عورت ماں کے گھر چلی جائے۔ اس طرح شرط پوری ہو جائے گی اور اس کا اثر ختم ہو جائے گا۔ اس کے بعد باہمی رضامندی سے شرعی گواہوں کی موجودگی میں نئے حق مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کر لیا جائے۔ نئے نکاح کے بعد ماں کے گھر جانے سے مزیدطلاق واقع نہ ہو گی۔[4]: آئندہ شوہر کو مزید دو طلاقوں کا حق حاصل ہو گا، اور آئندہ اگر اس نے جان بوجھ کر یا بھول کر، غصہ میں یا پیار میں، لکھ کر یا بول کر، کسی بھی طرح دو طلاقیں دے دیں تو اس کی بیوی پر کل تینوں (ایک سابقہ، دو موجودہ)طلاقیں واقع ہو جائیں گی ، اور پھر اس کے ساتھ نکاح اس وقت تک نہیں ہو سکے گا جب تک شرعی حلالہ نہ ہو جائے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved