• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

تین دن قربانی کے دلائل (مع چار دن قربانی کے قائلین کی دلیل کا جواب

استفتاء

ہم احناف تین دن تک قربانی کرتے ہیں جبکہ غیر مقلدین چار دن تک۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ ہم احناف کی دلیل کیا ہے؟ غیر مقلدین کی دلیل اور اس کا جواب کیا ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

تین دن قربانی کے دلائل:
[1]: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿لِیَشْھَدُوْا مَنَا فِعَ لَہُمْ وَیَذْکُرُوْااسْمَ اللّٰہِ فِیْ اَیَّامٍ مَّعْلُوْمَاتٍ﴾
(سورۃالحج: 28)
ترجمہ: تاکہ یہ لوگ اپنے فوائد حاصل کے لیے موجود ہوں اور ایام مقررہ میں ان مخصوص چوپائیوں پر اللہ کا نام لیں (یعنی قربانی کریں)
اس آیت میں ”ایام مقررہ“ سے مراد قربانی کے دن ہیں۔ صحابی رسول حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما  فرماتے ہیں:
“اَ لْمَعْلُوْمَاتُ یَوْ مُ النَّحْرِ وَیَوْ مَانِ بَعْدَہُ.”
(تفسیرابن ابی حاتم الرازی: ج6  ص261)
ترجمہ: ”ایام معلومات“ سے یوم النحر(10ذوالحجہ)اوراس کے بعد کے دو دن مراد ہیں۔
[2]: عَنْ سَلْمَۃَ بْنِ الْاَکْوَعِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِیُّ صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: “مَنْ ضَحیّٰ مِنْکُمْ فَلَا یُصْبِحَنَّ بَعْدَ ثَالِثَۃٍ وَبَقِیَ فِیْ بَیْتِہِ مِنْہُ شَئْیٌ.”
(صحیح البخاری: رقم الحدیث5569)
ترجمہ: حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: تم میں جو شخص قربانی کرے تو تیسرے دن کے بعد اس کے گھر میں قربانی کے گوشت میں سے کچھ نہ رہناچا ہئے۔
 اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قربانی کے دن تین ہی ہیں، اس لئے کہ جب چوتھے دن قربانی کا بچا ہوا گو شت رکھنے کی اجازت نہیں تو پورا جانورذبح کرنے کی اجازت کہاں سے ہوگی؟
نوٹ: تین دن کے بعد قربانی کا گوشت رکھنے کی مما نعت ابتدائے اسلام میں تھی، بعد میں اجازت دی گئی کہ اسے تین دن کے بعد بھی رکھا جاسکتا ہے۔  اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی واضح رہے کہ کہ’’جب تین کے بعد گوشت رکھنے کی اجازت مل گئی تو تین دن کے بعد بھی قربانی کی جاسکتی ہے‘‘ اس لیے کہ گوشت تو سارا سال بھی رکھا جا سکتا ہے تو کیا قربانی کی اجازت سا را سال ہو گی، ہر گز نہیں۔تین دن کے بعد قربانی کی اجازت نہ پہلے تھی اور نہ اب ہے۔
[3]: قَالَ عَلِیٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: “اَلنَّحْرُ ثَلَاثَۃُ اَیَّامٍ.”
(احکام القرآن للطحاوی: ج2ص205)
ترجمہ: حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:قربانی کے دن تین ہیں۔
[4]: عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبِّا سٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: “النَّحْرُ یَوْمَانِ بَعْدَ یَوْمِ النَّحْرِ وَاَفْضَلُہَا یَوْمُ النَّحْرِ.
(احکام القرآن للطحاوی: ج2ص205)
ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قربانی کے دن یوم النحر (یعنی دس ذوالحجہ) اور اس کے بعد کے دو دن ہیں البتہ یوم النحر میں قربانی کرنا افضل ہے۔
غیر مقلدین کی دلیل: 
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ مَرَّةً عَنْ أَبِى سَعِيدٍ وَمَرَّةً عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِىِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: أَيَّامُ التَّشْرِيقِ كُلُّهَا ذَبْحٌ.
(السنن الكبرىٰ للبیہقی:  رقم الحدیث 19717)
ترجمہ:حضرت سعید بن المسیب ؛ حضرت ابو ہریرہ اور حضرت ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایام تشریق سارے کے سارے ذبح کے دن ہیں۔
غیر مقلدین کا کہنا ہے کہ 13ذوالحجہ بھی چونکہ ایام تشریق میں شامل ہے، اس لیے قربانی کے دن چار ہوں گے۔
جوابات:
[1]: اس کی سند میں ایک راوی”معاویہ بن یحیی الصدفی“ ہے جو کہ مجروح ہے: 
امام یحیی بن معین  (ت233ھ) فرماتے ہیں: 
معاوية بن يحيى الصَدَفِىّ لاشى.
[معاویہ بن یحییٰ صدفی کی حدیث میں کچھ حیثیت نہیں]
امام ابو زرعہ الرازی (ت264ھ) فرماتے ہیں: 
ليس بقوى.
[یہ حدیث میں قوی نہیں ہے]
امام ابو محمد عبد الرحمن بن محمد بن ادريس ابن ابی حاتم الرازی (ت327ھ) فرماتے ہیں:
احاديثُه كلُّها مقلُوبةٌ.
[اس کی بیان کردہ احادیث میں تبدیلیاں ہوتی ہیں]
(الجرح و التعدیل: ج8 ص384)
علامہ شمس الدین محمد بن احمد بن عثمان  ذہبی (ت748ھ) فرماتے ہیں: 
ضَعَّفُوْه
[محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے]  (الکاشف: ج2ص277)
[2]: امام ابو محمد عبد الرحمن بن محمد بن ادريس ابن ابی حاتم الرازی (ت327ھ) نے یہ طریق نقل فرمایا:
معاویۃ بن یحیی الصَدَفی عن الزہری عن سعید بن المسیب عن ابی سعید الخدری.
 اور اپنے والد امام ابو حاتم محمد بن ادريس الرازی (ت 277ھ)  کا فیصلہ نقل کیا: 
ھذاحدیث کِذْب بھذا الاسناد۔
[یہ حدیث اس سند کے ساتھ جھوٹی ہے]
(علل الحدیث  لابن ابی حاتم الرازی: ج1 ص326)
اور ایک مقام پر یہ نقل کیا: 
ھذا حدیث موضوع عندی ۔
[میرے نزدیک یہ حدیث موضوع ہے]
( علل الحدیث  لابن ابی حاتم الرازی: ج1 ص569)
نوٹ: مشہور غیر مقلد عالم زبیر علی زئی صاحب نے بھی چار دن قربانی کی روایات کو ضعیف تسلیم کرتے ہوئے لکھا:
”ایام تشریق میں ذبح والی روایت اپنی تمام سندوں کے ساتھ ضعیف ہے“
(فتاوی علمیہ: ج2ص179)
انہی صاحب نے ایک اور مقام پہ لکھا:
”صحابہ کرام میں سے کسی ایک صحابی سے بھی باسند صحیح یا حسن لذاتہ یہ ثابت نہیں کہ قربانی کے چار دن ہیں “
(مقالات: ج4ص340)
[3]: اس طرح کی جتنی بھی روایات ہیں ان میں راوی ضعیف ہیں اور روایت ایسی نقل کر رہے ہیں جو ثقات (باعتماد راویوں) کے مخالف ہے۔ اس لئے کہ صحیح احادیث مبارکہ میں ”ایام تشریق“ کو کھانے، پینے اور جماع کے ایام فرمایا گیا، نہ کہ ذبح اور قربانی کے ۔ چند روایات پیش ہیں:
• عَنْ نُبَيْشَةَ الْهُذَلِيْ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم: أيَّامُ التَّشْرِيْقِ أيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ.
(صحیح مسلم: رقم الحدیث1141)
ترجمہ: حضرت نبیشہ ہذلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ایام تشریق کھانے اور پینے کے ہیں۔
• عَنْ عُقْبَةَ بنِ عَامِرٍ: قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم : يَومُ عَرَفَةَ ويَوْمُ النَّحْرِ وأيَّامُ التَّشْرِيْقِ عِيْدُنَا أَهْلُ الْإسْلَامِ وَهِيَ أيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ.
(سنن الترمذی  : رقم الحدیث773)
ترجمہ: حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عرفہ کا دن ،قربانی کا دن اور ایامِ تشریق اہل اسلام کی عیدکے دن  اور کھانے پینے کے دن ہیں ۔
• عَنْ بِشْرِ بْنِ سُحَيْمٍ أَنَّ رَسُوْلَ الله ِصَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ خَطَبَ أيَّامَ التَّشْرِيْقِ فَقَالَ: لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ  وَإنَّ هٰذِهِ الْأيَّامَ أيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ.
(سنن ابن ماجۃ: رقم الحدیث1720)
ترجمہ:حضرت بشر بن سُحَیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایام تشریق میں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: جنت میں صرف مسلمان ہی جائیں گے۔ یہ دن کھانے اور پینے کے دن ہیں۔
ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جس روایت میں ایام تشریق میں قربانی کا ذکر ہے وہ ضعیف ہے۔ اس لیے ناقابلِ اعتبار ہو گی۔ 
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء 
مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved