- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
عرض یہ ہے کہ ایک شخص نے بیس سال پہلے نکاح کیا تها۔ ایک بیٹا بهی پیدا ہوا۔ مگر خاوند نے بیٹے کی پیدائش کے بعد بیوی سے مکمل لاتعلقی اختیار کرلی دس پندرہ برس سے خاوند بیوی سے دور علیحدہ گهر میں رہتا ہے. نان نفقہ سال میں ایک بار یا کبهی کبهار کسی کے ہاتهوں بهیج دیتا ہے یا بیٹے کو دے دیتا ہے. طلاق کا مطالبہ بهی بیشتر اوقات کیا گیا مگر وہ اس بارے میں کوئی ردعمل ظاہر نہیں کرتا۔عرض یہ ہے کہ خاوند اپنی بیوی سے اتنا عرصہ لاتعلق رہے کوئی میل جول نہ رکهے تو کیا نکاح باقی رہتا ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
محض قطع تعلقی کی وجہ سے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑتا اگرچہ طویل عرصہ گزر جائے ۔ہاںاگر شوہر طلاق الفاظ کہہ دے یا اس بات کا اقرار کر لے کہ میں نے طلاق دے دی ہے تو ایسی صورت میں طلاق واقع ہو جائے گی۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved