- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
زید نے ایک بڑا جانور خریدا اس میں 5 حصے اپنے گھر کے 5 افراد کے لیے رکھے، ایک حصہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اور باقی ایک حصہ جمیع صحابہ رضی اللہ عنہم کی طرف سے قربانی کرنا چاھتا ھے ، کیا اس ایک حصہ میں صرف تمام صحابہ رضی اللہ عنہم کی طرف سے قربان کرنا درست ھے یا ایک ہی صحابی رضی اللہ عنہ کی طرف ہوگی ؟یعنی کہ زید بچے ہوئےایک حصہ میں جمیع صحابہ رضی اللہ عنہم کو شریک کر رہا ہے اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی مجموعی تعداد ایک لاکھ سے زائد ہے تو اس ایک ہی حصہ میں ایک لاکھ سے زائد شریک ہو رہے ہیں جب کہ بڑے جانور میں صرف سات ہی حصے ہوتے ہیں ، تو اس بچے ہوئے ایک حصے میں صرف تمام صحابہ رضی اللہ عنہم کی طرف سےقربانی ہوگی؟یا پھر زید وہ ساتویں حصے کو بھی اپنے کسی اہل خانہ کے نام کرے اور ثواب کی نیت سے تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو شامل کرے تب صحیح ہوگی؟ شرعی نقطہ نظر سے کیا طریقہ کار ہوگا تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی طرف سے قربانی کرنے کا واضح فرمائیں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
درست طریقہ یہ ہے کہ آپ نفل قربانی اپنی یا اہلِ خانہ میں سے کسی ایک فرد کی طرف سے کریں اور اس کا اجر و ثواب تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم (ان کے علاوہ تمام امت مسلمہ میں سے جس کو آپ چاہیں شامل کریں ) کو دیں۔ قربانی کرنے کے بعد آپ یوں دعا کریں۔ یا اللہ! اس قربانی کا جو اجر وثواب آپ نے مجھے عطا فرمایا ہے وہ سب تمام اہل ایمان کو یا فلاں فلاں کو عطا فرما” تو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے امید ہے کہ اپنی بارگاہ میں قربانی قبول فرما کر ضرور بے حساب اجر و ثواب عطا فرمائیں گے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved