- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ1: تعزیت کا حکم کیا ہے؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں وضاحت فرما دیں ۔2: نیز موجودہ وقت میں علماء کرام جو بعد میں تعزیت کرتے ہیں اس کے متعلق کیا حکم ہے؟ اس کی بھی وضاحت فرما دیں۔ عین نوازش ہو گی۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1: کسی مسلمان کے انتقال پر اس کے پسماندگان سے تعزیت کرنا یعنی ان کو تسلی دینا، صبر کی تلقین کرنا اور ان کے غم میں شریک ہونا سنت سے ثابت ہے اور باعث اجر و ثواب ہے۔ تعزیت کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ میت کے گھر جا کر ان کے عزیزوں کو ایسے کلمات کہے جائیں جس سے ان کا غم ہلکا ہو، انہیں پیش آمدہ مصیبت پر صبر کا ثواب یاد دلایا جائے اور میت کے لیے مغفرت اور گھر والوں کے لیے صبر کی دعا کی جائے۔تعزیت کا وقت میت کے انتقال سے لے کر تین دن تک ہے، اس دوران کسی بھی وقت تعزیت کی جا سکتی ہے۔ البتہ افضل یہ ہے کہ غسل اور تدفین سے فراغت کے بعد تعزیت کی جائے تاکہ گھر والے میت کے آخری امور سے فارغ ہو چکے ہوں۔ عام حالات میں تین دن کے بعد تعزیت کرنا ناپسندیدہ اور مکروہ ہے کیونکہ اس سے پرانا غم دوبارہ تازہ ہوتا ہے لیکن اگر تعزیت کرنے والا یا جس سے تعزیت کرنی ہے وہ وہاں موجود نہ ہو، سفر میں ہو یا کسی دور جگہ پر ہو تو ایسی صورت میں تین دن گزرنے کے بعد بھی تعزیت کرنا جائز ہے۔2: موجودہ وقت میں اگر علماء کرام یا دیگر احباب تین دن کی مدت گزرنے کے بعد تعزیت کرتے ہیں، تو اگر وہ کسی عذر، سفر یا دوری کی وجہ سے پہلے نہ آ سکے ہوں تو ان کا یہ عمل درست ہے اور شرعاً اس کی گنجائش موجود ہے۔ تاہم بلا عذر تین دن کے بعد تعزیت کے لیے بیٹھنا یا اس کا باقاعدہ اہتمام کرنا سنت کے مزاج کے خلاف ہے۔
واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved