- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
ایک مسئلہ ہے، براہِ کرم شرعی رہنمائی اور کم از کم وضاحت فرما دیں۔1: اگر کسی بیماری یا مجبوری کی وجہ سے کوئی شخص روزہ نہ رکھ سکے، یا درمیان درمیان میں روزے چھوڑنے پڑ جائیں، تو کیا اس صورت میں فدیہ لازم ہوتا ہے؟ اگر فدیہ ہے تو وہ کیا ہوگا اور کس طرح ادا کیا جائے گا؟2: اگر کسی بیماری یا مجبوری کی وجہ سے کوئی شخص بالکل ہی روزہ نہ رکھ سکے، یعنی ایک بھی روزہ رکھنے کی استطاعت نہ ہو، تو کیا اس پر فدیہ لازم ہوگا؟اس کے علاوہ اگر روزہ نہ رکھ سکنے کے حوالے سے کوئی اور شرعی مسئلہ بھی ہو تو براہِ کرم وہ بھی بیان فرما دیں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
آپ کے سوالات کے جوبات ترتیب وار تحریر کیے جاتے ہیں:
1: اگر کوئی شخص عارضی بیماری یا کسی ایسی مجبوری کی وجہ سے روزہ نہ رکھ سکے جس کے ختم ہونے اور دوبارہ صحت یابی کی امید ہو، تو اس پر فی الحال فدیہ لازم نہیں ہوتا۔ ایسے شخص کے لیے حکم یہ ہے کہ جب وہ تندرست ہو جائے تو چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا کرے، چاہے وہ روزے لگاتار رکھے یا وقفے وقفے سے۔ اگر کوئی مریض گرمی کے طویل دنوں میں روزہ نہیں رکھ سکتا لیکن سردی کے چھوٹے دنوں میں رکھنے کی طاقت رکھتا ہے، تو اسے سردیوں میں ان روزوں کی قضا کرنی چاہیے، اس صورت میں بھی فدیہ دینا جائز نہیں۔
2: فدیہ صرف اس شخص کے لیے ہے جو اتنا بوڑھا ہو چکا ہو کہ روزہ رکھنے کی بالکل طاقت نہ رکھتا ہو اور دن بدن کمزور ہو رہا ہو، یا اسے ایسی دائمی بیماری لاحق ہو جائے جس سے تندرستی کی کوئی امید نہ ہو۔ اگر کوئی شخص اس حد تک معذور ہو کہ ایک بھی روزہ رکھنے کی استطاعت نہ رہے اور مستقبل میں بھی صحت یابی ممکن نہ ہو، تو وہ ہر روزے کے بدلے ایک فدیہ ادا کرے۔ ایک روزے کا فدیہ ایک صدقہ فطر کی مقدار کے برابر ہے، جو کہ پونے دو کلو گندم یا اس کی مارکیٹ میں موجود رائج قیمت بنتی ہے۔ یہ فدیہ کسی مستحق کو نقد رقم کی صورت میں بھی دیا جا سکتا ہے اور کھانا کھلانے کی صورت میں بھی۔
دیگر متعلقہ مسائل:???? اگر کسی نے بیماری کی وجہ سے فدیہ ادا کر دیا اور بعد میں اللہ تعالیٰ نے اسے صحت یاب کر دیا، تو پہلے سے دیا گیا فدیہ نفلی صدقہ بن جائے گا اور اس شخص پر ان روزوں کی قضا رکھنا دوبارہ لازم ہو جائے گی۔????اگر کوئی مریض بیماری کی حالت میں ہی انتقال کر جائے اور اسے صحت یابی کی مہلت ہی نہ ملے، تو اس پر ان روزوں کی قضا یا وصیت واجب نہیں ہوتی۔????جو شخص فدیہ دینے کی مالی حیثیت نہ رکھتا ہو، وہ اللہ سے استغفار کرے اور اگر ممکن ہو تو وصیت کر دے کہ اگر بعد میں مال ملے تو اس کے ترکہ میں سے فدیہ ادا کر دیا جائے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved