• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

آب زمزم پینے کاطریقہ

استفتاء

عرض یہ ہے کہ زمزم کا پانی کھڑے ہو کر پینا چاہیے یا بیٹھ کر؟ اگر ہم حرم میں ہوں اور بیت اللہ کے سامنے ہوں تو کھڑے ہو کر پینے کا تعلق اس وقت کے ساتھ ہے یا نہیں ؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

آب زمزم کھڑے ہو کر پینا اور بیٹھ کر پینادونوں طرح جائز ہے۔   راجح یہی ہے کہ قبلہ رو ہو کرکھڑے ہو کر پینا مستحب ہے۔ اس لیے کہ یہ پانی سراسر شفا ہے۔ تو کھڑے ہوکر پینے میں بھی کوئی نقصان نہیں ہوگا۔
علامہ حسن بن عمار بن علی الشرنبلالی حنفی رحمہ اللہ (ت:1069)ھ لکھتے ہیں :
وشرب ماء زمزم والتضلع منہ استقبال  البیت والنظر الیہ قائماً
مراقی الفلاح ۔کتاب الحج
ترجمہ:زمزم کا پانی خوب سیر ہو کر اور قبلہ رو اور بیت اللہ کی طرف نظر کرکے کھڑے ہو کر پینا چاہیے۔
ملا علی بن سلطان القاری الھروی الحنفی رحمہ اللہ (ت:1014)ھ لکھتے ہیں :
فانہ مخصص بماء زم زم و شرب فضل الوضوء ،کما ذکرہ بعض  علمائنا ،وجعلوا القیام فیھما مستحباً۔
مرقاۃ المفاتیح ۔باب الاشربۃ، الفصل الاول
ترجمہ:
(کھڑا ہونا ) یہ زم زم اور وضو کے بچے ہوئے پانی کے ساتھ خاص ہے جیساکہ  بعض علماء نے ذکر کیا ہے اور اس کے لیے قیام کو مستحب قرار دیا ہے ۔
واللہ اعلم بالصواب 
دارالافتاء 
مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved