• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

شیطان کا خوف حضرت عمر سے اور حضور ﷺ کے سامنے آنے کی حقیقت

استفتاء

اکثر لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے شیطان ڈرتا تھا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کیوں نہیں ڈرتا تھا؟ براہِ کرم اس بارے میں واضح جواب فرمائیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گئے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام و مرتبہ تمام انبیاء اور صحابہ کرام بشمول حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے کہیں بلند ہے۔ شیطان کا حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ڈرنا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آنے کی جرات کرنا ہرگز اس بات کی دلیل نہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا مقام زیادہ ہے۔

اس مسئلے کو ایک مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ مثال یوں ہے کہ ایک چور یا ڈاکو کسی سخت گیر پولیس والے یا کوتوال سے تو بہت ڈرتا ہے، لیکن ملک کے بادشاہ کے سامنے آنے کی ہمت کر لیتا ہے۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ بادشاہ کا رعب کم ہے، بلکہ مجرم سوچتا ہے کہ بادشاہ رحیم و کریم ہے، شاید اس پر رحم فرمائے اور معاف کر دے۔ پولیس والا اسے ہرگز نہیں چھوڑے گا۔

بالکل اسی طرح، حضور صلی اللہ علیہ وسلم سراپا رحمت ہیں، اسی لیے شیطان آپ کی شفقت کی امید میں آپ کے سامنے آنے کی جسارت کرتا تھا، جبکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ حق و باطل کے درمیان “فاروق” تھے اور ان کی طبیعت میں باطل کے لیے انتہائی سختی تھی، جس کی وجہ سے شیطان ان کے سامنے آنے سے بھی ڈرتا تھا۔

مزید برآں جب بھی شیطان نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آنے کی ہمت کی، اسے منہ کی کھانی پڑی۔ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک مرتبہ دورانِ نماز شیطان نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تنگ کرنا چاہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پکڑ لیا اور مسجد کے ستون سے باندھنا چاہتے تھے تاکہ لوگ دیکھ سکیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے بھائی حضرت سلیمان علیہ السلام کی دعا یاد آ گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھوڑ دیا۔

چنانچہ امام محمد بن اسماعیل البخاری رحمہ اللہ (ت256ھ) روایت نقل کرتے ہیں:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:” إِنَّ عِفْرِيتًا مِنَ الْجِنِّ تَفَلَّتَ عَلَيَّ الْبَارِحَةَ ․․․ لِيَقْطَعَ عَلَيَّ الصَّلَاةَ، فَأَمْكَنَنِي اللَّهُ مِنْهُ وَأَرَدْتُ أَنْ أَرْبِطَهُ إِلَى سَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ حَتَّى تُصْبِحُوا وَتَنْظُرُوا إِلَيْهِ كُلُّكُمْ، فَذَكَرْتُ قَوْلَ أَخِي سُلَيْمَانَ: رَبِّ وَهَبْ لِي مُلْكًا لا يَنْبَغِي لأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي ․․․ فَرَدَّهُ خَاسِئًا.(صحيح البخاری: رقم الحدیث 4808)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گزشتہ رات ایک سرکش جِن اچانک میرے پاس آیا تاکہ میری نماز خراب کرے لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے اس پر قدرت دے دی اور میں نے سوچا کہ اسے مسجد کے ستون سے باندھ دوں تاکہ صبح کے وقت تم سب لوگ بھی اسے دیکھ سکو۔ پھر مجھ کو اپنے بھائی سلیمان علیہ السلام کی دعا یاد آ گئی: “رب هب لي ملكا لا ينبغي لأحد من بعدي” کہ “اے میرے رب! مجھے ایسی سلطنت دے کہ میرے بعد کسی کو میسر نہ ہو۔” پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جِن کو ذلت کے ساتھ وہاں سے بھگا دیا۔

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ شیطان حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے حرکت کرنے کی کوشش کرتا رہا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکمت، تدبیر اور رحمت اسے ضابطے میں رکھنے اور ضرر سے بچانے کا سبب بنی۔

واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved