• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

طلاق کی نیت سے “تو میری بیوی نہیں ہے” کہنے کا حکم

استفتاء

ایک مسئلہ دریافت کرنا ہے، یہ کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی سے طلاق کی نیت سے یوں کہا : تو آج کے بعد میری بیوی نہیں ہے، اور یہ بھی کہا کہ عدالت میں جاکر نکاح فسخ کرلو ۔ یہ بات اس نے بیوی کے رشتےداروں سے کئی جگہوں میں کہی ہے۔ اب دریافت یہ کرنا ہے کہ اس آدمی اور اس کی بیوی کے درمیان حرمت مغلظہ ثابت ہوگی یا نہیں؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

جب شوہر نے پہلی بار طلاق کی نیت سے یہ کہا تھا: تو میری بیوی نہیں ہے، تو اس سے ایک طلاق بائن واقع ہو گئی تھی، اس کی وجہ سے نکاح ختم ہو گیا تھا۔ بعد میں جب یہ الفاظ دوبارہ کہے تو نکاح ٹوٹ جانے کی وجہ سے ان الفاظ سے مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔مذکورہ صورت میں میاں بیوی کا نکاح فوراً ٹوٹ چکاہے، اس لیے ساتھ رہنا حرام ہے۔ اگر باہمی رضامندی سے ساتھ رہنا چاہیں تو نیا نکاح (گواہوں کی موجودگی میں نئے حق مہر کے ساتھ ایجاب و قبول کرنا ) ضروری ہے۔ چونکہ یہ طلاق مغلّظہ نہیں ہے اس لیے حلالہ شرعی کی ضرورت نہیں ہے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved