• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

سورج گرہن اور حاملہ خاتون پر اس کے اثرات کی حقیقت

استفتاء

میرے دو سوالات ہیں:
1: کیا حاملہ عورت حمل کی حالت میں سورج گرہن کے وقت گھر سے باہر نکل سکتی ہے؟2: کیا حمل کی حالت میں عورت سبزیاں کٹنگ کر سکتی ہے یا نہیں؟اس بارے میں رہنمائی فرمائیں!

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

دور جاہلیت کا یہ غلط نظریہ تھا کہ جب کسی کی ولادت ہوتی  یا وفات   ہوتی تو سمجھتے کہ سورج  یا چاند کو گرہن فلاں کی پیدائش یا وفار کی وجہ سے ہوا ہے  ۔ اس لیے وہ لوگ ان مواقع کو برا جانتے تھے۔ اسلام نے اس نظریہ کی سخت تردید کی ہے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ مِنْ النَّاسِ وَلَكِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَقُومُوا فَصَلُّوا.
(صحیح البخاری: رقم الحدیث1041)
ترجمہ: سورج اور چاند کو کسی شخص کے مرنے کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتابلکہ  سورج گرہن اور چاند گرہن اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ اس لیے تم جب بھی دیکھو کہ سورج یا چاند کو گرہن ہو گیا ہے تو کھڑے ہوجایا کرو اور نماز پڑھا کرو!
اسلام نے چاند اور سورج گرہن کے وقت اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہونے اور نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے۔ حاملہ خواتین بھی اس موقع پر نماز اور توبہ و استغفار کا اہتمام کیا کریں۔ حاملہ خواتین  کا اس ڈر سے کمروں یا گھروں سے باہر نہ نکلنا اور سبزی وغیرہ نہ کاٹنا کہ اس سے ان کے حمل پر اثر پڑے گا اس بات کی شرعاً کوئی حقیقت نہیں بلکہ اگر ضرورت ہو تو عورت یہ کام کر سکتی ہے۔
حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی (ت1362ھ) لکھتے ہیں:
”مشہور ہے کہ چاند اور سورج کے گہنے کے وقت کھانا پینا منع ہے، سو اس کی بھی کوئی اصل نہیں۔ البتہ وہ وقت توجہ الی اللہ کا ہے، اس وجہ سے کھانے پینے کا شغل ترک کردینا اور بات ہے۔ رہا یہ کہ دنیا کے تمام کاروبار، بلکہ گناہ تک تو کرتا رہے اور صرف کھانا پینا چھوڑ دے، یہ شریعت کو بدل ڈالنا اور بدعت ہے۔“ (اغلاط العوام :ص 191)
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء 
مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved