- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
عرض ہے کہ ایک مدرسہ میں اجتماعی قربانی کا انتظام کیا گیا ہے اور ایک حصہ کی رقم 2000 روپے ہے اور پانچ کلو گوشت بھی اس میں ملے گا۔سوال یہ ہے کہ مثلاً ایک جانور میں سات حصے ہوتے ہیں۔ اس میں سے 100 کلو گوشت نکلا۔ اب اس جانور میں جن سات لوگوں کو متعین کیا گیاہے ان کو 5، 5 کلو کے اعتبار سے 35 کلو گوشت دے دیا جائے گا۔ اب جو 65 کلو گوشت بچا ہے اس میں سے دوسرے لوگوں کو جنہوں نے مدرسہ میں حصہ لکھوایا ہے ان کو5، 5 کلو گوشت دینا جائز ہے یا نہیں؟مدلل جواب مرحمت فرمائیں!نیز اگر یہ صورت نا جائز ہے تو جواز کی کوئی شکل ہو تو وہ بھی بتلائیے۔ جزاک اللہ خیراً
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
قربانی کے جانور کے شرکاء اگر اس بات پر باہم متفق ہوں کہ ہم اس جانور میں سے پانچ پانچ کلو گوشت لیں گے اور باقی سارا صدقہ کر دیں گے تو اس طرح کرنا جائز ہے۔ عین ممکن ہے کہ سوال میں ذکر کردہ ادارہ اسی طرز پر حصص جمع کرتا ہو، شرکاء اس بات سے اتفاق کرتے ہوں کہ ہم پانچ پانچ کلو گوشت لے کر باقی سارا گوشت صدقہ کریں گے اور پھر وہ ادارہ اس ”صدقہ والے گوشت“ کو لوگوں میں تقسیم کرتا ہو اور یہ بات بلا شبہ جائز ہے۔ ہاں اگر صورت اس کے علاوہ کوئی اور ہو تو سوال کرنے پر اس کی وضاحت بھی کی جا سکتی ہے۔ واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved