• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

شق صدر کا معنی کیا ہے اور یہ کل کتنی بار پیش آیا؟

استفتاء

دریافت یہ کرنا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا شقِ صدر کل کتنی بار ہوا اور اس کا معنی کیا ہے؟براہِ کرم اس بارے میں تفصیل سے وضاحت فرما دیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

شَقّ کامطلب ہوتا ہے پھٹنا، چِرنا اور صدر سینے کو کہتے ہیں۔ شق صدر کا واقعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ زندگی میں کل چار دفعہ پیش آیا، اور ہر بار حکمت جدا جدا تھی۔پہلی بار:جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک چار سال تھی اور حضرت حلیمہ رضی اللہ عنہا کی پرورش میں تھے۔ دو فرشتے حضرت جبرئیل اور میکائیل انسانی شکل میں ایک سونے کے تھال میں برف بھر کر لائے ۔ آپ کا سینہ مبارک چاک کیا دل مبارک کو نکالا پھر اس دل کو چاک کیا اور اس میں سے ایک یا دو خون کے جمے ہوئے ٹکڑے نکالے اور کہا کہ یہ شیطان کا حصہ ہے۔ پھر دل مبارک کو اس تھال میں رکھ کر برف سے دھویا اور دل مبارک کو واپس اپنی جگہ پر لگادیا۔اور پشت کی جانب دونوں کندھوں کے درمیان مہر لگا دی۔

حکمت:جو خون کے جمے ہوئے ٹکڑےنکالے گئے وہ حقیقت میں گناہ اور معصیت کا مادہ تھے ان سے آپ کے قلب اطہر کو پاک کر دیا گیا تاکہ معصیت سے عصمت حاصل ہو جائے۔ برف سے اس لیے دھویا گیا کیونکہ گناہوں کا مزاج حرارت )گرم(ہے اور برف سے برودت)ٹھنڈک( حاصل ہوتی ہے ۔

دوسری بار:جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک دس سال تھی۔

حکمت:چونکہ یہ عمر لہو و لعب اور کھیل کود کی ہوتی ہے ۔ اس عمر میں قلب مبارک کو مادہ لہو ولعب سے پاک کیا گیاکیونکہ لہو و لعب خداتعالیٰ سے غافل کر دیتی ہے ۔

تیسری بار:جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک چالیس سال کے قریب تھی یعنی اعلانِ نبوت کےقریبی زمانے میں۔

حکمت:تاکہ قلب اطہر میں علوم الہیہ اور وحی ربانی کے انوارات کو جذب کرنے کی قوت پیدا ہو سکے۔

چوتھی بار:جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم معراج پر تشریف لے جانے لگے۔

حکمت:تاکہ قلب اطہر عالم ملکوت کی سیر، تجلیاتِ الہیہ اور آیاتِ ربانیہ کا مشاہدہ، رویتِ باری تعالیٰ ، خدا تعالیٰ سے شرفِ ہم کلامی کا تحمل کر سکے۔

فائدہ:بعض سیرت نگاروں نے شق صدر کا حقیقی معنیٰ مراد لینے کے بجائے اس کا معنوی معنیٰ مراد لیا ہے یعنی شرح صدر ۔ لیکن جمہور محققین نے اس کا حقیقی معنیٰ ہی مراد لیا ہے۔ علامہ زرقانی رحمہ اللہ نے شرح مواہب میں امام قرطبی ،امام طیبی، امام توربشتی، امام ابنِ حجر عسقلانی اور امام سیوطی رحمہم اللہ اور دیگر اکابر اہل علم کے حوالے سے اس بات کی تصریح کی ہے کہ شق صدر کا معنیٰ حقیقی مراد ہے اور اس کی تائید میں حدیث صحیح کو پیش کیا ہے جس میں اس بات کی وضاحت ان الفاظ سے ہوتی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ مبارک پر سلائی کا نشان دیکھا کرتے تھے۔

(ملخص :سیرۃ المصطفیٰ از مولانا محمد ادریس کاندھلوی)
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء
مرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved