• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

شبِ معراج میں انبیاء کرام علیہم السلام کی ارواح کو نماز پڑھائی گئی تھی یا اجسام بھی موجود تھے؟

استفتاء

معراج کی شب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں حضرات انبیاء کرام علیہم السلام نے نماز ادا فرمائی تھی، اس وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو امام الانبیاء کا رتبہ عطا ہوا۔ اب دریافت یہ کرنا ہے کہ اس موقع پہ انبیاء کرام علیہم السلام کی ارواح مبارکہ کو نماز پڑھائی گئی تھی یا ان کے اجسام مبارکہ بھی موجود تھے؟ رہنمائی فرمائیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

شبِ معراج میں حضرات انبیاء کرام علیہم السلام نے حضرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں جو نماز پڑھی تھی وہ اجسام اور ارواح دونوں کے مجموعے کے ساتھ پڑھی تھی۔

حضرت ملا علی بن سلطان محمد القاری الھروی الحنفی (ت1014ھ) لکھتے ہیں:
فَإِنَّ حِقِيْقَةَ الصَّلَاةِ وَهِيَ الْإِتْيَانُ بِالْأَفْعَالِ الْمُخْتَلِفَةِ إِنَّمَا تَكُوْنُ لِلْأَشْبَاحِ لَا لِلْأَرْوَاحِ.(مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح: باب فی المعراج)ترجمہ:
نماز کی حقیقت اس کے مختلف افعال کو وجود میں لانا ہے اور یہ اجسام ہی کا کام ہو سکتا ہے نہ کہ صرف ارواح کا۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved