- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
حضرت صحیحین کی صحت سے متعلق آپ نے جو وضاحت فرمائی اس پر مزید دوسوال ہیں ۔
1: حدیث عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے بارے جو تطبیق ہم کرتے ہیں کیا امام بخاری رحمہ اللہ اس تطبیق کے قائل ہیں ؟اگر وہ اس تطبیق کے قائل نہیں تو اضطراب جوں کا توں باقی رہے گا ،اب امام بخاری رحمہ اللہ نے مضطرب روایت اپنی صحیح میں ذکر کیوں کی ؟2: اضطراب کو دور کرنے کے لئے مطلق تطبیق کافی ہے یا ایسی تطبیق ضروری ہے جو دلائل کے موافق ہو ؟اگر مطلق تطبیق کافی ہے تو اس کا حوالہ بتا دیں اور اگر دلائل کے موافق ہونا ضروری ہے تو اس تطبیق کے موافق دلائل نہیں بلکہ اس کے خلاف دلائل موجود ہیں ۔برائے مہربانی جواب عنایت فرماکر شکریہ کا موقع فراہم کریں ۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
پہلے سوال کا جواب :
اضطراب کی صورت میں تطبیق کا مقصد اشکال کو دور کرنا ہوتا ہے اس کے لئے صاحب کتا ب کا اس سے موافقت کرنا ضروری نہیں ہوتا بلکہ اس تطبیق کا دلائل کے موافق ہونا کافی ہوتا ہے جیسے ایمان کی کمی بیشی کے بارے میں ہمارے حضرات جو نصوص میں تطبیق دیتے ہیں اس کا مقصد نصوص کے تعارض کو ختم کرنا ہے خواہ اس تطبیق سے اصحاب کتب موافقت کریں یا نہ کریں۔رہی یہ بات اگر امام بخاری رحمہ اللہ اس تطبیق کے قائل نہیں تو انہوں نے مضطرب روایت اپنی صحیح میں ذکر کیوں کی ؟تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں اضطراب بخاری کی روایت میں نہیں بلکہ دیگر روایات جمع کرنے سے پیدا ہوا ہے ،نیز اگر بخاری کی کسی روایت میں اضطراب آبھی جائے تو اس بارے گزشتہ فتوی میں عرض کرچکا ہوں کہ”صحیحین کی اکثر احادیث صحیح ہیں البتہ بعض احادیث پر سند کے اعتبار سے ،بعض پر متن کے اعتبار سے کلام ہے جن کے جوابات حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے ہدی الساری مقدمہ فتح الباری میں اور امام ابو زکریا یحی بن شرف النووی رحمہ اللہ نے شرح مسلم میں دیے ہیں ۔حافظ صاحب رحمہ اللہ نے ان میں سے بعض اعتراضات کو تسلیم بھی کیا ہے ۔اب ان کتب میں مذکور احادیث کے صحیح ہونے کا مطلب یہ ہو گا کہ مجموعی اعتبار سے احادیث صحیح ہیں متکلَّم فیہ احادیث نہ ہونے کے برابر ہیں ۔“دوسرے سوال کا جواب:
تطبیق کے لئے ضروری ہے کہ وہ دلائل کے موافق ہو اور بحمد اللہ یہاں دلائل موجود ہیں ،جن میں احادیث مرفوعہ ،احادیث موقوفہ اور عقل وقیاس شامل ہیں ۔جن کی تفصیل شرح معانی الآثار وغیرہ میں موجود ہے ۔باقی رہا حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کا اس کے خلاف عمل تو وہ ان کا اجتہاد ہے جس میں وہ بہر حال ماجور ہیں ۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved