- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
کچھ لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ جب تمہارے نزدیک صحابہ کرام رضی اللہ عنہم معیار حق ہیں تو معیار کا معنی ہے کسوٹی ، ترازو۔ اب معیارِ حق کا مطلب یہ ہوا کہ ہے جو کام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کیے، ہم بھی وہی کام کریں۔ تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے بعض سے گناہ بھی سرزد ہوئے تو کیا ہم گناہ بھی ویسے ہی کریں جیسے ان سے ہوئے؟ یا صرف نیک کاموں میں ان کو معیار بنائیں؟ براہِ کرم معیارِ حق صحیح معنی بتا دیجیے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیا
معیار ِ حق کا معنی اچھی طرح سمجھ لیں !معیارِ حق کا معنی یہ ہے کہ نیک اعمال وہ کرنے ہیں جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کیے ہیں اور اگر کبھی گناہ سرزد ہوجائے تو پھر گناہ کے بعد جو کیفیت صحابی کی تھی وہی کیفیت ہماری ہونی چاہی یہ معنی ہے معیار حق کا۔معیار حق کا معنی یہ نہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے انسان اور امّتی ہونے کی حیثیت سے گناہ نہیں ہوئے، یہ دیکھیں کہ اگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی سے گناہ ہو گیا تو گناہ کے بعد جو کیفیت صحابی کی تھی وہی کیفیت ہماری ہونی چاہیے۔ یہ معنی ہے معیار حق کا۔معترضین کو صحابی کا گناہ تو نظر آتا ہے لیکن گناہ کے بعد صحابی کی توبہ والی کیفیت نظر کیوں نہیں آتی ؟ ہم یہ نہیں کہتے کہ صحابی سے گناہ نہیں ہوا ، ہم کہتے ہیں بہ حیثیت انسان ان سے گناہ ہوجاتا لیکن اللہ تعالیٰ نامہ اعمال میں رہنے نہیں دیتے ۔اس لیے اہل السنۃ والجماعۃ کا نظریہ ہے کہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃو السلام معصوم ہیں اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم محفوظ ہیں اور مجتہدین ماجور ہیں۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved