- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
میری ایک شاگرد ہ ہے جو بیلجیم میں رہتی ہے ۔ اس کے والد نے بچپن سے ہی اپنی بیٹی کی منگنی ایک رشتے دار لڑکے سے کر دی ہے۔ اب والدین اس لڑکی کی شادی کرنا چاہتے ہیں مگر لڑکی کہتی ہے کہ وہ لڑکا شراب بھی پیتا ہے، اس نے بہت سی لڑکیوں سے دوستی بھی لگا رکھی ہے اور مجھے بھی فون کر کے بہت تنگ کرتا رہتا ہے۔ جب میں والدین سے کہتی ہوں کہ مجھے اس سے شادی نہیں کرنی تو گھر والے نہیں مانتے ۔ گھر والوں کا کہنا ہے ہم نے انہیں تمہارے بچپن سے زبان دی ہے ۔ اب تمہیں اسی سے شادی کرنی ہے۔ اب اس لڑکی کو کیا کرنا چاہیے ؟ رہنمائی فرمائیں ۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
[1]: دینِ اسلام نے والدین کے ذمہ اولاد کے اور اولاد کے ذمہ والدین کے حقوق مقرر فرمائے ہیں۔ ان حقوق کی ادائیگی خدا تعالیٰ کی خوشنودی اور رضا مندی کاذریعہ ہے۔ اگر کسی نے اپنے ذمہ عائد کردہ حقوق کی ادائیگی میں کوتا ہی کی تو اسی قدر اس کی پکڑ ہو گی۔ شادی بیاہ کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہے کہ اس میں اولاد کی پسند اور ناپسند کی پاسداری کرنا والدین پر لازم ہے۔ والدین کو چاہیے کہ اولاد کا رشتہ وہاں کریں جہاں اولاد راضی ہو۔ اگر کسی نے اولاد کا رشتہ کسی نامناسب جگہ پر کر دیا تو اولاد کو انکار کا حق حاصل ہے۔ اولاد اگر رشتہ کو قبول نہیں کر رہی تو والدین کو جبر کا کوئی حق نہیں۔ اس کے باوجود اگر کوئی اولاد اپنی پسند اور ناپسند پر والدین کے فیصلے کو ترجیح دے اور والدین کے کیے ہوئے رشتہ پر سر تسلیم خم کرے تو ایسی اولاد یقیناً اجر کی مستحق ہو گی۔[2]: والدین اگر کہیں رشتہ کردیں جو ان کی نظر میں مناسب معلوم ہوتا ہو تو اولاد کو چاہیے کہ والدین کے فیصلہ کو ترجیح دیں۔ کیونکہ والدین کی زندگی تجربات سے لبریز ہوتی ہے اور وہ اولاد کے لیے اسی رشتہ کا انتخاب کرتے ہیں جو اولاد کے حق میں مناسب اور موزوں ہو۔اگر کچھ خامیاں یا کوتاہیاں ہوں جو قابل برداشت ہوں تو انہیں نظر انداز کر کے والدین کے فیصلے کو ترجیح دینی چاہیے۔قوی امید ہے کہ والدین کے احترام کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس رشتہ میں پائی جانے والی کوتاہیوں کو دور فرما دے۔[3]: اگر والدین کے تجویز کردہ رشتہ میں خامیاں ہوں اور وہ ناقابل برداشت ہو تو اولاد ادب و احترام سے والدین کی خدمت میں صورتحال گوش گزار کرے۔ اگر اس کا حل نظر نہ آ رہا ہو تو اپنے با اعتماد ذرائع سے والدین کو قائل کرنے کی کوشش کرے اور انہیں اس رشتہ کے مفاسد سے آگاہ کرے۔ ان شاء اللہ اس طریقے سے والدین صحیح فیصلہ کریں گے۔مذکورہ تین باتوں کی روشنی میں اس طالبہ علم کو بات سمجھا دی جائے۔ ان شاء اللہ ان اصولی باتوں پر عمل پیرا ہونے کی صورت میں اس مسئلہ کا بہترین حل نکلے گا ان شاء اللہ۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved