- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
ایک شخص نے بالغ ہونے کے بعد ناواقفیت ، جہالت اور غفلت کی وجہ سے کئی روزے رمضان المبارک کے جان بوجھ کر توڑ دیے تھے،ان روزوں کی تعداد 25 ہے اور کفارہ 1500 روزے بنتے ہیں جو اس کے لیے بہت مشکل لگ بھگ ناممکن سا ہے، اب وہ دریافت یہ کرنا چاہ رہا ہے کہ وہ اب کیا کرے ؟ کوئی آسان صورت کفارہ کی ہو سکتی ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
تفصیل حسبِ ذیل ہے:(1) اگر ایک ہی رمضان یا مختلف رمضان کے متعدد روزے جان بوجھ کر کھانے پینے کے ذریعے سے توڑے ہوں تو ان سب کی طرف سے ایک ہی کفارہ (ساٹھ روزے لگاتار رکھنا) کافی ہو گا، ہر ہر روزہ کی طرف سے الگ الگ کفارہ ضروری نہیں۔(2) اسی طرح اگر ایک ہی رمضان کے متعدد روزے جماع کے ذریعے توڑے ہوں تو بھی سب کی طرف سے ایک ہی کفارہ کافی ہو گا۔(3) ہاں اگر جماع کے ذریعے مختلف رمضان کے روزے توڑے ہوں تب ہر رمضان کے روزوں کی طرف سے الگ الگ کفارہ واجب ہو گا۔(4) رمضان المبارک کے جتنے روزے نہ رکھے گئے ہوں خواہ بغیر عذر کے یا کسی عذر کی وجہ سے ، اسی طرح جو روزے توڑے گئے ہوں خواہ کھا پی کر یا جماع کر کے، ان تمام روزوں کے بدلے ایک ایک روزہ قضا کرنا لازم ہوتا ہے۔درج بالا تفصیل کی روشنی میں معلوم ہوتا ہے کہ سوال میں مذکور شخص پر کفارہ میں پندرہ سو روزے لازم نہیں ہوں گے، اس لیے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، بس عزم و ہمت کی ضرورت ہے۔ اس پر لازم ہے کہ مذکورہ تفصیل کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے روزہ توڑنے کا سبب متعین کر کے کفارہ کی ادائیگی یقینی بنائے، اور ان پچیس روزوں کی قضا بھی کرے۔یاد رہے کہ کفارہ کے روزوں میں تسلسل ضروری ہے، درمیان میں کوئی ایک روزہ چاہے کسی عذر کی وجہ سے چھوٹ جائے، اس سے گزشتہ تمام روزے ساقط ہو جاتے ہیں اور دوبارہ شروع سے رکھنا لازمی ہو جاتا ہے، آج کل کے دنوں میں سہولت کے ساتھ کفارہ کے روزے رکھے جا سکتے ہیں۔ اور قضا روزوں میں تسلسل ضروری نہیں، وقفے وقفے سے بھی رکھے جا سکتے ہیں۔واللہ اعلم بالصواب
© Copyright 2025, All Rights Reserved