- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
ایک شخص ایک جانور کو قربانی کے لئے متعین کرتا ہے ( کہ یہ جانور میں قربان کروں گا) ایک یا دو سال بعد اب جب قربانی کا وقت قریب آیا تو وہ شخص یہ پوچھنا چاہتا ہے کہ اب اس میں عقیقہ کے لئے کچھ حصے کر سکتا ہے یا نہیں؟ جبکہ پہلے پورے جانور پر قربانی کی نیت کی ہو۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
اس میں تفصیل یہ ہے کہ:
(1): اگر کسی غریب آدمی نے قربانی کی نیت سے بڑا جانور خریدا تو اب اس میں عقیقہ کے حصے نہیں رکھ سکتا۔ اس غریب آدمی کا یہ مکمل جانور قربانی کے لیے متعین ہو چکا ہے۔ اس میں ردوبدل کرنا اب جائز نہیں ہے۔(2): اگر کسی غریب آدمی نے قربانی کا جانور خریدا نہیں بلکہ گھر کا پالتو جانور تھا جسے اس نے قربانی کے لئے متعین کر لیا۔ اب اگر یہ شخص اس جانور میں عقیقہ کا حصہ رکھنا چاہے تو رکھ سکتا ہے کیونکہ غریب کے حق میں جانور کے متعین ہونے کے لیے ضروری ہے کہ جانور خریدتے وقت قربانی کی نیت ہو۔(3): اگر کسی امیر آدمی نے قربانی کی نیت سے بڑا جانور خریدا تو اب اس میں عقیقہ کے حصے رکھنا کراہت کے ساتھ جائز ہے کیونکہ امیر کے حق میں جانور خریدنے کی صورت میں بھی متعین نہیں ہوتا۔ تاہم حصے میں نیت تبدیل کرنا کراہت سے خالی نہیں۔(4): امیر آدمی نے جانور خریدا نہیں بلکہ جانور گھر کا پالتو تھا جسے اس نے قربانی کے لئے متعین کرلیا۔ تو اب اگر وہ اس جانور میں عقیقہ کے حصے رکھتا ہے تو یہ جائز ہے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved