- رابطہ: 00923049822051
- ای میل دارالافتاء: markazhanfi@gmail.com
استفتاء
عرض طلب یہ ہے کہ اگر قصاب اس سال کھال کا ریٹ کم لگائے تو اس صورت میں کھال کو بیچا جائے یا دفن کیا جائے؟ اگر دفن کیا جائے تو اس سے ضیاعِ مال تو لازم نہیں آئے گا جس کی بناء پر دفن کرنے والا گنہگار ہو! اور اگر اتنی کم قیمت میں قصاب کو وہ کھال دے دی جائے تو کیا مال کو اس درجہ کم قیمت میں فروخت کرنا درست ہے؟ نیز اگر کوئی بعوض کھال لینے والا نہ ہو تو کیا اس صورت میں قصاب کو کھال بغیر عوض دے دی جائے یا زمین میں دفن کر دی جائے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
(1): کھال کو دفن کرنا مال ضائع کرنا ہے، اس لیے اگر اس کا ریٹ کم بھی لگے تب بھی ضائع نہ کی جائے بلکہ کم داموں میں ہی فروخت کر دی جائے۔(2): کھال کی قیمت کم لگے تب بھی فروخت کی جائے چاہے قصاب کو فروخت کی جائے یا کسی اور کو البتہ اپنی کوشش ضرور کی جائے کہ مناسب ریٹ پر فروخت ہو۔(3): قیمت کے عوض کھال لینے والا کوئی نہ ہو تو قصاب یا کسی بھی شخص کو بلا عوض بطور ہدیہ دی جا سکتی ہے یا اپنے کسی کام میں بھی لائی جا سکتی ہے لیکن دفن کر دینا درست نہیں۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا
© Copyright 2025, All Rights Reserved