• مركز أهل السنة والجماعة
  • دارُالإفتاء أوقات: ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافھہ و واتس‌اپ 08:00 تا عصر

قومی بچت سکیم کے تحت نفع لینے کا حکم

استفتاء

قومی بچت سکیم کے تحت جو نفع ملتا ہے، اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ وہ لے سکتے ہیں یا نہیں؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

قومی بچت اسکیم میں کی جانے والی سرمایہ کاری شرعی اصولوں کے مطابق نہیں ہوتی؛ اس میں جمع کرائی گئی رقم کی حیثیت دراصل قرض کی ہوتی ہے، اور اس قرض پر جو متعین اضافہ دیا جاتا ہے وہ شرعاً سود کہلاتا ہے۔چونکہ اس پورے نظام میں نفع و نقصان کی بنیاد پر حقیقی شرکت (مشارکت یا مضاربت) نہیں پائی جاتی، بلکہ اصل سرمایہ کی ضمانت کے ساتھ مقررہ شرح سے اضافہ دیا جاتا ہے، اس لیے یہ اضافہ منافع نہیں بلکہ سود کے حکم میں داخل ہے۔لہٰذا نیشنل سیونگ میں سرمایہ کاری کرنا جائز نہیں، اور اس سے حاصل ہونے والا نفع بھی حلال نہیں ہے۔واللہ اعلم بالصوابدارالافتاءمرکز اہل السنۃ والجماعۃ سرگودھا

© Copyright 2025, All Rights Reserved